ہوم » نیوز » وطن نامہ

محمد ابراہیم خان، ایم آئی ایم بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف، مجلس کے مرکزی دفتر حیدرآباد سے ہوئی کارروائی

مجلس اتحاد المسلمین نے محمد ابراہیم کو پارٹی کے بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف کردیاہ ے۔ پارٹی سے جاری کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ محمد ابراہیم کو 29 اگست 2020 سے بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے۔

  • Share this:
محمد ابراہیم خان، ایم آئی ایم بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف، مجلس کے مرکزی دفتر حیدرآباد سے ہوئی کارروائی
محمد ابراہیم ،ایم آئی ایم بنگلورو ضلع کے صدر کے عہدے سے برطرف

بنگلورو: مجلس اتحاد المسلمین نے محمد ابراہیم کو پارٹی کے بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ پارٹی سے جاری کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ محمد ابراہیم کو 29 اگست 2020 سے بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی محمد ابراہیم کی بطور AIMIM بنگلورو صدر، پانچ سالہ خدمات کی بھی دل کی گہرائیوں سے پارٹی قدر کرتی ہے۔ اس برخاستگی کے بعد نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے محمد ابراہیم نے کہا کہ انہیں خوشی بھی ہوئی ہے اور دکھ بھی۔ محمد ابراہیم نے کہا کہ پارٹی نے ان کی پانچ سالہ خدمات کا اعتراف کیا ہے اس کیلئے انہیں خوشی ہوئی ہے, لیکن برطرف کرنے کا پارٹی کا قدم درست نہیں ہے۔


محمد ابراہیم کو 29 اگست 2020 سے بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی محمد ابراہیم کی بطور AIMIM بنگلورو صدر، پانچ سالہ خدمات کی بھی دل کی گہرائیوں سے پارٹی قدر کرتی ہے۔
محمد ابراہیم کو 29 اگست 2020 سے بنگلورو ضلع صدر کے عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی محمد ابراہیم کی بطور AIMIM بنگلورو صدر، پانچ سالہ خدمات کی بھی دل کی گہرائیوں سے پارٹی قدر کرتی ہے۔


محمد ابراہیم نے کہا کہ وہ خود پارٹی کو استعفی دینے والے تھے، اچانک کی گئی کارروائی سے انہیں تکلیف ضرور ہوئی ہے۔ محمد ابراہیم نے کہا کہ بنگلورو جہاں 28 اسمبلی حلقہ موجود ہیں، ایم آئی ایم پارٹی کا کوئی Base یہاں نہیں تھا، انہوں نے پارٹی کو متعارف کروانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ گزشتہ بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے  (BBMP ) کے انتخابات میں شہر کے 20 سے زائد وارڈوں میں ایم آئی ایم نے اپنے  امیدوار کھڑے کئے تھے۔ اس الیکشن میں کامیابی نہیں ملی لیکن پارٹی کی آمد سے دیگر پارٹیاں پریشان ہوگئیں تھی۔ محمد ابراہیم نے کہا کہ بی جے پی کا ڈر اور خوف بتا کر کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے مسلم لیڈروں نے یہاں ایم آئی ایم کو آگے بڑھنے نہیں دیا ہے۔


محمد ابراہیم نے کہا کہ پانچ سالہ معیاد کے دوران ان کے خلاف کوئی بھی الزام عائد نہیں ہوا، اس لئے پارٹی نے انہیں عہدے سے ہٹاتے ہوئے ان کی خدمات کا بھی اعتراف کیا ہے۔
محمد ابراہیم نے کہا کہ پانچ سالہ معیاد کے دوران ان کے خلاف کوئی بھی الزام عائد نہیں ہوا، اس لئے پارٹی نے انہیں عہدے سے ہٹاتے ہوئے ان کی خدمات کا بھی اعتراف کیا ہے۔


محمد ابراہیم نے کہا کہ پانچ سالہ معیاد کے دوران ان کے خلاف کوئی بھی الزام عائد نہیں ہوا، اس لئے پارٹی نے انہیں عہدے سے ہٹاتے ہوئے ان کی خدمات کا بھی اعتراف کیا ہے۔ محمد ابراہیم نے کہا کہ انہیں پارٹی سے عزت ملی ہے، عہدے سے  برطرف کرنا کیا رسوائی نہیں ہے؟ اس سوال پر محمد ابراہیم نے کہا عوام اس بات کا جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی کیلئے کتنی خدمات انجام دی ہیں۔ محمد ابراہیم نے کہا کہ پارٹی سے بڑھ کر وہ عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔



محمد ابراہیم نے پارٹی کے سربراہ اسدالدین اویسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں ان پر بھروسہ کرتے ہوئے پارٹی میں پانچ سال تک ایک اہم ذمہ داری سونپی تھی۔ دوسری جانب ایم آئی ایم کرناٹک کے ریاستی صدر عثمان غنی نے کہا کہ انکے علم میں اس بات کو لائے بغیر پارٹی کے مرکزی دفتر، حیدرآباد سے محمد ابراہیم کو عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ عثمان غنی نے کہا کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے ریاست میں مجلس اتحادالمسلمین کی کوئی سرگرمیاں نہیں ہوئی ہیں لیکن ریاست کے 10 سے زائد اضلاع میں پارٹی کے یونٹ موجود ہیں۔ گلبرگہ، بیدر، رائچور، وجئےپور، بلگام، باگل کوٹ، کپل، بلاری، دھارواڈ، شیومگہ اور ٹمکور اضلاع میں پارٹی کے ڈسٹرکٹ پریسیڈنٹ اور عہدیدار  موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی آئندہ کے اسمبلی انتخابات کیلئے ریاست کے 4 سے 5 اسمبلی حلقوں میں سرگرمی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے امیدوار کھڑے کریگی۔  عثمان غنی نے کہا کہ مسلم اور دلت طبقوں کو متحد کرتے ہوئے انکے حقوق کیلئے آواز اٹھانا پارٹی کی کوشش ہوگی۔ عثمان غنی نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ اسدالدین اویسی نے "جئے میم۔ جئے بھیم" کا نعرہ دیا ہے۔ اس نعرے کے ساتھ پارٹی منتخب اسمبلی حلقوں میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریاں کریگی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 31, 2020 11:58 PM IST