உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہوٹلوں اوردکانوں میں کام کرنے والے لڑکوں نےبنائی گینگ،1ہزارلوگوں کو بنایاشکار،ممبئی کرائم برانچ نے کیاگرفتار

    اس گروہ نے اب تک تقریباً 1000 سے زائد لوگوں کو اپنا شکار بنایا ہے اور ان کے پاس سےتقریباً 149 کریڈٹ کارڈ اور 22 ڈیبٹ کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔

    اس گروہ نے اب تک تقریباً 1000 سے زائد لوگوں کو اپنا شکار بنایا ہے اور ان کے پاس سےتقریباً 149 کریڈٹ کارڈ اور 22 ڈیبٹ کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔

    کرائم برانچ کے مطابق جعلسازوں کے اس گروہ سے وابستہ تمام ملزمان لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کوڈ ورڈز (Code Word)کا استعمال کرتے تھے۔ اس دھوکہ دہی میں استعمال ہونے والی 'اسکیمر' یعنی صارف کے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ڈیٹا کو کاپی کرنے والی مشین کو ان جعلسازوں نے 'چوہا' کوڈ ورڈ دیا تھا جبکہ مقناطیسی کارڈ ریڈر جسے مقناطیسی کارڈ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اسے 'بڑا چوہا' کوڈ ورڈ دیا گیا تھا۔

    • Share this:
      ممبئی سمیت مہاراشٹر کے کئی شہروں میں اسکیمرز (Scammers)کے ذریعے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈوں کی   کلوننگ (Cloning) کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کرنے والی ممبئی کرائم برانچ (Mumbai Crime Branch)کو اس معاملے میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ کرائم برانچ نے اس گروہ کے ماسٹر مائنڈ محمد فیض کے ساتھ اس جعلسازی سے وابستہ مزید 3 افراد کو گرفتار کیا ہے اور اب تک اس کیس میں مجموعی طور پر 8 افراد کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کے یونٹ 9 کی تفتیش میں انتہائی حیران کن معلومات سامنے آئی ہیں۔ کرائم برانچ کے مطابق جعلسازوں کے اس گروہ سے وابستہ تمام ملزمان لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کوڈ ورڈز (Code Word)کا استعمال کرتے تھے۔ اس دھوکہ دہی میں استعمال ہونے والی 'اسکیمر' یعنی صارف کے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ڈیٹا کو کاپی کرنے والی مشین کو ان جعلسازوں نے 'چوہا' کوڈ ورڈ دیا تھا جبکہ مقناطیسی کارڈ ریڈر جسے مقناطیسی کارڈ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اسے 'بڑا چوہا' کوڈ ورڈ دیا گیا تھا۔

      کلوننگ گروہ کے ارکان کی تعلیمی قابلیت دیکھ کر پولیس حیران

      اس کے علاوہ کرائم برانچ نے تین مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں سے یہ لوگ جعلسازی انجام دیا کرتے تھے۔ جن میں سے 2 مقامات ممبئی اور 1 کا تعلق پونے سے ہے۔ 'چو ہا' اور 'بڑا چوہا' کے ذریعہ اس گروہ نے اب تک تقریباً 1000 سے زائد لوگوں کو اپنا شکار بنایا ہے اور ان کے پاس سےتقریباً 149 کریڈٹ کارڈ اور 22 ڈیبٹ کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔کرائم برانچ کو اس معاملے میں ملی اہم معلومات کے مطابق اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ فیض نےصرف دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے اور 2019 سے اس گروہ کے ذریعے جعلسازی انجام دے رہا تھا۔ معلومات کے مطابق 2018 میں وہ اسی طرح کے گروہ کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن اس میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اس نے اپنا ایک الگ گینگ تشکیل دیا۔ کرائم برانچ کے مطابق اس معاملے میں گرفتار 8 ملزمین میں سے کسی نے بھی 12 ویں سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے

       تمام ملزمین ہوٹلوں، آئسکریم پارلرس یاپھر شاپنگ سینٹر پر کام کیاکرتے تھے جہاں وہ صارفین سے کارڈحاصل کرکے اس کی تفصیلات بھی حاصل کرتے تھے۔ جس کے بعد کارڈ کا کلون بناکر یہ بھاری رقومات بینک کھاتوں سے نکالتے تھے۔
      تمام ملزمین ہوٹلوں، آئسکریم پارلرس یاپھر شاپنگ سینٹر پر کام کیاکرتے تھے جہاں وہ صارفین سے کارڈحاصل کرکے اس کی تفصیلات بھی حاصل کرتے تھے۔ جس کے بعد کارڈ کا کلون بناکر یہ بھاری رقومات بینک کھاتوں سے نکالتے تھے۔


      گروہ کے کام کرنے کا طریقہ

      تمام ملزمین ہوٹلوں، آئسکریم پارلرس یاپھر شاپنگ سینٹر پر کام کیاکرتے تھے جہاں وہ صارفین سے کارڈحاصل کرکے اس کی تفصیلات بھی حاصل کرتے تھے۔ جس کے بعد کارڈ کا کلون بناکر یہ بھاری رقومات بینک کھاتوں سے نکالتے تھے۔ پولیس نے اس بات کی جانکاری دی ہے۔ گروہ کے ماسٹر مائنڈ فیض نے گرفتار کئے گئے 3 ملزمین کو صارفین کے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا کاپی کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس کے عوض میں اُنہیں ہر کارڈ پر 500 روپے ملتے تھے جبکہ دیگر 3 کو ستارا، پونے اور سانگلی کے اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی ذمہ داری سونپی تھی جنہیں کل رقم کا 10 فیصد گروہ کا ماسٹر مائنڈ فیض دیا کرتا تھا۔ جبکہ ایک ملزم کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ ہوٹلوں یا دوسری دکانوں میں کام کرنے والے ملازمین کو ڈھونڈیں جو لالچ میں آجائیں اور ان کا ساتھ دیں۔

      کرائم برانچ کے مطابق اس معاملے میں گرفتار 8 ملزمین میں سے کسی نے بھی 12 ویں سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے
      کرائم برانچ کے مطابق اس معاملے میں گرفتار 8 ملزمین میں سے کسی نے بھی 12 ویں سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے


      گروہ میں نئے لوگوں کو اس طرح کیا جاتا تھا شامل

      ممبئی کرائم برانچ کے ڈی سی پی اکبر پٹھان نے بتایا کہ ان جعلسازوں کے کام کا طریقہ کار یہ تھا کہ یہ لوگ ہوٹل یا دوسری دکانوں میں کام کرنے والے شخص کے ساتھ مل کر اسکیمر کے ذریعہ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری کرنے والے صارفین کے کارڈ کا ڈیٹا کاپی کر لیا کرتے تھے صرف یہی نہیں وہ چوری شدہ صارفین کے کارڈ کا پن بھی نوٹ کر لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اس ڈیٹا کو لیپ ٹاپ میں کاپی کرکے فیض مقناطیسی کارڈ ریڈر کے توسط سے کارڈ کا کلون تیار کرتا تھا اور پھر اس میں چوری شدہ کارڈ کا پن ڈال کر لوگوں کے اکاؤنٹ سے ساری رقم نکال لیا کرتے تھے جس کے بارے میں صارفین کو پتہ تک نہیں چلتا تھا۔ کرائم برانچ کے مطابق اس گروہ میں مزید کچھ لوگوں کے ملوث ہونے کی معلومات ملی ہے جس پر شکنجہ کسنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔

      ممبئی سے وسیم انصاری کی رپورٹ
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: