உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     محمد زبیر کی پولیس ریمانڈ پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو جاری کیا نوٹس، 4 ہفتے میں مانگا جواب

    Alt News Co-Founder Mohammed Zubair: آلٹ نیوز کے کو فاونڈر محمد زبیر کے 4 دنوں کے پولیس ریمانڈ کو چیلنج دینے والی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے 4 ہفتے کے اندر جواب مانگا ہے۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس نے 28 جون کو محمد زبیر کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے چار دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔

    Alt News Co-Founder Mohammed Zubair: آلٹ نیوز کے کو فاونڈر محمد زبیر کے 4 دنوں کے پولیس ریمانڈ کو چیلنج دینے والی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے 4 ہفتے کے اندر جواب مانگا ہے۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس نے 28 جون کو محمد زبیر کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے چار دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔

    Alt News Co-Founder Mohammed Zubair: آلٹ نیوز کے کو فاونڈر محمد زبیر کے 4 دنوں کے پولیس ریمانڈ کو چیلنج دینے والی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے 4 ہفتے کے اندر جواب مانگا ہے۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس نے 28 جون کو محمد زبیر کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے چار دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آلٹ نیوز کے شریک مالک محمد زبیر کے 4  دنوں کے پولیس ریمانڈ کو چیلنج دینے والی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے 4 ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ محمد زبیر نے پولیس ریکارڈ کو چیلنج دیتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جس پر آج دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ہے۔ معاملہ 2018 کا ہے، دہلی پولیس نے معاملے میں اب کارروائی کی ہے۔ محمد زبیر کے وکیل ورندا گروور نے پولیس ریمانڈ کی مخالفت کی اور معاملے کو کم اہمیت والا بتایا۔

      دہلی پولیس کے ذریعہ محمد زبیر کو بنگلورو لے جانے پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ برباد کرنے کا کیا مطلب ہے، جبکہ یہ اتنا اہم معاملہ نہیں ہے۔ ورندا گروور نے عدالت سے کہا کہ ہم پولیس ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس نے 28 جون کو محمد زبیر کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد عدالت نے چار دن کی پولیس ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جو کل ختم ہو رہا ہے۔

      کیا ہے پورا معاملہ

      دہلی پولیس نے محمد زبیر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153 اے (مذہب، ذات پات، جائے پیدائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان عداوت کو فروغ دینا) اور 295 اے (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں کرنا) کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد محمد زبیر کو گرفتار کرکے دیر رات پٹیالہ ہاوس کے ڈیوٹی مجسٹریٹ اجے نروال کے براڑی واقع رہائش گاہ پر پیش کیا گیا۔ دہلی پولیس نے اس سال جون میں ایک ٹوئٹر ہینڈل سے شکایت ملنے کے بعد محمد زبیر کے خلاف کیس درج کرکے گرفتار کیا ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ محمد زبیر نے جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے ارادے سے ایک مشتبہ تصویر ٹوئٹ کی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: