ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 26 مہینوں بعد مختار انصاری دوبارہ باندہ جیل میں

اترپردیش کے ہائی پروفائل مافیا ڈان ایم ایل اے مختار انصاری کو سخت سیکورٹی بندوبست کے درمیان بدھ کو پنجاب سے لاکر باندہ ضلع جیل مین شفٹ کردیا گیا۔ مختار انصاری کی باندہ جیل ممیں واپسی قانونی رشہ کشی کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر تقریبا ساڑھے 26 مہینے بعد ممکن ہوسکی ہے۔

  • Share this:
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 26 مہینوں بعد مختار انصاری دوبارہ باندہ جیل میں
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 26 مہینوں بعد مختار انصاری دوبارہ باندہ جیل میں

باندہ: اترپردیش کے ہائی پروفائل مافیا ڈان ایم ایل اے مختار انصاری کو سخت سیکورٹی بندوبست کے درمیان بدھ کو پنجاب سے لاکر باندہ ضلع جیل مین شفٹ کردیا گیا۔ مختار انصاری کی باندہ جیل ممیں واپسی قانونی رشہ کشی کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر تقریبا ساڑھے 26 مہینے بعد ممکن ہوسکی ہے۔ یوپی پولیس کی اسپیشل سیکورٹی ٹیم کے ذریعہ پنجاب کو روپڑ جیل سے مختار انصاری کو علی الصبح تقریبا 4:50 بجے ضلع جیل باندہ کے گیٹ پر لایا گیا اور تقریبا پانچ بجے انہیں جیل کے اندر داخل کرلیا گیا۔ محکمہ داخلہ نے پریس ریلیز جاری کر یہ جانکاری دی۔

مختار انصاری کو لانے والی پولیس کی اسپشل ٹیم اور جیل افسران کی موجودگی میں سیکورٹی اہلکار نے سبھی سامان کی جانچ کی ساتھ ساتھ خود مختار انصاری کی بھی جدید ڈورم فیم میٹل ڈٹکٹر، پول میٹل ڈٹکٹر، ہیڈن ہیلد میٹل ڈیٹکٹر وغیرہ آلات کے ذریعہ تلاشی لی گئی، جس میں کوئی بھی غیر قانونی سامان نہیں ملا۔


میڈیکل کالج بانہ کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے مختار انصاری کے صحت کا معائنہ کیا اور انہیں صحت مند پایا گیا۔
میڈیکل کالج بانہ کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے مختار انصاری کے صحت کا معائنہ کیا اور انہیں صحت مند پایا گیا۔


میڈیکل کالج بانہ کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے مختار انصاری کے صحت کا معائنہ کیا اورانہیں صحت مند پایا گیا۔ کورٹ سے متعقلہ دستاویزات کا بھی جائزہ لیا۔ مختار انصاری کی سیکورٹی کے لئے ضلع انتظامیہ نے پختہ انتظامات کئے ہیں۔ انہیں بیکر نمبر 16رکھا گیا ہے، جو 24گھنٹے کیمرے کی نگرانی میں ہے۔ پوری جیل سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہے اور جیل ہیڈ کوارٹر لکھنو کے کمانڈ سنٹر روم سے اس کی لگاتار مانیٹرنگ اعلی افسران کے ذریعہ کی جارہی ہے۔
جیل کے باہری سیکورٹی کے لئے دیڑھ سیکشن پی اے سی کے علاوہ آئی جی رینج کے ذریعہ ایک پلاٹون پی اے سی بھی مہیا کرائی گئی ہے۔ جیل کے انتظامی اور سیکورٹی نظم ونضبط کے لئے شہر مجسٹریٹ باندہ کو انچارج سپرنٹنڈنٹ آف جیل بنایا گیا ہے۔ پرمود کمار ترپاٹھی جیلر اور دو ڈپٹی جیل پہلے سے ہی تھے، اس کے علاوہ دو نئے ڈپٹی جیلر تعینات کئے گئے ہیں۔ ہیڈ جیل وارڈر اور جیل وارڈر بھی وافر مقدار میں دستیاب کرائے گئے ہیں۔ 
روپڑ جیل میں مختار انصاری کی کورنا جانچ کئے جانے کی کوئی رپورٹ جیل کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے جیل انتظامیہ نے ان کی کورونا جانچ کرائی جائےگی۔

مختار انصاری کی سیکورٹی کے لئے ضلع انتظامیہ نے پختہ انتظامات کئے ہیں۔ انہیں بیکر نمبر 16رکھا گیا ہے، جو 24گھنٹے کیمرے کی نگرانی میں ہے۔
مختار انصاری کی سیکورٹی کے لئے ضلع انتظامیہ نے پختہ انتظامات کئے ہیں۔ انہیں بیکر نمبر 16رکھا گیا ہے، جو 24گھنٹے کیمرے کی نگرانی میں ہے۔


سپریم کورٹ کے ذریعہ دئیے گئے حکم پر عملدرآمد میں ضلع انتظامیہ باندہ اور سی ایم او باندہ کے تعاون سے مختار انصاری کی صحت کا خیال رکھنے کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ہرصورتحال میں 24گھنٹے جیل اور مختار انصاری کی سیکورٹی انتظام کو یقنین بنانے کے ہدایات دئیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد پنجاب حکومت مختار کو اترپردیش پولیس کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہوئی تھی جس کے بعد انہیں سڑک راستے سے یہاں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لئے محکہ داخل نے سیکورتی کا فل پروف پلا ن تیار کیا تھا۔ اور تقریبا 140جوانوں کا ایک دل جس میں پی اے سی کے جوان بھی شامل تھے پیر کو پنجاب کے لئے روانہ ہوا۔

مختار انصاری کو علی الصبح تقریبا 4:50 بجے ضلع جیل باندہ کے گیٹ پر لایا گیا اور تقریبا پانچ بجے انہیں جیل کے اندر داخل کر لیا گیا۔
مختار انصاری کو علی الصبح تقریبا 4:50 بجے ضلع جیل باندہ کے گیٹ پر لایا گیا اور تقریبا پانچ بجے انہیں جیل کے اندر داخل کر لیا گیا۔



اس درمیان مافیاڈان کی سیکورٹی اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے تمام قیاس اپوزیشن پارٹیوں اور سوشل میڈیا پر لگائے جانے لگے۔ ان سب سے بے پرواہ سیکورٹی اہلکاروں نے دو دن اور دو رات کے تھکانے بھرے سفر کو طے کر مختار کو باندہ جیل پہنچا دیا۔ پنجاب پولیس نے منگل کی دوپہر مختار کو یوپی پولیس کے حوالے کیا تھا جس کے بعد اسے تقریبا 18گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ 14گھنٹے کا سفر طے کر کے باندہ جیل لایا گیا۔ باندہ جیل میں مختار کے لئے سیکورٹی کی سبھی تیاریاں پہلے ہی پوری کی جاچکی تھیں۔
ریاست کے 24تھانوں میں تقریبا 52 معاملوں میں مطلوب مختار کو باندہ جیل میں لانے کے لئے یوگی حکومت نے کافی جدوجہد کری ہے۔ اس درران 50سے زیادہ بار اسے واپس لانے کی کوششیں کی گئی لیکن ہر بار پنجاب حکومت نے صحت وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے منع کردیا۔ آخر کار سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی موثر پیروی کے بعد مختار کویوپی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔جیل ذرائع نے بتایا کہ 21جنوری 2019 کو مختار کو پنجاب کی روپڑ جیل میں شفٹ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے باندہ جیل میں مختار کو سبھی سہولیات دستیاب کرائی جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ اس کی بیرک میں غیر منقطع بجلی کی فراہمی کے لئے خصوصی جنریٹر کا انتظام کیا گیا تھا حالانکہ اس بار اسے جیل مینول کے حساب سے چلنا پڑے گا اور عام قیدیوں کی طرح جیل کی رسوئی میں بناکھانا اور دیگر سہولیات کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 07, 2021 05:52 PM IST