اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پسماندہ مسلمانوں کی سیاست پر شاعر منور رانا نے کہا- اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں

    پسماندہ مسلمانوں کی سیاست پر شاعر منور رانا نے کہا- اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں

    پسماندہ مسلمانوں کی سیاست پر شاعر منور رانا نے کہا- اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں

    منور رانا نے ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ کو لے کر کہا کہ میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ میرا باپ مسلمان تھا اور میں اس کی گیارنٹی لیتا ہوں لیکن میں اس کی گیارنٹی نہیں لیتا کہ میری ماں بھی مسلمان تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
      پسماندہ مسلمانوں کو لے کر ہورہی سیاست کے درمیان مشہور شاعر منور رانا نے کہا کہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بھید بھاو ہے۔ عرب میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سی ذات کا ہے۔ وہاں ہر کسی کی پہچان عربی سے ہے۔ اسی بنیاد پر شادیاں ہوتی ہیں اور تمام معاملے حل ہوتے ہیں۔

      انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کچھ لوگوں کو پسماندہ کا مطلب بھی پتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں جو پچھڑ جاتا ہے، اسے پسماندہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ کو لے کر کہا کہ میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ میرا باپ مسلمان تھا اور میں اس کی گیارنٹی لیتا ہوں لیکن میں اس کی گیارنٹی نہیں لیتا کہ میری ماں بھی مسلمان تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      تہواروں میں خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے کورونا کا نیا ویریئنٹ، ایکسپرٹ نے کیا خبردار

      ساتویں جماعت کےسوالیہ پرچےمیں کشمیرکو الگ ملک بتایاگیا، نتیش کمارحکومت پرچوطرفہ تنقیدیں

      یہ بھی پڑھیں:
      حافظ سعید کے بیٹے کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستان کی تجویز پر چین نے لگائی روک

      بی جے پی کے رابطہ میں ہیں نتیش کمار، پرشانت کشور کا دعوی، کبھی بھی بدل سکتے ہیں پالا

      پلٹزر پرائز کیلئے نامزد فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد کو دہلی ہوائی اڈےپرروک دیاگیا، آخرکیوں؟

      انہوں نے کہا کہ ہمارے والد مسلمان تھے، جو فوج کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔ فوجیں اپنے کردار، رویے اور طور طریقوں کے ساتھ اپنے نظریات سے ہندوستان میں گھل مل گئے۔ ملک میں کہیں نظام الدین اولیا تو کہیں خواجہ معین الدین چشتی ، کہیں وارث علی شاہ تو کہیں حضرت شاہ مینا شاہ کی حیثیت سے پورے ہندوستان میں پھیلتے چلے گئے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: