உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     بڑی خبر: پٹیالہ ہاوس کورٹ نے صحافی محمد زبیر کو 4 دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیجا

    Delhi Police: دہلی پولیس کی طرف سے عدالت میں کہا گیا ہے کہ محمد زبیر نے قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا، جس ٹوئٹ کی جانچ پر دہلی پولیس نے ان کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ صرف محمد زبیر ہی نہیں بلکہ کئی سارے لوگوں نے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا تھا اور اپنے اپنے انداز میں اس پر چٹکی بھی لی تھی، لیکن گرفتار صرف محمد زبیر کو ہی کیا گیا۔ 

    Delhi Police: دہلی پولیس کی طرف سے عدالت میں کہا گیا ہے کہ محمد زبیر نے قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا، جس ٹوئٹ کی جانچ پر دہلی پولیس نے ان کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ صرف محمد زبیر ہی نہیں بلکہ کئی سارے لوگوں نے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا تھا اور اپنے اپنے انداز میں اس پر چٹکی بھی لی تھی، لیکن گرفتار صرف محمد زبیر کو ہی کیا گیا۔ 

    Delhi Police: دہلی پولیس کی طرف سے عدالت میں کہا گیا ہے کہ محمد زبیر نے قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا، جس ٹوئٹ کی جانچ پر دہلی پولیس نے ان کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ صرف محمد زبیر ہی نہیں بلکہ کئی سارے لوگوں نے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا تھا اور اپنے اپنے انداز میں اس پر چٹکی بھی لی تھی، لیکن گرفتار صرف محمد زبیر کو ہی کیا گیا۔ 

    • Share this:
      نئی دہلی: آلٹ نیوز کے شریک بانی اور سینئر صحافی محمد زبیرکو منگل کو پٹیالہ ہاوس کورٹ میں پیش کیا گیا۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ کی چیف میٹرو پولیٹن مجسٹر سنگدھا سرواریا کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس دوران دہلی پولیس نے عدالت سے پانچ دنوں کے لئے محمد زبیر کی حراست کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم عدالت نے محمد زبیر کو 4 دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم دیا۔ دراصل، ایک طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں دہلی پولیس نے پیر کو اسے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد اسے پہلے ایک دن کے لئے پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا۔

      دہلی پولیس کی طرف سے عدالت میں کہا گیا ہے کہ محمد زبیر نے قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا تھا، جس ٹوئٹ کی جانچ پر دہلی پولیس نے ان کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ صرف محمد زبیر ہی نہیں بلکہ کئی سارے لوگوں نے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا تھا اور اپنے اپنے انداز میں اس پر چٹکی بھی لی تھی۔ لیکن گرفتار صرف محمد زبیر کو ہی کیا گیا۔ ورندا گروور نے کہا کہ دہلی پولیس صرف محمد زبیر کو پریشان کر رہی ہے۔

      دہلی پولیس نے کہا کہ آج کل ٹوئٹر پر ٹرینڈ چل رہا ہے۔ اپنے فالور کو بڑھانے کے لئے کسی طبقے کو ٹارگیٹ کرکے قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ محمد زبیر کا کام صرف مذہبی اور متنازعہ تبصرہ کو ٹوئٹ کرنا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ محمد زبیر جانچ میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ ہم نے وہ لیپ ٹاپ بھی ریکور کیا ہے، جس سے ٹوئٹ کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے محمد زبیر کی 5 دن کی ریمانڈ مانگی تھی، لیکن عدالت نے 4 دن کی ریمانڈ دی ہے۔

      وہیں دہلی پولیس کے وکیل نے محمد زبیر کو پٹیالہ ہاوس کورٹ کے چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسے گرفتار کرلیا ہے، کیونکہ وہ جانچ کے دوران تعاون نہیں کر رہا تھا۔ جب وہ جانچ میں شامل ہوا تو اس کے فون سے سبھی ایپ ہٹا دیئے گئے تھے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: