உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Make In India:’میک ان انڈیا‘ کو آگے بڑھانے کے لئے مودی حکومت نے میزائل، ہیلی کاپٹر ٹینڈر منسوخ کردئیے

    Make In India:’میک ان انڈیا‘ کو آگے بڑھانے کے لئے مودی حکومت نے اُٹھایا بڑا قدم۔

    Make In India:’میک ان انڈیا‘ کو آگے بڑھانے کے لئے مودی حکومت نے اُٹھایا بڑا قدم۔

    غیر ملکی ملٹری سیلز روٹ کے تحت جنرل پرز مشین گنز جیسے سودے بھی اس فہرست میں شامل ہیں اور میزائل ڈیل کی بھی چھان بین ہونے جا رہی ہے۔ روس کے ساتھ اربوں ڈالر کے کاموو-226 ہیلی کاپٹر سودے کو بھی لسٹ میں رکھا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ’میک ان انڈیا‘ Make In India: کو فروغ دینے کے لئے نریندر مودی حکومت (Narendra Modi Government) کے دباو کے بعد وزارت دفاع (Ministry of Defence)نے کم دوری کی سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائل اور 14 ہیلی کاپٹر خریدنے سے متعلق ڈیل کے لئے ٹینڈر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے این آئی کی خبر کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ میٹنگ میں حالانکہ فرانس سے ہوا سے زمین پر مار کرنے والی میزائل خریدنے اور روسی ہیلی کاپٹرس کی مرمت کے معاہدے پر آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت دفاع نے بائے گلوبل کیٹگری کے تحت امپورٹ معاہدوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے، جو پوری طرح سے فارین وینڈرس سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

      وزارت دفاع کی طرف سے بندش اور التوا کی فہرست میں کئی سودے رکھے گئے ہیں اور وزارت نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ آیا انہیں ہندوستانی دکانداروں یا ڈویلپرز کے حق میں بند کیا جا سکتا ہے۔ فورکلوزر اور ڈیفرمنٹ لسٹ میں ویری شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم، ٹوڈ آرٹیلری گن، ورٹیکل لانچ کی گئی سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائل، شپ بورن ان مینڈ ایرئیل سسٹم، مگ-29 کامبیٹ ایئرکرافٹ کے ساتھ ایڈیشنل P-8I سرویلنس ایئرکرافٹ جیسے سودے شامل ہیں۔

      کاموو-226 ہیلی کاپٹر سودے کو بھی لسٹ میں رکھا گیا
      غیر ملکی ملٹری سیلز روٹ کے تحت جنرل پرز مشین گنز جیسے سودے بھی اس فہرست میں شامل ہیں اور میزائل ڈیل کی بھی چھان بین ہونے جا رہی ہے۔ روس کے ساتھ اربوں ڈالر کے کاموو-226 ہیلی کاپٹر سودے کو بھی لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ کاموو-31 شپ بورن ہیلی کاپٹرس کے ساتھ ساتھ کلب کلاس اینٹی شپ میزائل بھی لسٹ میں ہے۔ فہرست میں کئی کلاسیفائڈ پروجیکٹ بھی ہیں، جن پر غور کیا جائے گا۔

      وزیراعظم نریندر مودی نے سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت وزارت دفاع کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کے بعد یہ پہل کی، جہاں یہ محسوس کیا گیا یہ یقینی بنانے کے لئے مضبوط اقدام کیے جانے چاہیے کہ ملک ڈیفنس سیکٹر میں مضبوطی سے اور آتم نربھر بھارت کی جانب بڑھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: