مدارس میں مین اسٹریم ایجو کیشن : دینی مدراس کاکیاہے موقف؟۔ دیکھیں ویڈیو

یو پی کے امداد یافتہ دینی مدارس کہنا ہے کہ وہ مدارس کے جدید کاری کے خلاف نہیں ہیں، تاہم حکومت کو کوئی بھی فیصلے لینے سے پہلے دینی مدارس کے ذمہ داران کواعتماد میں لیناہوگا

Jun 14, 2019 01:24 PM IST | Updated on: Jun 14, 2019 01:24 PM IST
مدارس میں مین اسٹریم ایجو کیشن : دینی مدراس کاکیاہے موقف؟۔ دیکھیں ویڈیو

علامتی تصویر

یو پی میں حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے ۔ تقریباً سبھی دینی مدارس میں اسلامی تعلیم کے علاوہ ،انگریزی ،ہندی اور کمپیوٹر کی تعلیم پہلے سے دی جا رہی ہے ۔ دینی مدارس کو ملک کی ’’مین اسٹریم ایجو کیشن ‘‘ سے جوڑے جانے اور مدراس کے نصاب میں عصری مضامین شامل کئے جانے کے حکومت کے فیصلے پر یو پی کے دینی مدارس نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یو پی کے امداد یافتہ دینی مدارس کہنا ہے کہ وہ مدارس کے جدید کاری کے خلاف نہیں ہیں، تاہم حکومت کو کوئی بھی فیصلے لینے سے پہلے دینی مدارس کے ذمہ داران کواعتماد میں لیناہوگا

یو پی میں حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے ۔ تقریباً سبھی دینی مدارس میں اسلامی تعلیم کے علاوہ ،انگریزی ،ہندی اور کمپیوٹر کی تعلیم پہلے سے دی جا رہی ہے ۔ دینی مدراس کا کہنا ہے کہ حکومت کی جدید کاری اسکیم کے تحت طلبا کو کافی فائدہ بھی پہنچ رہا ہے ۔ دینی مدارس کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جدید کاری کی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں ۔کیوں کہ ’’مدارس کی جدید کاری اسکیم ‘‘تحت سائنس ٹیچر مدارس میں طلبا کو جدید تعلیم دے رہے ہیں ۔مدارس کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے ’’ مین اسٹریم ایجو کیشن ‘‘ کی وضاحت کرنی ہوگی ۔مدارس کا یہ بھی موقف ہے کہ نصاب میں کوئی بھی تبدیلی سے پہلے دینی مدراس کے ذمہ داران کو اعتماد میں لینا ہوگا ۔نیوز18اردو کے لئے الہ آباد سے مشتاق عامر کی رپورٹ

Loading...

Loading...