உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP بلدیاتی انتخابات: ایم آئی ایم اور عام آدمی پارٹی نے کیا بڑا پھیربدل

    مدھیہ پردیش بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین اور عام آدمی پارٹی کے ذریعہ بڑا پھیر بدل کرنے سے سیاسی پنڈتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی صوبہ کی سیاست میں مضبوطی کے ساتھ آمدسے نہ صرف کئی مقامات پر کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایم آئی ایم کے 6 کونسلر بھی کامیابی کے ساتھ مدھیہ پردیش کی سیاست میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔

    مدھیہ پردیش بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین اور عام آدمی پارٹی کے ذریعہ بڑا پھیر بدل کرنے سے سیاسی پنڈتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی صوبہ کی سیاست میں مضبوطی کے ساتھ آمدسے نہ صرف کئی مقامات پر کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایم آئی ایم کے 6 کونسلر بھی کامیابی کے ساتھ مدھیہ پردیش کی سیاست میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔

    مدھیہ پردیش بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین اور عام آدمی پارٹی کے ذریعہ بڑا پھیر بدل کرنے سے سیاسی پنڈتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی صوبہ کی سیاست میں مضبوطی کے ساتھ آمدسے نہ صرف کئی مقامات پر کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایم آئی ایم کے 6 کونسلر بھی کامیابی کے ساتھ مدھیہ پردیش کی سیاست میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین اور عام آدمی پارٹی کے ذریعہ بڑا پھیر بدل کرنے سے سیاسی پنڈتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی صوبہ کی سیاست میں مضبوطی کے ساتھ آمدسے نہ صرف کئی مقامات پر کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایم آئی ایم کے 6 کونسلر بھی کامیابی کے ساتھ مدھیہ پردیش کی سیاست میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔

    اے آئی ایم آئی ایم میئر کے عہدے پر کامیابی تو حاصل نہیں کرسکی، مگر عام آدمی پارٹی نے سنلگرولی میں بڑا الٹ پھیرکرتے ہوئے میئر عہدے کی سیٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔ پہلے مرحلے کے 11 نگر نگم میں سے بی جے پی نے 7، کانگریس نے تین اور عام آدمی پارٹی نے ایک میئر کے عہدے پر قبضہ کیا ہے۔
    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کے احکام کے بعدکیا گیا۔ دو مرحلے میں ہوئے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے 6 جولائی اور دوسرے مرحلے کے لئے 13 جولائی کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ پہلے مرحلے کے ووٹوں کی گنتی 17 جولائی کو کی گئی جبکہ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو مکمل کی جائے گی۔ پہلے مرحلے کے لئے صوبہ کے 44 اضلاع کے 133 بلدیاتی اداروں کے لئے ووٹ ڈالے گئے تھے، جس میں 11 نگر نگم، 36 نگر پالیکا اور 86 نگر پریشد شامل ہیں۔
    مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو بی جے پی حکومت کی شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایم پی کانگریس کے ترجمان بھوپیندر گپتا کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ادے پور قتل معاملے کو سنگھ نے بلدیاتی انتخابات میں بڑھا چڑھاکر پیش کیا اورجب ادے پور معاملے میں ادے پور کے قصائی بھاجپائی نکلے اور انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سنگھ اور بی جے پی کی کوشش ناکام ہوئی اور بلدیاتی انتخابات کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں۔

    بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور ایم پی بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما کی سسرال ہے جبلپور، مگر سسرال کے لوگوں نے بھی انکی فرقہ پرست سیاست کو منھ توڑ جواب دیا ہے، سسرال کے لوگ ووٹ نہیں دے رہےہیں اور دنیا بھر میں شور مچاتے پھر رہے ہیں۔ بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ اس کے تردیو، چتردیو اور ڈیجیٹل کے بھوت کہاں ہیں۔ بی جے پی کے وکاس کو اس چھوٹے سے بلدیاتی انتخابات میں عوام نے آئینہ دکھایا ہے، جو کچھ بچا ہے وہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں صاف ہو جائےگا۔
    وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخٓابات کے نتائج دیکھ کرخوشی ہوتی ہے اور جس طرح سے بی جے پی کے کارکنان نے ایک ایک بوتھ پر محنت کی ہے اسی کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ نگر نگم، نگر پالیکا اور نگر پریشد میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے تاریخی جیت درج کی ہے۔ میں بی جے پی کے سبھی کارکنان کو مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ  مدھیہ پردیش کی عوام کو بے پناہ محبت دینے کے لئے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔انتحٓابات کے نتائج سے ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے اور عوام کی تئیں ہماری جو ذمہ داری ہے اس کو ہم اور مضبوطی سے ادا کرینگے۔اس جیت میں ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جو فلاحی اسکیمیں ہیں اس کا بھی بڑا کردار ہے۔
    وہیں سنگرولی میں میئر عہدے پر کامیابی حاصل کرنے والی عام آدمی پارٹی لیڈر رانی اگروال کہتے ہیں کہ یہ جیت عوام کے وشواس کی جیت ہے۔ عوام نے عام آدمی پارٹی کی قیادت میں جو کام دہلی اور پنجاب میں دیکھا ہے، اسی کو مدھیہ پردیش میں دیکھنا چاہتی ہے۔ مدھیہ پردیش کی پسماندگی کے لئے کانگریس اور بی جے پی دونوں ذمہ دار ہیں، اس لئے عوام نے تیسرے متبادل کے طور پر عام آدمی پارٹی کے امیداور کو منتخب کیا ہے۔ میں سبھی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور عوام سے جو بھی وعدہ کیاگیا ہے اسے پورا کرنے کے لئے عملی اقدام کروں گی۔
    مدھیہ پردیش میں ایم آئی ایم کور کمیٹی کے رکن قاضی سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ عوام نے ہم پر جو اعتبار کیا ہے وہ ہماری توقعات سے زیادہ ہے ۔برہانپور میں ہمارا میئر امیدوار تیسرےنمبر پر رہا ہے، لیکن برہانپور، جبلپور اورکھنڈوا میں ایم آئی ایم کے کونسلر عہدے کے چھ امیدوار کامیابی  کی عبارت رقم کرنے میں کامیاب رہے۔ عوام نے ایم آئی ایم کو بی جے پی اور کانگریس کی مکر و فریب اور فرقہ پرستی کی سیاست کے جواب میں اتحاد اتفاق اور ترقیاتی کاموں کے لئے ووٹ دیا ہے۔ ہمارا نشانہ بلدیاتی انتخابات نہیں بلکہ اسمبلی انتخابات ہیں اور ان شااللہ ہم اس کے لئے ابھی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مدھیہ پردیش میں ایسی حکومت قائم ہو، جو اقلیتوں، دلتوں، پسماندہ طبقات کے لوگوں کو انصاف دے سکے۔
    وہیں ممتاز صحافی جاوید خان کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں عام آدمی پارٹی اور ایم آئی ایم کا داخلہ حیران کرنے والا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے اپنی بہترین پرفارمنس سے بتایا دیا کہ وہ بی جے پی اورکانگریس سے الگ تیسرے مبادل پر بھی غور کر رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں ایم آئی ایم اور عام آدمی پارٹی امیدوار سے کانگریس کو زیادہ اور بی جے پی کو کم ڈنٹ لگا ہے۔ مگر دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ان کی موجودگی اب لمحہ فکریہ ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: