உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی میں مساجد اور درگاہیں ’حلال سینیٹائزر‘کے ساتھ سے دوبارہ کھلیں گی، جانئے مکمل تفصیلات

    ماہم درگاہ کے مینجنگ ٹرسٹی اور حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔ ہم عقیدت مندوں کے لیے حلال یا غیر الکحل سینیٹائزر بھی رکھیں گے۔

    ماہم درگاہ کے مینجنگ ٹرسٹی اور حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔ ہم عقیدت مندوں کے لیے حلال یا غیر الکحل سینیٹائزر بھی رکھیں گے۔

    ماہم درگاہ کے مینجنگ ٹرسٹی اور حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔ ہم عقیدت مندوں کے لیے حلال یا غیر الکحل سینیٹائزر بھی رکھیں گے۔

    • Share this:
      جمعرات کو عبادت گاہیں دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہی شہر کی مساجد کے ساتھ ساتھ حاجی علی درگاہ Haji Ali dargah اور ماہم درگاہ Mahim dargah جیسے مشہور صوفی مزارات میں تیاری مکمل کی جارہی ہے، جس میں نمازیوں کے لیے حلال (غیر الکوحل) سینیٹائزر کا انتظام شامل ہے۔

      اسلام شراب کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے۔ حلال سینیٹائزرز جو ان مزاروں کے ذریعہ استعمال ہوتے ہیں ان میں ہائیڈروجن پیرو آکسائیڈ اور کولائیڈل سلور colloidal silver شامل ہوں گے۔

      ماہم درگاہ کے مینجنگ ٹرسٹی اور حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔ ہم عقیدت مندوں کے لیے حلال یا غیر الکحل سینیٹائزر بھی رکھیں گے۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی عقیدت مند کو چہرے کے ماسک کے بغیر مزارات کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور سماجی دوری کو سختی سے برقرار رکھا جائے گا۔ حاجی علی اور ماہم درگاہوں پر بہتر ہجوم کے انتظام کے لیے مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ قطاریں قائم کی جائیں گی۔

      بمبئی ٹرسٹ کی جامع مسجد کے صدر شعیب خطیب ، جو کرافورڈ مارکیٹ کے قریب جمعہ مسجد اور میرین لائنز میں بڑا قبرستان دونوں کو سنبھالتے ہیں، انھوں نے کہا کہ مسجد کے داخلی دروازے پر فل باڈی ڈس انفیکشن مشین لگائی جا رہی ہے۔ کسی کو بھی مکمل طور پر سینیٹائز کیے بغیر مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہم حکومت کے جاری کردہ تمام پروٹوکول پر عمل کریں گے۔

      جبکہ ایک وقت میں 30 سے ​​35 افراد کو مہیم درگاہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ مساجد میں نمازی چٹائیوں پر نمازیوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے گا۔ خطیب نے وضاحت کی کہ نماز کی جانمازوں پر نمازیوں کے درمیان مناسب جگہ خالی رکھی جائے گی‘‘۔

      عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت مالی بحران کے طویل عرصے کے بعد آئی ہے، کیونکہ پچھلے دو سال میں عطیات ختم ہو چکے تھے۔ مساجد اور درگاہیں بنیادی طور پر چندہ پر چلتی ہیں ، لیکن کھنڈوانی نے کہا کہ یہاں تک کہ باقاعدہ عطیہ دہندگان نے عطیات میں خاطر خواہ کمی کی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کے کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: