உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایم پی وقف بورڈ کے جی پی ایس سروے سے نوہزار نئی وقف املاک آئیں سامنے

    ایم پی وقف بورڈ کے جی پی ایس سروے سے نوہزار نئی وقف املاک آئیں سامنے

    ایم پی وقف بورڈ کے جی پی ایس سروے سے نوہزار نئی وقف املاک آئیں سامنے

    مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے ذریعہ صوبہ کے اکیس اضلاع میں شروع کئے گئے جی پی ایس اور جی آئی ایس کے سروے سے ایک دو نہیں بلکہ نو ہزار نئی وقف املاک سامنے آئیں ہیں۔ جی پی ایس اور جی آئی ایس کے سروے سے ہزاروں کی تعداد میں گمشدہ وقف املاک سامنے آنے سے جہاں وقف بورڈ کے حوصلے بلند ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    بھوپال: وقف بورڈ اور وقف املاک سے متعلق ہمیشہ منفی باتیں کی جاتی ہیں اور وقف بورڈ انتظامیہ پر یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کی ناقص کارکردگی سے بیش قیمتی وقف املاک نا جائز قبضہ کا شکار ہو رہی ہیں، مگر مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے ذریعہ صوبہ کے اکیس اضلاع میں شروع کئے گئے جی پی ایس اور جی آئی ایس کے سروے سے ایک دو نہیں بلکہ نو ہزار نئی وقف املاک سامنے آئیں ہیں۔ جی پی ایس اور جی آئی ایس کے سروے سے ہزاروں کی تعداد میں گمشدہ وقف املاک سامنے آنے سے جہاں وقف بورڈ کے حوصلے بلند ہیں، وہیں مسلم تنظیموں نے وقف بورڈ سے نئی زمینوں کے ساتھ وقف کی جن زمینوں پر ناجائز قبضہ ہوا ہے، اس کا ریکارڈ بھی عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او سید شاکر علی جعفری نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار مدھیہ پردیش حکومت کے ِذریعہ وقف املاک کا جی پی ایس اور جی آئی ایس کے ذریعہ شروع کیاجا رہا ہے۔ ابتدائی مراحل میں ہم بہت کمزور تھے، مگر آج ہمیں یہ بتاتے ہوئے بڑی خوشی ہو رہی ہے اور خاص طور پر میں اس کے لئے تہہ دل سے وزیر اعلی شیوراج سنگھ، اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے چیف سکریٹری ڈاکٹر اشوک بڑنوال کاجن کی کوششوں سے وقف املاک میں بڑا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ پہلے ہماری املاک کی تعداد جہاں چوبیس ہزار کے قریب تھی اب اس میں نو ہزار کا اضافہ ہوکر یہ تعداد تینتس ہزار تین سو چوہتر ہوگئی ہے ۔ابھی سروے کا کام اکیس اضلاع میں جاری ہے۔ امید ہے کہ سروے کے ذریعہ مزید نئی املاک سامنے آئین گی۔
    وہیں جب اس تعلق سے محبان بھارت کے صدر جاوید بیگ سے نیوز ایٹین اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ بھوپال میں ہے اور انیس سو بیاسی سے راجدھانی بھوپال کی وقف املاک کا سروے نہیں ہوسکا ہے۔ وقف بورڈ نوہزار نئی وقف املاک کی بات کر کے خوش ہو رہا ہے لیکن وہ یہ تو بتائے کہ یہ نوہزار املاک کس کی تحویل میں ہیں۔ کیا وقف بورڈ کو اس سے کوئی انکم حاصل ہوگی ۔ صرف بتانے سے کچھ نہیں ہوتا ہے کہ ہم نے نوہزار نئی وقف املاک کو تلاش کرلیا ہے بلکہ ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ یہ وقف املاک جن کو سامنے لانے کی بات کہی جا رہی ہے انکی نوعیت کیا ہے اور بورڈ یہ بھی بتائے کہ مدھیہ پردیش کی کتنی وقف املاک پر ناجائز قبضہ ہے اور وہ کون سے با اثر لوگ ہیں جن کے سامنے بورڈ لب  کشائی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔جس حکومت کی پیٹھ تھپ تھپائی جا رہی ہے اسی حکومت نے وقف بورڈ کے سالانہ بجٹ کو کم کردیا ہے اور بورڈ کے لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: