உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    26/11جیسے دہشت گردانہ حملوں کی دھمکی والے چار فون بند ہونے سے بڑھی تشویش، مہاراشٹر پولیس کررہی ہے جانچ

    ۔علامتی تصویر۔

    ۔علامتی تصویر۔

    مہاراشٹرا پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ہم ان نمبروں کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ وہ بند ہیں۔ ہم نے ان کی کال کی تفصیلات اکٹھی کر لی ہیں اور ان کا سراغ لگانے کے لیے تلاش جاری ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Uttar Pradesh | Bijnor | Palghar | Haryana
    • Share this:
      ممبئی: ممبئی ٹریفک پولیس کے واٹس ایپ نمبر پر شیئر کیے گئے 26/11 جیسے دہشت گردانہ حملوں کی دھمکی دینے والے چار موبائل فون نمبر کو اس سال فروری اور اگست کے درمیان بند کردیا گیا ہے۔ یہ خفیہ ایجنسیوں اور ممبئی کرائم برانچ کے لیےی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ممبئی ٹریفک پولیس کو پچھلے ہفتے اس کے واٹس ایپ نمبر پر دھمکی ملی تھی۔ اس کے بعد معاملے کی جانچ کے لئے ممبئی کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایک نامعلوم شخص جس کے پاکستان میں ہونے کا شبہ ہے، اس کی جانب سے بھیجے گئے دھمکی بھرے پیغام میں ٹریفک پولیس کے واٹس ایپ نمبر پر 10 نمبر شیئر کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ لوگ 26/11 کی طرح کے دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچ رہے ہیں۔

      موبائل یوزرس سے یوپی میں کی جارہی ہے پوچھ تاچھ
      ممبئی کرائم برانچ کے ذرائع نے بتایا کہ نو نمبر اتر پردیش سے ہے۔ ان میں سے آٹھ بجنور اور ایک مظفر نگر ضلع کا ہے جبکہ دیگر نمبر ریاست ہریانہ سے ہے۔ کرائم برانچ نے اترپردیش اے ٹی ایس کی مدد سے بجنور کے پانچ نمبروں کا پتہ لگایا، جن میں سے چار یوپی میں اور ایک مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے وسائی قصبے میں ہے۔ وسائی پہنچنے والا شخص پیشے سے ہیئر ڈریسر ہے اور اس ہفتے ہی شہر آیا تھا۔ اس سے چار دنوں سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ یوپی میں دیگر موبائل ہولڈرز سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کی ایک اور ٹیم ہریانہ میں ہے اور دسویں ملزم سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ تحقیقات کے دوران حکام نے پایا کہ چار نمبر اس سال جنوری اور اگست کے درمیان مستقل طور پر بند کر دیے گئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Labor Law:آجPM مودی لیبر وزراکی میٹنگ میں کرینگے شرکت،نئے قانون میں ہفتے میں3دن چھٹی نہیں

      یہ بھی پڑھیں:
      Hyderabad : ٹی راجا سنگھ کے خلاف احتجاج جاری ، درجنوں مظاہرین کو کیا گیا گرفتار

      نمبروں کو لے کر پرتشویش ہے مہاراشٹر پولیس
      مہاراشٹرا پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ہم ان نمبروں کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ وہ بند ہیں۔ ہم نے ان کی کال کی تفصیلات اکٹھی کر لی ہیں اور ان کا سراغ لگانے کے لیے تلاش جاری ہے۔ اہلکار نے کہا کہ کرائم برانچ اس بات کا پتہ نہیں لگا سکی ہے کہ یہ پیغام کہاں سے آیا، لیکن آئی پی لوکیشن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ برطانیہ سے آیا تھا۔ ویسے ہمیں آئی پی ایڈریس کے بارے میں یقین نہیں ہے کیونکہ بھیجنے والے نے شاید ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) استعمال کیا ہو۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: