உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Motilal Nehru Death Anniversary: کیا تھا موتی لال نہرو کا ’آئین‘ سے رشتہ

    سوراج کا مطالبہ 1920 کی دہائی میں کانگریس میں جاری نہرو رپورٹ(Nehru Report) میں کیا گیا تھا۔ اسے اس وقت ملک کے پہلے آئین کی طرح بھی دیکھا جاتا تھا۔ آج موتی لال نہرو کی برسی(Motilal Nehru Death Anniversary) ہے، جنہوں نے یہ رپورٹ بنائی تھی۔

    سوراج کا مطالبہ 1920 کی دہائی میں کانگریس میں جاری نہرو رپورٹ(Nehru Report) میں کیا گیا تھا۔ اسے اس وقت ملک کے پہلے آئین کی طرح بھی دیکھا جاتا تھا۔ آج موتی لال نہرو کی برسی(Motilal Nehru Death Anniversary) ہے، جنہوں نے یہ رپورٹ بنائی تھی۔

    سوراج کا مطالبہ 1920 کی دہائی میں کانگریس میں جاری نہرو رپورٹ(Nehru Report) میں کیا گیا تھا۔ اسے اس وقت ملک کے پہلے آئین کی طرح بھی دیکھا جاتا تھا۔ آج موتی لال نہرو کی برسی(Motilal Nehru Death Anniversary) ہے، جنہوں نے یہ رپورٹ بنائی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی:ہندوستان کے آئین (Constitution of India) پوری دنیا میں ایک بڑی مثال ہے۔ 1940 کی دہائی میں جب ملک کی آزادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، تب ملک کا آئین بنانے کی بھی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ اس کے لیے ایک مخصوص دستور ساز اسمبلی کے انتخابات بھی ہوئے۔ لیکن آئین کے بنیادی عناصر کا تصور تحریک آزادی کے دوران بہت پہلے پڑ گئی۔ سوراج کا مطالبہ 1920 کی دہائی میں کانگریس میں جاری نہرو رپورٹ(Nehru Report) میں کیا گیا تھا۔ اسے اس وقت ملک کے پہلے آئین کی طرح بھی دیکھا جاتا تھا۔ آج موتی لال نہرو کی برسی(Motilal Nehru Death Anniversary) ہے، جنہوں نے یہ رپورٹ بنائی تھی۔

      خاندان کی جدوجہد کے وقت ہوئی پیدائش
      موتی لال نہرو 6 مئی 1861 کو الہ آباد (موجودہ پریاگ راج) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پیدائش کے تین مہینوں کے اندر ان کے والد گنگادھر نہرو کا انتقال ہو گیا جو دہلی میں کوتوال تھے۔ ان کا بچپن راجستھان کے کھیتری میں گزرا جہاں ان کے بڑے بھائی نند لال نہرو کلرک تھے۔ ان کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے والد کو 1857 کے انقلاب میں دہلی چھوڑنا پڑا۔

      وکالت میں شہرت
      بھائی نند لال نے وقت کے ساتھ ترقی کی اور موتی لال کو قانون کی تعلیم کے لیے کیمبرج بھیج دیا۔ موتی لال واپس آئے اور پہلے کانپور میں پریکٹس کی اور پھر الہ آباد ہائی کورٹ میں دیوانی مقدمات لڑنے لگے۔ انہوں نے الہ آباد میں بہت نام اور پیسہ کمایا۔ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑے اور امیر ترین وکیل سمجھے جاتے تھے۔ ان کی شہرت نے انہیں آہستہ آہستہ سیاست میں کھینچ لیا۔

      موتی لال نہرو کو ہندوستان کا امیر ترین وکیل سمجھا جاتا تھا۔ (تصویر: Wikimedia Commons)
      موتی لال نہرو کو ہندوستان کا امیر ترین وکیل سمجھا جاتا تھا۔ (تصویر: Wikimedia Commons)


      گاندھی جی کا اثر
      موتی لال نہرو کی زندگی میں تبدیلی 1918 میں اس وقت آئی جب وہ گاندھی جی کے ساتھ رابطے میں آئے۔ وہ پہلے ہی انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہو چکے تھے، گاندھی جی سے ملاقات کے بعد انہوں نے عیش و عشرت کی زندگی کو چھوڑ کر سادہ زندگی اختیار کی۔ اس کے بعد وہ 1919 میں کانگریس کے صدر بھی بنے۔

      تحریک عدم تعاون اور کانگریس سے علیحدگی
      1922 میں موتی لال کو عدم تعاون کی تحریک میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا، لیکن جب گاندھی جی نے تحریک منسوخ کر دی تو انہوں نے کھل کر گاندھی جی پر تنقید کی۔ تحریک کے بعد انہوں نے سوراج پارٹی کی بنیاد رکھی اور متحدہ صوبوں کی قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر بھی بن گئے۔

      آزادی کا مطالبہ اور کانگریس میں واپسی
      موتی لال نہرو نے 1926 میں ہی ڈیلیگیٹس کانفرنس بلائی تاکہ ہندوستان کو سوراج یا ڈومینین کا درجہ دینے کا مسودہ تیار کیا جا سکے۔ اس کے بعد نہرو اور ان کے ساتھیوں نے اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا اور کانگریس میں واپس آگئے۔ اس کے بعد 1928 میں نہرو کو ایک بار پھر کانگریس کا صدر بنایا گیا۔

      ہندوستانیوں کا پہلا آئین
      موتی لال نہرو کی صدارت کے دوران وہ سائمن کمیشن کے خلاف بنائے گئے مشہور نہرو کمیشن کے چیئرمین بنے۔ نہرو رپورٹ کو ہندوستانیوں کا لکھا ہوا پہلا آئین سمجھا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں نہرو نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کی طرح ہندوستان کے لیے ڈومینین اسٹیٹس کا مطالبہ کیا تھا۔

      دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کو کانگریس نے قبول کیا تھا، لیکن بہت سے قوم پرست رہنماؤں نے اسے مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ ہندوستانیوں کو مکمل آزادی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ان لیڈروں میں موتی لال نہرو کے بیٹے جواہر لال نہرو بھی شامل تھے۔ گاندھی جی نے بھی اس رپورٹ کو اس شرط پر منظوری دی تھی کہ اگر ایک سال میں اس پر عمل نہ کیا گیا تو ملک مکمل آزادی کا مطالبہ کرے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد موتی لال نہرو نے گاندھی کے نمک ستیہ گرہ میں حصہ لیا اور جیل بھی گئے۔ لیکن صحت کی خرابی کے باعث انہیں رہا کر دیا گیا۔ ان کا انتقال 6 جنوری 1931 کو ہوا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: