உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Modi@8:مودی حکومت کی پالیسیوں سے گھوٹالہ بازوں اور اقتصادی مجرموں میں خوف

    وزیر اعظم نریندر مودی

    وزیر اعظم نریندر مودی

    گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران، سی بی آئی یا ای ڈی میں سے کسی نے بھی جانچ ایجنسی کے خلاف کوئی سنگین الزام نہیں لگایا ہے۔ تاہم، کسی ملزم کی گرفتاری یا چھاپے کے دوران، کچھ الزامات اور جوابی الزامات ضرور لگائے جاتے ہیں۔ لیکن وہ بے بنیاد ثابت ہوئے۔

    • Share this:
      Modi@8:گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا ایک نیا چہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے سربراہوں کو یہ پیغام پہلے ہی باضابطہ طور پر دے دیا گیا تھا کہ ملک کے اندر کسی بھی بڑے گھوٹالے کے خلاف کارروائی میں کوئی تاخیر یا لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے جو ملک کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں اور جو کالا دھن جمع کرکے منی لانڈرنگ جیسے معاملات کو انجام دیتے ہیں یا جو سرکاری اہلکار ہیں عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ان معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تفتیشی ایجنسیوں نے ان تمام لوگوں اور کمپنیوں کے خلاف مناسب اور بڑی کارروائی کی ہے۔

      مودی حکومت کا نعرہ’نہ کھائیں گے، نہ کھانے دیں گے‘
      نریندر مودی حکومت کی طرف سے پورے ملک کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہم بدعنوانی کے معاملے پر زیرو ٹالرنس ہیں۔ کرپٹ کوئی بھی ہو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ اسی بنا پر تفتیشی ایجنسیاں بھی غیر جانبداری سے کام کرتی رہیں۔ حالانکہ پہلے بھی تحقیقاتی ایجنسیاں غیر جانبداری سے کام کرتی تھیں لیکن الزام لگایا گیا کہ ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی حکومت کا طوطا ہے، یہ حکومت کے کہنے پر کام کرتی ہے۔ ایک الزام تھا کہ سی بی آئی کا انتظام سیاسی گلیاروں سے ہوتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Modi@8:وزیراعظم مودی کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے والی 8 ہستیاں

      یہ بھی پڑھیں:
      Drone Festival Delhi:وزیراعظم مودی نے کہا-2030 تک ہندوستان بن جائے گا’ڈرون ہب‘

      لیکن گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران، سی بی آئی یا ای ڈی میں سے کسی نے بھی جانچ ایجنسی کے خلاف کوئی سنگین الزام نہیں لگایا ہے۔ تاہم، کسی ملزم کی گرفتاری یا چھاپے کے دوران، کچھ الزامات اور جوابی الزامات ضرور لگائے جاتے ہیں۔ لیکن وہ بے بنیاد ثابت ہوئے۔ کیونکہ اسی چھاپے کے دوران ملزمان سے کروڑوں روپے کی غیر قانونی نقدی اور کافی ثبوت ملے تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: