پروموشن میں ریزرویشن غیر قانونی، ایم پی حکومت سپریم کورٹ میں کرے گی اپیل : ہائی کورٹ

جبل پور۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سرکاری محکموں میں پروموشن میں ریزرویشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

May 01, 2016 11:59 AM IST | Updated on: May 01, 2016 11:59 AM IST
پروموشن میں ریزرویشن غیر قانونی، ایم پی حکومت سپریم کورٹ میں کرے گی اپیل : ہائی کورٹ

جبل پور۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سرکاری محکموں میں پروموشن میں ریزرویشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے شیڈولڈ کاسٹ شیڈولڈ ٹرائب زمرہ کو پروموشن میں ریزرویشن دینے کے سلسلے میں سال 2002 میں بنائے گئے ضابطہ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرا ر دے دیا ۔ا س فیصلے سے ریاست میں 2002سے اب تک ہوئی تقریباً ساٹھ ہزار پروموشن رد ہوجائیں گی۔

چیف جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس سنجے یادو کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ۔ بنچ نے کہا کہ یہ ضابطہ ہندوستانی آئین کی دفعہ 16 اور 335 کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے ذریعہ ایم ناگراج معاملے میں دی گئی ہدایت کے خلاف ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش پبلک سروس پروموشن آرڈر 2002 کے اس سے متعلق التزامات کو مسترد کردیا ۔ یہ ضابطہ سرکاری محملوں کے تمام عہدوں کے لئے ایس سی ، ایس ٹی ملازمین کے پروموشن سے متعلق تھا۔ فیصلے میں اس ضابطہ کے تحت کی گئی پروموشن کو بھی ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا ہے ۔

وہیں، وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سرکاری سروسیزمیں پروموشن میں ریزرویشن کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروموشن میں ریزرویشن ختم ہونے کے سلسلے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ جبل پور کی طرف سے جو فیصلہ دیا گیا ہے، اس کے خلاف ریاستی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔

Loading...

Loading...