ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی میں مغل دورکی مقدسات کی ہو رہی ہے بے حرمتی، آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق

یوپی میں مغل دور کے آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ خاص طور سے مذہبی نوعیت کی تاریخی یادگاروں پرلینڈ مافیاؤں کے قبضے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال الہ آبادکی تاریخی ’چھوٹی کربلا‘ کی ہے، جس کی 75 فیصد سے زیادہ زمین پرغیر قانونی قبضہ ہو چکا ہے۔

  • Share this:
یو پی میں مغل دورکی مقدسات کی ہو رہی ہے بے حرمتی، آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق
یو پی میں مغل دور کی مقدسات کی ہو رہی ہے بے حرمتی، آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق

الہ آباد: یو پی میں مغل دورکے آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خاص طور سے مذہبی نوعیت کی تاریخی یادگاروں پر لینڈ مافیاؤں کے قبضے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال الہ آباد کی تاریخی ’’چھوٹی کربلا‘‘ کی ہے، جس کی 75 فیصد سے زیادہ زمین پرغیر قانونی قبضہ ہو چکا ہے۔ اس کربلا میں مغل دور کے تاریخی مقبروں کے علاوہ بزرگان دین کے مزارات بھی  موجود ہیں، لیکن اب یہ تاریخی نشانات رفتہ رفتہ مٹتے جا رہے ہیں۔ الہ آباد کئی صدیوں تک مغل سلطنت کا صوبہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں مغل دور کے تاریخی آثار جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ انہیں تاریخی مقامات میں سے ایک ’’چھوٹی کربلا‘‘ بھی ہے۔ یہ کربلا بھلے ہی نام سے چھوٹی لگ رہی ہو، لیکن ماضی میں وسیع و عریض رقبے کی وجہ سے چھوٹی کربلا کو ایک خاص حاصل تھا۔


یو پی میں مغل دورکے آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خاص طور سے مذہبی نوعیت کی تاریخی یادگاروں پر لینڈ مافیاؤں کے قبضے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
یو پی میں مغل دورکے آثار قدیمہ کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خاص طور سے مذہبی نوعیت کی تاریخی یادگاروں پر لینڈ مافیاؤں کے قبضے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔


اس کربلا میں مغل دور کے کئی اہم مقبروں کے علاوہ تاریخی اعتبارکی قدیم قبرگاہیں اور روضے آج بھی موجود ہیں،  لیکن اب چھوٹی کربلا کی بیشتر آراضی پرمافیاؤں نے اب اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ چھوٹی کربلا کے منتظمین اورقبرستان انتظامیہ کمیٹی کے افراد اس تاریخی ورثے کو بچانے کی اپنی آخری کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ چھوٹی کربلا کے متولی مرزا مرتضیٰ حسین کا کہنا ہے کہ چھوٹی کربلا میں پہلے بے گھرمزدوروں یا شر پسند عناصر کے ذریعہ کسی ایک حصہ پر منصوبہ بند طریقے سے عارضی قبضہ کرایا جاتا ہے، جو بعد میں ایک مستقل  قبضے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مرتضیٰ حسین کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں شیعہ وقف بورڈ اور مقامی انتظامیہ  کا کر دار شروع سے ہی مشکوک رہا ہے۔ مرتضیٰ حسین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ چھوٹی کربلا کو لینڈ مافیاؤں کے چنگل سے چھڑانے کی کوشش نہیں کی گئی۔


چھوٹی کربلا کے منتظمین اورقبرستان انتظامیہ کمیٹی کے افراد اس تاریخی ورثے کو بچانے کی اپنی آخری کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
چھوٹی کربلا کے منتظمین اورقبرستان انتظامیہ کمیٹی کے افراد اس تاریخی ورثے کو بچانے کی اپنی آخری کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔


تاہم شیعہ وقف بورڈ اور مقامی انتظامیہ کے عدم تعاون کی وجہ سے اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو پائی۔ اوقاف کے تحفظ کے لئےکام کرنے والی سرکردہ تنظیم عصر فاؤنڈیشن نے بھی کئی بار چھوٹی کربلا پر ہونے والے غیر قانونی قبضے کے خلاف  شیعہ وقف بورڈ اور ریاستی حکومت کے سامنے اپنی آواز اٹھا چکا ہے۔ عصر فاؤنڈیشن کے صدر شبیر شوکت عابدی کا الزام ہے کہ چھوٹی کربلا پرلینڈ مافیاؤں کا قبضہ وقف بورڈ اوراعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ غیر قانونی قبضے کی وجہ سے چھوٹی کربلا میں واقع رؤضوں اوربزرگان دین کے مزاروں کی سخت بےحرمتی ہو رہی ہے، جن بزرگوں کے مزارات پر کسی زمانے میں عقیدت کے پھول چڑھائے جاتے تھے۔ آج ان مزاروں پرگندے کپڑے سکھائے جا رہے ہیں اور جن مقبروں میں کبھی شمعیں روشن کی جاتی تھیں، اب یہ مقبرے آوارہ جانوروں کی آماجگاہ بن گئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 09, 2020 07:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading