ہوم » نیوز » وطن نامہ

پی ایم مودی نے مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پردیا آئن اسٹین چیلنج، پڑھیں تفصیل یہاں

مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر،وزیراعظم نریندر مودی نے نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ہے۔ گاندھی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے اس مضمون میں آئن اسٹین چیلنج کا بھی ذکر کیا۔

  • Share this:
پی ایم مودی نے مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پردیا آئن اسٹین چیلنج، پڑھیں تفصیل یہاں
مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر،وزیراعظم نریندر مودی نے نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ہے۔(تصویر:نیوز18)۔

مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر،وزیراعظم نریندر مودی نے نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ہے۔ گاندھی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے اس مضمون میں آئن اسٹین چیلنج کا بھی ذکر کیا۔ مودی نے کہا کہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے آنے والی نسلیں مہاتما گاندھی کے افکار کویاد رکھ سکتی ہیں۔

نیو یارک ٹائمز میں لکھے گئے ایک مضمون میں ، پی ایم مودی نے مہاتما گاندھی کے بارے میں البرٹ آئن اسٹائن کے الفاظ کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے لکھا ، 'آنے والی نسلیں یقین نہیں کریں گی کہ ہڈی کے گوشت والے افراد اس زمین پر تھے'۔ پی ایم مودی نے مزید لکھا ، 'ہم یہ کیسے یقینی بنائیں گے کہ آنے والی نسل گاندھی کو یاد رکھے گی۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور نیلسن منڈیلا کا بھی ذکر کیا ، "مارٹن ہندوستان کو ایک مذہبی مقام کی طرح سمجھتے تھے ، کیونکہ وہ گاندھی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ منڈیلا گاندھی کو ایک عظیم یودقا سمجھتے تھے جن کے پاس انسانی معاشرے میں پائے جانے والے تضادات کے مابین پل بننے کی حیرت انگیز صلاحیت موجود تھی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی مفکرین، صنعتکاروں اور ٹیکنالوجی سیکٹر کی شخصیات کو مہاتما گاندھی کے خیالات اور تعلیمات کو جدت کے ذریعہ پھیلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آدرشوں کوحاصل کرنے کے لئے سب کومتحد ہوکر کام کرنا پڑے گا تاکہ دنیا کو خوشحال بنایا جاسکے اور نفرت، تشدد اور مصائب سے آزادی حاصل کی جاسکے

پی ایم مودی نے امریکی اخبار’نيويارك ٹائمز‘میں شائع ایک مضمون میں کہا’’ہم یہ کس طرح یقینی بنائیں گے کہ آنے والی نسلیں گاندھی کے آدرشوں کو یاد رکھیں گی۔ میں عالمی مفکرین، صنعتکاروں اور ٹیکنالوجی شعبہ کی شخصیات کو مہاتما گاندھی کے خیالات اور تعلیمات کو جدت کے ذریعہ پھیلانے کی دعوت دیتا ہوں وائی انڈیا اینڈ دی ورلڈ نيڈ گاندھی کے عنوان سے شائع اس مضمون میں وزیر اعظم نے لکھا-’’آئیے ہم سب شانہ سے شانہ ملاکراپنی دنیا کو خوشحال بنائیں اور اسے نفرت، تشدد اور مصائب سے آزاد کریں۔ اس کے بعد ہی ہم مہاتما گاندھی کے پسندیدہ بھجن-’ویشنو جن توتینے کہئے‘ کے مطابق ان کے خوابوں کو پورا کر سکیں گے جس کا مطلب ہے کہ سچا انسان وہی ہے جو دوسروں کے دکھ کوسمجھتاہے، دكھيوں کی مدد کرتا ہے اور کبھی غرورنہیں کرتا‘‘۔انہوں نے کہا کہ گاندھی جی دنیابھر کے لاکھوں افراد کو ہمت دیتے ہیں۔ان کےمزاحمت کے طریق کار نے کئی افریقی ممالک کو امید کی کرن دکھائی۔ پی ایم مودی نے لکھا کہ کیسے نیلسن منڈیلا اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جیسی شخصیتوں نے مہاتما گادنھی کی زندگی، اصولوں اور تعلیمات سے ترغیب لی۔منڈیلا گاندھی جی کو ہندستانی اور جنوبی افریقی دونوں مانتے تھے۔ گاندھی جی نے ثابت کیا تھا کہ ان میں انسانی معاشرے کے سب سے بڑے تضادات کے مابین پل بننے کی صلاحیت موجود تھی۔وزیراعظم نے لکھا کہ ’مہاتما گاندھی نے 1952میں ’ینگ انڈیا‘ میں لکھا تھا کہ کسی بھی شخص کے لئے قوم پرست ہوئے بغیر بین الاقوامی ہوناممکن نہیں ہے۔ بین الاقوامیت اسی وقت ممکن ہوگی جب قوم پرستی حقیقت بنائے اور مختلف ممالک کے لوگ متحد ہوکر ایک شخص کی طرح کام کرنے کے قابل ہوں گے۔ اس آرٹیکل میں وزیراعظم نے لکھا ہے کہ مہاتما گاندھی کی قوم پرستی تنگ نہیں تھی بلکہ انسانیت کی خدمت کے لئے تھی۔انہوں نے لکھا کہ باپو سے غریبوں کے لئے کام کرنے کی ترغیب ملی۔ انہوں نے کہاکہ گاندھی جی ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں معاشرہ کے ہر طبقہ کا اعتماد حاصل تھا۔ ان کی پیدائش خواہ ہندستان میں ہوئی ہو لیکن ان کے خیالات کا ثر پوری دنیا میں نظر آتا ہے۔
First published: Oct 02, 2019 05:24 PM IST