ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکز ابوالکلام اور جامعہ اسلامیہ سنابل کی مساجد ابھی نہیں کھولی جائیں گی، محمد رحمانی مدنی نے کیا اعلان

مرکز ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی مدنی نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے پھیلنے کے گراف کی تیزی کے ان ایام میں ہمیں مزید صبر سے کام لینا چاہئے اور فی الحال مساجد کے بجائے گھروں ہی پر نمازوں کا اہتمام کرنا چاہئے۔

  • Share this:
مرکز ابوالکلام اور جامعہ اسلامیہ سنابل کی مساجد ابھی نہیں کھولی جائیں گی، محمد رحمانی مدنی نے کیا اعلان
جامعہ اسلامیہ سنابل کی مساجد ابھی نہیں کھلیں گی، محمد رحمانی مدنی نے کیا اعلان

نئی دہلی: ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر و رئیس جامعہ اسلامیہ سنابل مولانا محمد رحمانی مدنی نے کورونا وائرس (کووڈ-19) کے درمیان عوام کے لئے اطلاع جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز ابوالکلام آزاد اسلامک سینٹر اور جامعہ اسلامیہ سنابل کے ماتحت مساجد میں شرعی گنجائش کے نتیجہ میں ابھی باجماعت نماز نہیں ادا کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے 8 جون کو عبادت گاہوں کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔


مولانا محمد رحمانی نے اپنے کالم میں لکھا ’دن بدن اموات کے اضافہ اور وائرس کے خطرات کے بڑھنے کی صورت میں وطن عزیز کے تمام باشندگان کو تحفظ صحت کا مکمل خیال رکھنا چاہئے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر کسی موقع سےجان اور مال کے تحفظ تک نوبت پہنچ جائے تو اپنی جان اور مال کو تحفظ فراہم کرنا واجب اور فرض ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے ایک شخص کو فساد پھیلانے کے لئے بلا سبب قتل کرنے کے جرم کو پوری انسانیت کے قتل کا مجرم قرار دیا ہے (سورۂ مائدہ ۳۲) اور جان ہی کے تحفظ کے لئے قتل عمد پر سخت وعید کے ساتھ قتل کے بدلہ قتل یا بھاری جرمانہ اور دیت بھی متعین فرمائی ہے۔ نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مار دیا جائے وہ شہید ہے’۔ (سنن ابوداؤد اورترمذي)

مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے مزید کہا کہ موجودہ وقت میں کورونا کے تیزی سے پھیلنے اور اس کے بالخصوص دہلی میں اور بڑی آبادیوں میں ڈرانے والے آنکڑوں تک پہونچ جانے نیز ایک تخمینہ کے مطابق جولائی کے اخیر تک صرف دہلی میں اس کے مریضوں کی تعداد 6 لاکھ کے قریب تک پہنچ جانے کے خدشہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب اس کے بعد یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر جانے سے ہماری جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور بیماری میں مبتلا ہونے سے علاج اور دوسری ضروریات کو سامنے رکھا جائے تو ہمارے مال پر بھی خطرہ منڈلاتا نظر آتا ہے کیونکہ اس بیماری میں عموماً اس کا علاج ناپید ہے۔


محمد رحمانی مدنی نے کہا ہے کہ شرعی گنجائش کے پیش نظر ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر اور جامعہ اسلامیہ سنابل کے ماتحت مساجد کو نہیں کھولا گیا ہے اور آئندہ اطلاع تک یہ بند رہیں گی۔
محمد رحمانی مدنی نے کہا ہے کہ شرعی گنجائش کے پیش نظر ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر اور جامعہ اسلامیہ سنابل کے ماتحت مساجد کو نہیں کھولا گیا ہے اور آئندہ اطلاع تک یہ بند رہیں گی۔


محمد رحمانی نے قرآنی آیات کے حوالے سے لکھا، کورونا کی رفتار کے مد نظر مساجد میں جمعہ و جماعت کا مسئلہ بھی جان اور مال کے تحفظ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے“فاتقوا اللہ ما استطعتم“ (سورۂ تغابن ۱۶) اللہ سے اپنی طاقت بھر ڈرو، اللہ رب العالمین کا ایک جگہ فرمان ہے “ولا تلقوا بأیدیکم إلی التہلکة " (البقرة ١٩٥) اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو، اس وقت مساجد میں حاضری اور مسلمانوں کا بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر بے ضابطہ ہو جانے کا عادی ہونا یقیناً وبا کے پھیلنے کےخطرہ کو بڑھا دیتا ہے، اس وجہ سے مذکورہ آیت کریمہ کی روشنی میں ہمیں اپنی طاقت بھر جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے نمازوں کا اہتمام اپنے گھروں ہی میں حسب سابق جاری رکھنا چاہئے۔ یہی حکمت کا تقاضہ بھی ہے اور ان شبہات پر اطمینان حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔

مولانا محمد رحمانی مدنی نے  اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے پھیلنے کے گراف کی تیزی کے ان ایام میں ہمیں مزید صبر سے کام لینا چاہئے اور فی الحال مساجد کے بجائے گھروں ہی پر نمازوں کا اہتمام کرنا چاہئے۔ نیز اللہ رب العالمین کو راضی کرنے کی بھرپور سعی کرنی چاہئے اور ماضی کی زندگی کی کوتاہیوں، ظلم وجور سے توبہ اور دین کی طرف رجوع کرنے اور حلال وحرام کی تمیز کرکے حلال پر اکتفا کرنے کی فکر کرنے کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔

 
First published: Jun 11, 2020 09:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading