ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے پرائیویٹ آئی ٹی آئی کا وجود خطرے میں

منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کا شمار مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے پرائیویٹ آئی ٹی آئی کے طور پر ہوتا ہے۔ اس ادارے کا قیام 84-1983 میں مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سو سائٹی کی زیر نگرانی عمل میں آیا تھا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے پرائیویٹ آئی ٹی آئی کا وجود خطرے میں
مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے پرائیویٹ آئی ٹی آئی کا وجود خطرے میں

بھوپال: منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کا شمار مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے پرائیویٹ آئی ٹی آئی کے طور پر ہوتا ہے۔ اس ادارے کا قیام 84-1983 میں مدھیہ پردیش مسلم ویلفیئر سو سائٹی کی زیر نگرانی عمل میں آیا تھا۔ ادارے کے قیام کا مقصد اقلیتی طلبا بالخصوص مسلم طلبا کو ٹیکنکل ایجوکیشن سے آراستہ کرنا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ نے اپنے قیام کے 37 سالوں میں خوب ترقی کی۔ یہ ادارہ دو ٹریڈ سے شروع کیا گیا تھا۔ موجودہ میں ادارہ میں بارہ ٹریڈ جاری ہیں۔ ادارے کے تحت طلبا کو موٹروائنڈنگ، فیٹر، ویلڈر، اے سی اینڈ ریفری جریشن، موٹروہیکل، کارپینٹر، فوڈ ویجیٹیبل، فیشن ڈیزائننگ میں ڈپلومہ کا کورس کروایا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ طلبا کو کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔


مدارس کے طلبا کے ساتھ خواتین کےلئے کٹنگ اور ٹیلرنگ کا ڈپلومہ مفت رکھا گیا ہے۔ ادارہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے ادارے کے پاس آؤٹ سبھی طلبا برسرروزگار ہیں۔ کمپنیاں ان سے ٹرینڈ بچے مانگتی ہیں، مگر ان کے پاس بچے نہیں ہوتے ہیں، مگر جب سے کورونا کا قہر آیا ہے اس نے ادارے کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ کورونا قہر میں منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کو نہ صرف مالی دشواریوں کا شکار ہونا پڑا ہے بلکہ کورونا کے سبب طلبا کے امتحانات بھی نہیں ہوسکے ہیں۔ یہی نہیں کورونا قہر میں ادارے میں نئے داخلے بھی مشکل 35 فیصد ہی اب تک ہوئے ہیں۔ منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ جو اپنی خود کفالی کے لئے مشہور تھا وہ کورونا قہر میں اس حد تک خستہ حال ہوگیا ہے کہ اسے اپنے ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کے لئے دوسرے ادارے سےمدد لینی پڑی ہے۔

منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید افتخار علی کہتے ہیں کہ کورونا نے ایسا ستم ڈھایا ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ادارے کو سرکار کی جانب سے کوئی مدد تو ملتی نہیں ہے۔ ادارے کے پاس جو کچھ آمدنی کے ذرائع ہیں وہ محدود ہیں۔ مخیر حضرات کی امداد کے ساتھ طلبا کی فیس سے جو کچھ ہوتا ہے، اسی سے ادارے کے ملازمین، ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔


فلاحی ادارہ ہے بہت سے کام قوم کی فلاح کے لئے مفت کئے جاتے ہیں، لیکن کورونا نے اتنا تنگ دامن کردیا ہے کہ سابقہ مہینے کی تنخواہ دوسرے ادارے سے مدد لے کر ادا کی گئی ہے۔ ہمارے یہاں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں ویسے پھی زیادہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ قوم کی خدمت کے طور پر معمولی تنخواہوں پر کام کرتے ہیں۔ اگر حالات بہتر نہیں ہوئے تو ادارے کے وجود پرحرف آئے گا۔ کورونا قہر نے لوگوں کی معیشت کو ایسا تباہ کیا ہے کہ پہلے جہاں ادارے میں داخلہ لینے والوں کی بھیڑ ہوتی تھی اب کورونا قہر میں اسی ادارے میں طلبا گھر والوں کی مالی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے داخلہ لینے کو تیار نہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہی کوئی راستہ نکالے، جس سے ادارہ بچایا جا سکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 28, 2020 11:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading