ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد میں مغل دور کے بیش قیمتی نوادرات دریافت ، جانیں کیا ہیں وہ ؟

مغل دور کی یادگاریں یوں تو ملک کے طول وعرض میں بکھری پڑی ہیں ۔ تاہم مغل دورمیں استعمال ہونے والے جدید ترین اسلحے ہماری تاریخی وراثت کا اہم حصہ ہیں ۔ ایسے ہی نادر اسلحوں کا ایک ذخیرہ الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں درفیات کیا گیا ہے ۔

  • Share this:
الہ آباد میں مغل دور کے بیش قیمتی نوادرات دریافت ، جانیں کیا ہیں وہ ؟
الہ آباد میں مغل دور کے بیش قیمتی نوادرات دریافت ، جانیں کیا ہیں وہ ؟

الہ آباد : مغل دور حکومت اپنی طرز تعمیر اور فنون لطیفہ کے ساتھ ساتھ اسلحہ سازی کے فن میں بھی تاریخ کے صفحات پر ایک نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ مغل دور کی یادگاریں یوں تو ملک کے طول وعرض میں بکھری پڑی ہیں ۔ تاہم مغل دورمیں استعمال ہونے والے جدید ترین اسلحے ہماری تاریخی وراثت کا اہم حصہ بن چکے  ہیں ۔ ایسے ہی نادر اسلحوں کا ایک ذخیرہ الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں درفیات کیا گیا ہے ۔

مغلوں کے دور حکومت میں الہ آباد کو صوبے کی حیثیت حاصل تھی ۔ الہ آباد  شہر اور قرب و جوار میں مغل دور حکومت میں تعمیر ہونے والی بے شمار تاریخی عمارتیں موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مغل دور کے آثار قدیمہ اور نوادارت آج بھی دریافت ہو رہے ہیں ۔ تازہ دریافت الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں ہوئی ہے ۔ شعبہ تاریخ کے مال خانے میں ایک ایسی بندوق دریافت ہوئی ہے ، جسے ماہرین 16 ویں صدی کی بتا رہے ہیں ۔ بندوق کے ساتھ ہی توپ کے دو گولے  بھی بر آمد ہوئے ہیں ۔ شعبے کے صدر پروفیسر یوگیشور تیواری اس دریافت کو ایک اہم حصولیابی مان رہے ہیں۔


شعبہ تاریخ کے مال خانے میں ایک ایسی بندوق دریافت ہوئی ہے ، جسے ماہرین 16 ویں صدی کی بتا رہے ہیں ۔تصویر : مشتاق عامر ۔
شعبہ تاریخ کے مال خانے میں ایک ایسی بندوق دریافت ہوئی ہے ، جسے ماہرین 16 ویں صدی کی بتا رہے ہیں ۔تصویر : مشتاق عامر ۔


فی الحال مغل دور کی ان نوادارت کو الہ آباد نیشنل میوزیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ الہ آباد نیشنل میوزیم میں مغل دور سے متعلق اسلحوں کا ایک قیمتی ذخیرہ پہلے سے ہی موجود ہے۔ الہ آباد میوزیم کے ڈائرکٹر سنیل گپتا نے از خود شعبہ تاریخ پہنچ کر مغل دور کی اس تاریخی بندوق کو حاصل کیا۔ سنیل گپتا کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی بندوق میوزیم کے ذخیرے میں ایک اہم اضافہ ہوگی ۔ مغل دور کی قیمتی بندوق اور توپ کے گولوں کو جلد ہی میوزیم میں عام لوگوں کے دیدار کے لئے رکھا جائے گا۔ میوزیم انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ریسرچ ٹیم یہ پتہ لگانے کی کوشش کرے گی کہ دریافت شدہ بندوق کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور یہ کہ بندوق مغلوں کے کس عہد سے تعلق رکھتی ہے ۔ تاکہ اس بندوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات لوگوں کو فراہم کی جاسکے۔
First published: Feb 13, 2020 10:42 PM IST