ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مودی حکومت کسانوں کی خیرخواہ، مذاکرات کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں دروازے: مختار عباس نقوی 

مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کو لے کر وزارت زراعت کے سکریٹری کے ذریعہ خط بھیجے جانے کے بعد برف پگھلتی محسوس ہو رہی ہے اور اس ضمن میں مرکزی کابینہ وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کسانوں کوا یک بار پھر سے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت کسانوں کی مخالف نہیں ہے اور گفتگو اور مذاکرات کے راستے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔

  • Share this:
مودی حکومت کسانوں کی خیرخواہ، مذاکرات کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں دروازے: مختار عباس نقوی 
مودی حکومت کسانوں کی خیرخواہ، مذاکرات کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں دروازے: مختار عباس نقوی 

نئی دہلی: مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کو لے کر وزارت زراعت کے سکریٹری کے ذریعہ خط بھیجے جانے کے بعد برف پگھلتی محسوس ہو رہی ہے اور اس ضمن میں مرکزی کابینہ وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کسانوں کوا یک بار پھر سے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت کسانوں کی مخالف نہیں ہے اور گفتگو اور مذاکرات کے راستے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔ نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے مختارعباس نقوی نے کہا کہ مودی حکومت نے میرا گاؤں، میرا دیش، میرا کھیت - کھلیان اور آتم نربھر بھارت کی سمت میں کامیاب کیا ہے۔


مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسانوں کی آنکھوں میں خوشی اور خوشحالی آئے اس سمت میں کسانوں کیلئے جو ہوسکتا ہے، اس کو لے کر حکومت کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کانگریس کی طرح کی حکومت نہیں، جب مہینوں آندولن چلتا رہتا تھا اور گفتگو نہیں کی جاتی تھی، ہم نے کسانوں سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ کرمنل سازش کرتے ہیں اور کرمنل کانسپریسی کا صندوق اور کسانوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کرکسانوں کے خلاف ہی حملہ کررہے ہیں اور کسانوں میں بھرم پھیلانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔


مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسانوں کی آنکھوں میں خوشی اور خوشحالی آئے اس سمت میں کسانوں کیلئے جو ہوسکتا ہے، اس کو لے کر حکومت کام کر رہی ہے۔
مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسانوں کی آنکھوں میں خوشی اور خوشحالی آئے اس سمت میں کسانوں کیلئے جو ہوسکتا ہے، اس کو لے کر حکومت کام کر رہی ہے۔


تاہم حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ایم ایس پی ختم ہونے جارہی ہے اور نہ ہی منڈیاں کہیں جاری ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کسانوں کے ذریعہ بھوک ہڑتال کے سوال پر کہا کہ جو کسان جمہوری انداز میں پُر امن طریقہ سے احتجاج کر رہے ہیں اور احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، اسی وجہ سے مودی حکومت نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ بات چیت کا راستہ اپنایا ہے۔ مختار عباس نقوی نے ایم ایس پی کو قانونی درجہ دیئے جانے کے مطالبات کے سوال پر کہا کہ ایم ایس پی ہے اور رہے گی اور کوئی ایم ایس پی کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 21, 2020 09:24 PM IST