ہوم » نیوز » وطن نامہ

کون ہے ادھو ٹھاکرے کی حلف برداری پہلے ہی دیکھ لینے والا یہ سنجے ؟

بغاوت کی پوری کہانی میں جتنے بھی بڑے ڈائیلاگ تھے وہ سنجے راوت کے منہ سے ہی نکلے ۔ ہوسکتا ہے کہ خواہش ادھو کی رہی ہو ، لیکن اس کو عملی جامہ سنجے نے ہی پہنایا ۔

  • Share this:
کون ہے ادھو ٹھاکرے کی حلف برداری پہلے ہی دیکھ لینے والا یہ سنجے ؟
بغاوت کی پوری کہانی میں جتنے بھی بڑے ڈائیلاگ تھے وہ سنجے راوت کے منہ سے ہی نکلے ۔ ہوسکتا ہے کہ خواہش ادھو کی رہی ہو ، لیکن اس کو عملی جامہ سنجے نے ہی پہنایا ۔

جمعرات کو ادھو ٹھاکرے جب ممبئی کے شیواجی میدان میں عوام کا شکریہ اداکرنے کیلئے زمین پر جھکے ، تو تقریبا ایک لاکھ لوگوں سے بھرے میدان میں شرد پوار کے علاوہ جو شخص سب سے زیادہ خوش تھا ، وہ سنجے راوت تھے ۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ سنجے نے ہی بی جے پی سے شیو سینا کی بغاوت کی اسکرپٹ لکھی  ، لیکن یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ سنجے راوت ہی تھے ، جنہوں نے ادھو سرکار راج کی پوری اسکرپٹ کو حتمی شکل دی ۔


بغاوت کی پوری کہانی میں جتنے بھی بڑے ڈائیلاگ تھے وہ سنجے راوت کے منہ سے ہی نکلے ۔ ہوسکتا ہے کہ خواہش ادھو کی رہی ہو ، لیکن اس کو عملی جامہ سنجے نے ہی پہنایا ۔ شیو سینا کے اخبار سامنا کے ذریعہ ویسے بھی سنجے راوت نے بی جے پی پر حملہ کرنے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور گزشتہ ایک ماہ میں انہوں نے کبھی ٹویٹر ، کبھی سامنا تو کبھی ٹی وی کے ذریعہ تابڑتوڑ باونسر مارے ۔ ظاہر ہے سامنے بی جے پی تھی اور دیویندر فڑنویس کی کھسیاہٹ صاف طور پر دیکھی جاسکتی تھی ۔ راوت یہیں نہیں رکے اور انہوں نے براہ راست دہلی میں بیٹھے بی جے پی لیڈروں پر بھی زوردار حملے کئے ۔


sanajy 3 sanjay 2


شیوسینا کے رتھ کو یہاں تک لاکھ کھڑا کرنے والے سنجے راوت آخر کون ہیں ؟ یہ جاننا کافی دلچسپ ہے ۔ دراصل سنجے راوت نوے کی دہائی میں ایک پبلکیشن میں کرائم رپورٹر ہوا کرتے تھے ۔ سال 1992 میں وہ سامنا سے وابستہ ہوئے ۔ بالا صاحب ٹھاکرے کے انداز اور ارادوں کو سمجھا اور انہوں نے اس کو سامنا کے لفظوں میں ڈھالنے کا کام طویل عرصہ تک کیا ۔ سامنا کے شیو سینا کا ترجمان اخبار ہونے کی وجہ سے ٹھاکرے تک سنجے راوت کی براہ راست رسائی تھی اور بال ٹھاکرے کے بعد ان کی یہی قربت ادھو ٹھاکرے کے ساتھ بھی برقرار ہے ۔ بال ٹھاکرے کے بعد جب شیو سینا کے اصلی وارث کی بات آئی تو سنجے کیلئے یہ مشکل وقت تھا کیونکہ ان کی راج ٹھاکرے سے قربت کسی سے پوشیدہ نہیں تھی ، لیکن پارٹی کے دیگر لوگوں کی طرح ہی سنجے نے ادھو ٹھاکرے کا ساتھ دیا اور باپ کا جو اعتماد ان پر تھا وہ انہیں بیٹے سے بھی ملا ۔

حلف برداری کے دوران ادھو ٹھاکرے  ۔ فوٹو : پی ٹی آئی ۔

سنجے راوت کو نزدیک سے جاننے والے اور انہیں روزانہ کوور کرنے والے صحافیوں کی نظر میں وہ ایک تجربہ کار لیکن لاپروا سے نظر آنے والے شخص کی طرح ہیں جو یہ جانتا ہے کہ میڈیا کو کیا اور کنتا اور ساتھ ہی کس طرح بتانا ہے ۔ پارٹی کی ناراضگی کو طنز کے طور پر کیسے بیان کرنا ہے ۔ سنجے نے گزشتہ دنوں کئی شاعرانہ ٹویٹ بھی کئے جو بی جے پی کیلئے خنجر کی طرح تھے ۔

sanjay 4 sanjay 5

حالانکہ مسلسل تیسری مرتبہ راجیہ سبھا رکن بنے سنجے راوت اتنے بھی مسٹر کلین نہیں ہیں ۔ کئی مرتبہ انہوں نے اشتعال انگیز بیانات بھی دئے ہیں ۔ اپریل 2015 میں انہوں نے مسلمانوں سے رائے دہی کا حق چھین لئے جانے کی بات کہی تھی ، جس پر کافی ہنگامہ ہوا تھا ۔ ان کی دلیل تھی کہ ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے ایسا کرنا ضروری ہے ۔ وہیں حکومت بننے پر آج وہ بیان دے ہیں کہ بالا صاحب مسلمانوں کے خلاف نہیں تھے ۔ واضح ہے کہ سنجے کی نظر خالصتا پارٹی کے موقف پر رہی ہے نہ کہ کسی ٹھوس نظریہ پر ہے ۔

آج سنجے راوت ضرور منع کریں کہ انہیں چانکیہ نہ کہا جائے ، لیکن شیو سینا کیلئے تو وہ کسی چانکیہ سے کم نہیں ہیں ، جس نے تقریبا ناممکن نظر آرہے اتحاد کو شرد پوار کے ساتھ مل کر حقیقت میں تبدیل کردیا ۔
First published: Nov 29, 2019 10:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading