ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ پر مختار عباس نقوی نےکہا- کانگریس کے’لمحوں کی خطا‘ مسلم خواتین کےلئے’عشروں کی سزا‘ بن گئی

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نےکہا کہ یکم اگست مسلم خواتین کو تین طلاق کے ظلم سےنجات کا دن، ہندوستان کی تاریخ میں ’مسلم خواتین یوم حقوق‘ کے طور پر درج ہوچکی ہے۔ ’تین طلاق‘ یا ’طلاق بدعت‘ جو نہ آئینی طورسے ٹھیک تھا نہ اسلام کے نقطہ نظر سے جائز تھا

  • UNI
  • Last Updated: Jul 22, 2020 05:02 PM IST
  • Share this:
طلاق ثلاثہ پر مختار عباس نقوی نےکہا- کانگریس کے’لمحوں کی خطا‘ مسلم خواتین کےلئے’عشروں کی سزا‘ بن گئی
مسلم خواتین اور تین طلاق سے متعلق مختار عباس نقوی نےکانگریس پر سخت تنقید کی ہے۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کو بڑا اصلاحی فعل قرار دیتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ کانگریس نے کچھ ’دقیانوسی انتہاپسندوں کی غلطیوں‘ اوردباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک کر مسلم خواتین کوان کے آئینی حق سے محروم کرنے کا جرم کیا تھا، جس کی وجہ سےکانگریس کے’لمحوں کی خطا‘ مسلم خواتین کے لئے’عشروں کی سزا‘ بن گئی۔ جہاں کانگریس نے ’سیاسی ووٹوں کی بنیاد‘ کی فکر کی تھی، وہیں مودی حکومت نے سماجی اصلاح کی فکر کی۔ مختار عباس نقوی نے ایک بیان جاری کرکے بدھ کو کہا کہ ویسے تو اگست مہینہ تاریخ میں اہم واقعات کے صفحات سے پُر ہے۔ 8 اگست ’بھارت چھوڑو آندولن‘، 15 اگست یوم آزادی ، 19 اگست ’عالمی یوم انسانی‘، 20 اگست ’یوم خیرسگالی‘، 5 اگست کو جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے جیسے تاریخ کے سنہرے لفظوں میں لکھے جانے والے دن ہیں۔


مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نےکہا کہ یکم اگست مسلم خواتین کو تین طلاق کے ظلم سےنجات کا دن، ہندوستان کی تاریخ میں ’مسلم خواتین یوم حقوق‘ کے طور پر درج ہوچکی ہے۔ ’تین طلاق‘ یا ’طلاق بدعت‘ جو نہ آئینی طورسے ٹھیک تھا نہ اسلام کے نقطہ نظر سے جائز تھا پھر بھی ہمارے ملک میں مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی سے پر غیر قانونی، غیر آئینی، غیر اسلامی روایت ’تین طلاق‘، ’ووٹ بینک کے سوداگروں‘ کے ’سیاسی تحفظ‘ میں پھلتا پھولتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یکم اگست 2019 ہندوستانی پارلیمنٹ کی تاریخ کا وہ دن ہےجس دن کانگریس، کمیونسٹ پارٹی، ایس پی، بی ایس پی، ترنمول کانگریس سمیت تمام مبینہ طورسے سیکولر سیاسی پارٹیوں کی مخالفت کے باوجود ’تین طلاق‘ ظلم کو ختم کرنےکا قانونی بنایا گیا۔


 مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نےکہا کہ یکم اگست مسلم خواتین کو تین طلاق کے ظلم سےنجات کا دن، ہندوستان کی تاریخ میں ’مسلم خواتین یوم حقوق‘ کے طور پر درج ہوچکی ہے۔ علامتی تصویر

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نےکہا کہ یکم اگست مسلم خواتین کو تین طلاق کے ظلم سےنجات کا دن، ہندوستان کی تاریخ میں ’مسلم خواتین یوم حقوق‘ کے طور پر درج ہوچکی ہے۔ علامتی تصویر


انہوں نے کہا کہ ملک کی آدھی آبادی اور مسلم خواتین کے لئے یہ آئینی، بنیادی حقوق، جمہوریت اوریکسانیت کے حقوق کا دن بن گیا۔ یہ دن ہندوستانی جمہوریت اورپارلیمانی تاریخ کے سنہرے صفحات کا حصہ ہوگا۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’تین طلاق‘ ظلم کے خلاف قانون تو 1986 میں بھی بن سکتا تھا۔ جب شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے ’تین طلاق‘ پربڑافیصلہ سنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کچھ’دقیانوسی انتہاپسندوں کی غلطیوں اور دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک کر مسلم خواتین کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کرنے کا جرم کیا تھا۔ مرکزی وزیر نے کہاکہ ملک آئین سے چلتاہے کسی شریعت یا مذہبی قانون یانظم سے نہیں۔

مختار عباس نقوی نےکہاکہ وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے ’تین طلاق‘ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کوموثربنانے کے لئے قانون بنایا۔ سپریم کورٹ نے تین طلاق کو 18 مئی 2017 کو غیرقانونی قراردیاتھا۔ جہاں کانگریس نے اپنی تعداد کا استعمال مسلم خواتین کو ان کےحقوق سے محروم رکھنےکے لئے کیاتھا، وہیں مودی حکومت نے مسلم خواتین کے سماجی، معاشی، بنیادی اورجمہوری حقوق کی دفاع کے لئے فیصلہ کیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 22, 2020 04:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading