உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh Waqf Board کو 2018 کے بعد اب ملیں گے نئے عہدیداران

    مدھیہ پردیش وقف بورڈکو 2018 کے بعد اب نئے عہدیدار ملیں گے۔ شوکت محمد خان کی سربراہی میں قائم وقف بورڈ کی مدت 2018 میں ختم ہوگئی تھی، اس کے بعد ایم پی میں کئی حکومتیں بدلیں، لیکن وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہو سکی۔ حالانکہ اس درمیان بورڈ کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ چلایا جاتا رہا اور 2018 سے اب تک بورڈ میں تین ایڈمنسٹریٹر اور چارسی ای او بدلے جاچکے ہیں۔

    مدھیہ پردیش وقف بورڈکو 2018 کے بعد اب نئے عہدیدار ملیں گے۔ شوکت محمد خان کی سربراہی میں قائم وقف بورڈ کی مدت 2018 میں ختم ہوگئی تھی، اس کے بعد ایم پی میں کئی حکومتیں بدلیں، لیکن وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہو سکی۔ حالانکہ اس درمیان بورڈ کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ چلایا جاتا رہا اور 2018 سے اب تک بورڈ میں تین ایڈمنسٹریٹر اور چارسی ای او بدلے جاچکے ہیں۔

    مدھیہ پردیش وقف بورڈکو 2018 کے بعد اب نئے عہدیدار ملیں گے۔ شوکت محمد خان کی سربراہی میں قائم وقف بورڈ کی مدت 2018 میں ختم ہوگئی تھی، اس کے بعد ایم پی میں کئی حکومتیں بدلیں، لیکن وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہو سکی۔ حالانکہ اس درمیان بورڈ کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ چلایا جاتا رہا اور 2018 سے اب تک بورڈ میں تین ایڈمنسٹریٹر اور چارسی ای او بدلے جاچکے ہیں۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش وقف بورڈکو 2018 کے بعد اب نئے عہدیدار ملیں گے۔ شوکت محمد خان کی سربراہی میں قائم وقف بورڈ کی مدت 2018 میں ختم ہوگئی تھی، اس کے بعد ایم پی میں کئی حکومتیں بدلیں، لیکن وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہو سکی۔ حالانکہ اس درمیان بورڈ کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ چلایا جاتا رہا اور 2018 سے اب تک بورڈ میں تین ایڈمنسٹریٹر اور چارسی ای او بدلے جاچکے ہیں۔

    بورڈ کی تشکیل کا معاملہ جبلپور ہائی کورٹ پہنچا اور جبلپور ہائی کورٹ کی ناراضگی و سخت احکام کے بعد اب جاکر بورڈ کے نئے عہدیداران کے انتخابات کے لئے تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ بورڈ کے نئے عہدیداران کے لئے انتخاب 30 جولائی کو ہوگا اور اس کے لئے بورڈ نے 112 متولیوں کی فہرست بھی جاری کردی ہے۔

    جبلپور ہائی کورٹ کے سخت احکام کے بعد اب جا کر بورڈ کے نئے عہدیداران کے الیکشن کے لئے تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔
    جبلپور ہائی کورٹ کے سخت احکام کے بعد اب جا کر بورڈ کے نئے عہدیداران کے الیکشن کے لئے تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔


    وہیں بورڈ کے ذریعہ جاری کی گئی متولیوں کی فہرست پر سماجی کارکنان اور ماہرین قانون نے اعتراض درج کیا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بورڈ کے تحت درج 342 متولی ایسے ہیں، جن کی انکم ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ سبھی ووٹ دینے کے مجاز ہیں، مگر بورڈ نے صرف 112 متولیوں کی فہرست جاری کرکے بورڈ ضابطہ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ بورڈ سی ای او کا کہنا ہے کہ بورڈ کا انتخاب ضابطہ کے تحت کیا جا رہا ہے۔
    مشہور وکیل وسماجی کارکن شہنواز خان کہتے ہیں کہ بورڈ کے ذریعہ ہائی کورٹ کے احکام کے بعد انتخابات کی تاریخ کا اعلان تو کیا گیا ہے، لیکن بورڈ خود اپنے ہی ضابطہ کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ بورڈ ضابطہ کے تحت ایک لاکھ سے زیادہ آمدنی والی کمیٹیاں ووٹ دینے کی مجاز ہیں وہیں بورڈ کے ذریعہ صرف  112 متولیوں کی ہی فہرست جاری کی گئی ہے۔ بورڈ کے ذریعہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ جن متولیوں نے چندہ نگرانی وقت پر جمع نہیں کیا ہے ان کے نام فہرست میں جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Gyanvapi Masjid Case: ہائی کورٹ میں 31 سال پرانے معاملے میں سماعت، مقدمے کی میرٹ کو دیا گیا چیلنج 

    انہوں نے کہا کہ بورڈ سے ہم نے لکھ کر پوچھا ہے کہ وقف بورڈ کے کس ضابطہ میں لکھا ہے کہ چندہ نگرانی وقت پرجمع نہیں کرنے سے کوئی کمیٹی ووٹنگ کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ در اصل بورڈ کے ذریعہ حکومت کے اشارے پر یکطرفہ کارروائی کی جارہی ہے۔ بورڈ ہمیں جواب نہیں دیتا ہے تو ہم اس معاملے کو لے کر پھر عدالت سے رجوع کریں گے۔

    وہیں اس سے متعلق جب مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او سید شاکر علی جعفری سے نیوز ایٹین اردو نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ بورڈ انتخاب کی تاریخ کو لیکر نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ 30 جولائی کو بورڈ کا انتخاب ہوگا۔ انتخاب کے لئے ضابطہ کے تحت 112 متولیوں کی فہرست بھی جاری کردی گئی ہے۔ ضابطہ کے تحت جو درست ہے، اسے ہی کیا گیا ہے۔ 30 جولائی کو ہونے والے بورڈ کے انتخاب میں کون سے نئے عہدیداران  منتخب ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ تو 30 جولائی کو ہی ہوگا، مگر اس وقت بورڈ کے ضابطہ سے متعلق جو قانونی طور پر داؤ پیچ چل رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ بورڈ انتخاب ایک بار پھر ملتوی ہو سکتا ہے۔

     
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: