ہوم » نیوز » وطن نامہ

ایف آئی آر درج ہونے پر منور رانا نے کہا : میں اپنے بیان پر قائم ، جیل میں ہی مرنا کروں گا پسند

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شاعر منور رانا نے کہا کہ ہمارے پاس جو قلم ہے وہ سچ لکھنے کیلئے ہے ، پائجامہ میں نارا ڈالنے کیلئے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جیل جانا پسند کریں گے اور جیل میں ہی مرنا ، لیکن اپنے بیان پر قائم رہیں گے ۔

  • Share this:
ایف آئی آر درج ہونے پر منور رانا نے کہا : میں اپنے بیان پر قائم ، جیل میں ہی مرنا کروں گا پسند
ایف آئی آر درج ہونے پر منور رانا نے کہا : میں اپنے بیان پر قائم ، جیل میں ہی مرنا کروں گا پسند

اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت کے بعد مشہور شاعر منور رانا کے خلاف لکھنو کے حضرت گنج تھانہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شاعر منور رانا نے کہا کہ ہمارے پاس جو قلم ہے وہ سچ لکھنے کیلئے ہے ، پائجامہ میں نارا ڈالنے کیلئے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جیل جانا پسند کریں گے اور جیل میں ہی مرنا ، لیکن اپنے بیان پر قائم رہیں گے ۔


منور رانا کہتے ہیں کہ مجھے اس ایف آئی آر کے بارے میں جانکاری نہیں ہے اور اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں خود تھانہ چلا جاتا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم تھا ، ابھی مجھے کسی نے دکھایا کہ کوئی دیپک پانڈے نام کا داروغہ ہے ، جس نے میرے اوپر یہ ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ میں کسی دیپک پانڈے نام کے داروغہ کو نہیں جانتا اور جس بھی داروغہ نے میرے خلاف یہ ایف آئی آر درج کرائی ہے مجھے معلوم ہے کہ یہ ہائی اسکول فیل نقل کرکے پاس ہونے والا داروغہ ہے ۔ منور رانا کے بیان پر اپنا بیان نہیں درج کراسکتے ہیں ۔ میں اپنے بیان پر آج بھی قائم ہوں ۔


دراصل فرانس میں ہوئے ایک ٹیچر کے قتل کے واقعہ کو لے کر منور رانا نے کہا تھا کہ پیغمبر محمد کا کارٹون بناکر اس کو قتل کیلئے مجبور کیا گیا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ تنازع پیدا کرکے لوگوں کو اکسایا گیا ۔ رانا نے دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی اگر بھگوان رام کا متنازع کارٹون بنائے گا تو میں اس کا قتل کردوں گا ۔


مشہور شاعر منور رانا نے دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مذہب ماں کے جیسا ہے ، اگر کوئی آپ کی ماں کا یا مذہب کا برا کارٹون بناتا ہے یا گالی دیتا ہے تو وہ غصہ میں ایسا کرنے پر مجبور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چڑھانے کیلئے ایسا کارٹون بنایا گیا ۔

قابل ذکر ہے کہ یہ پورا تنازع پیرس کے مضافاتی علاقہ میں ایک ٹیچر کے قتل کے بعد شروع ہوا ، جس نے پیغمبر اسلام کے کارٹون اپنے طلبہ کو دکھائے ۔ بعد میں اس کا سر کاٹ کر قتل کردیا گیا ۔ ٹیچر کے قتل کے بعد فرانس کے صدر کی جانب سے کئے گئے متنازع تبصرہ کو لے کر مسلم ممالک کے درمیان فرانس کے خلاف ماحول بنتا جارہا ہے ۔

خیال رہے کہ پیغمبر محمد کے کارٹون کا تنازع میں مسلم ممالک اور فرانس کے درمیان اختلافات سنجیدہ شکل اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ فرانسیسی صدر میکرون کے اس بیان پر مسلم ممالک کا سب سے بڑا اعتراض ہے ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام بحران میں ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 02, 2020 04:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading