உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی ہائی کورٹ میں 90 ہزار سے زیادہ مقدمات پینڈنگ ، 60 میں سے 29 ججوں کی آسامیاں خالی

    دہلی ہائی کورٹ میں 90 ہزار سے زیادہ مقدمات پینڈنگ ، 60 میں سے 29 ججوں کی آسامیاں خالی

    دہلی ہائی کورٹ میں 90 ہزار سے زیادہ مقدمات پینڈنگ ، 60 میں سے 29 ججوں کی آسامیاں خالی

    دہلی بار کونسل (Bar Council of Delhi) کے و ائس چیئرمین ایڈوکیٹ حمال اختر (Jamal Akhtar) نے دہلی ہائی کورٹ (Delhi High Court) میں ججوں کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لئے چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب ارسال کیا ہے ۔ چیف جسٹس کو ارسال کردہ مکتوب میں دہلی ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں کو لیکر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دہلی بار کونسل (Bar Council of Delhi) کے و ائس چیئرمین ایڈوکیٹ حمال اختر (Jamal Akhtar) نے دہلی ہائی کورٹ (Delhi High Court) میں ججوں کی خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لئے چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب ارسال کیا ہے ۔ چیف جسٹس کو ارسال کردہ مکتوب میں دہلی ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں کو لیکر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ دہلی بار کونسل کے وائس چیئرمین حمال اختر نے چیف جسٹس آف انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں اس وقت 90,989کیس پینڈنگ ہیں جبکہ دہلی میں اس وقت آبادی تین کروڑسے تجاوز کرچکی ہے۔ ایڈوکیٹ حمال اختر نے آگے لکھا کہ دہلی ہائی کورٹ میں ججوں کے کل 60 عہدے ہیں جن میں سے 31 عہدوں پر جج صاحبان کام کر رہے  ہیں جبکہ باقی 29عہدے خالی ہیں۔ یہ اعداد وشمار 2020تک ہیں۔

    انہوں نے آگے کہا کہ دہلی کی بڑھتی آبادی کے مقابلے ہائی کورٹ میں ججوں کی موجودہ تعداد کیسوں کے پینڈنگ ہونے کی بنیادی وجہ ہے اور یہ تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپیلوں کو لسٹ پر آنے میں دس دس سال کا طویل عرصہ لگ رہا ہے جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایڈوکیٹ حمال اختر نے آگے کہ ہمیں آپ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں کیونکہ آپ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ججوں کی تقرری کو لیکر کالیجیم کی فعالیت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ ججوں کی تقرری میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔اس لیئے ہماری آپ سے درخواست ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے ۔

    حمال اختر نے آگے لکھا کہ اگرچہ ”آپ اور کالیجیم کے دیگر جج صاحبان اس سمت میں پہلے ہی سے کافی کوشش کر رہے ہیں“ ۔ دہلی بار کونسل کے وائس چیئرمین حمال اختر نے وزیر قانون کے ذریعہ حال میں راجیہ سبھا میں پیش کئے گئے ججوں کے تعلق سے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آبادی کے تناسب میں ججوں کی تقرری کے معاملہ میں ہمارا ملک سب سے نچلے پائیدان پر آنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ ہمارے ملک میں آبادی کے تناسب میں 21.03 فی ملین جج ہیں جبکہ چائنا میں یہی تناسب 300 فی ملین اور امریکہ میں 150 فی ملین ہے۔

    حمال اختر نے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہوئے آگے لکھا کہ آپ ججوں کی تقرری کے لئے پہلے ہی بہت سے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ تاہم ججوں کی تقرری میں اضافہ کے لئے کوئی ایسا میکانزم بنانے پر غور کریں ، جس سے جلد سے ججوں کے مقررہ عہدوں کو پر کیا جاسکے اور عدلیہ پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہو۔

    ایڈوکیٹ حمال اختر نے یہ مکتوب چیف جسٹس آف انڈیا کو ارسال کیا ہے جبکہ اس کی کاپی دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، مرکزی وزیر قانون اور وزیر اعلی دہلی اروند کیجریوال کو بھی ارسال کی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: