ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

موسیٰ ندی :اننت گیری ہلز سے حیدرآباد کاسفر،تاریخی ندی گندگی کادوسرانام

ریاستی حکومتوں نے موسیٰ ندی کو صاف ستھرہ کرنے کیلئے کروڑوں روپئے خرچ کیے لیکن موسیٰ ندی کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔

  • Share this:
موسیٰ ندی :اننت گیری ہلز سے حیدرآباد کاسفر،تاریخی ندی گندگی کادوسرانام
ریاستی حکومتوں نے موسیٰ ندی کو صاف ستھرہ کرنے کیلئے کروڑوں روپئے خرچ کیے لیکن موسیٰ ندی کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔

موسیٰ ندی کے ذکر کے بغیر شہر حیدرآباد کی تاریخ پوری نہیں ہوتی شہر حیدرآباد کیلئے موسیٰ ندی کی وہی اہمیت ہے جو لندن کیلئے دریائے ٹیمز کی اور کولکتہ کیلئے دریائے ہوگلی کی لیکن موجودہ دور میں ایک عام حیدرآبادی کی زبان سے شاید ہی کبھی موسیٰ ندی کے بارے میں کوئی ذکر کہنے سننے میں آتا ہے وجہ یہ ہے کہ شہر کا پورا سویج یعنی ساری گندی نالیوں کا پانی موسیٰ ندی میں شامل ہو جاتا ہے اور اس طرح اسکا شمار ملک کی سب سے گندی ندیوں میں سے ایک ہو نے لگا ہے اگر آپ کسی موٹر کار یا بس کے ذریعہ شہر حیدرآباد کی سیر کر رہے ہیں تو آپ کو بھلے ہی موسیٰ ندی ہری بھری نظرآئے لیکن اس میں سے گذ رنے والے پانی کے رنگ اور جگہ جگہ کچرے اور غلاظت کو دیکھ کر آپ کو شک ہو نے لگتا ہے کہ یہ کوئی ندی نہیں ہوسکتی اور اگر آپ موسیٰ ندی پر موجود کسی پل سے گزر رہے ہیں اور آپ نے غلطی سے بھی اپنی گاڑی کی کھڑکی کھولی تو بد بو دار ہوا کا جھونکا آپ کو فوری کھڑکی بند کرنے پر مجبور کر دے گا ۔لیکن خود حیدرآباد میں رہنے اور بسنے والوں میں سے بہت سارے یہ نہیں جانتے کہ کہ اپنی موسیٰ ندی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔


شہر حیدرآباد سے 70 کلو میٹر دور اننت گیری ہلز تقریباً 4000ایکڑ جنگلاتی علاقہ پر محیط ہیں۔(تصویر:انیس الرحمان خان )۔
شہر حیدرآباد سے 70 کلو میٹر دور اننت گیری ہلز تقریباً 4000ایکڑ جنگلاتی علاقہ پر محیط ہیں۔(تصویر:انیس الرحمان خان )۔


اور آئے اب شہر حیدرآباد کے اس طرف نظر ڈالتے ہیں جو شہر کے مغرب میں واقع ہے ٹریفک اور آلودگی سے متاثر گنجان شہر حیدرآباد کے باسیوں کیلئے شہر کا مغربی علاقہ انہیں آلودگی سے پاک ہوا پہنچانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے شہر کے اسی سمت واقع دو پانی کے ذخیرے عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے اطراف دس کلومیٹر کے علاقہ میں کسی بھی قسم کی تعمیری سرگرمیوں کی ممانعت ہے اس کے علاوہ دونوں ذخائر کے درمیانی علاقہ میں ریزرو فارسٹ واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ زیادہ تر سبز نظر آتا ہے شہر کے نوجوانوں کے ٹولے ہفتہ کے پانچ چھ دن سخت محنت سے اکتا کر سیر کے ارا دہ سے نکلتے ہیں تو ان میں زیادہ تر کا رخ مغرب کی طرف ہی ہوتا ہے اس طرح آگے بڑھتے ہوئے یہ پہلے معین آباد چیوڑلہ اور پھر وقارا آباد پہنچتے ہیں تو انہیں وہاں خوبصورت سر سبز و شاداب پہاڑ نظر آتے ہیں یہ پہاڑی علاقہ اننت گیری ہلز کہلاتا ہے


شہر حیدرآباد سے 70 کلو میٹر دور اننت گیری ہلز تقریباً 4000ایکڑ جنگلاتی علاقہ پر محیط ہیں ،یہاں کی فضا صحت کے نقطۂ نظر سے بہتر سمجھی جاتی ہے آصف جاہی دور حکومت سے ہی اس علاقہ کی اب و ہوا کی اہمیت کا اندازہ لگا لیا گیا تھا اسلئے ان پہاڑیوں پر امراء نے اپنی چھٹیاں گزا رنے کے لئے بنگلے بنوائے تھے خاص طور پر یہاں ٹی بی کے علاج کیلیے ایک سینیٹوریم بنایا گیا تھا جس سے استفادہ علاج کیلئے ہندوستان بھر سے مریض یہاں آتے تھے۔ وقار آباد سے صرف 5کلو میٹر اس علاقہ طبی کی افادیت کی وجہ سے ایک مثل اس طرح مشہور ہیکہ ' وقار آباد کی ہوا سو بیماریوں کی دوا' تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ اس علاقہ کو تلنگانہ کا اوٹی کہتے ہیں ،یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے کچھ اقدامات کے گئے ہیں لیکن اور بہت کچھ کرنا باقی ہے اننت گیری ہلز پر سڑک کے دونوں جانب گھنے جنگلات سے گزرتے وقت محکمہ جنگلات کا نصب کردہ ایک بورڈ وہاں سے گزرنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے ۔جس پر انگریزی اور تلگو میں لکھا ہے 'موسی ریور اوریجن ' یعنی موسی ندی کا مبدا یہی وہ پہاڑ ہے جہاں سے نکلنے والے پانی کے جھرنے اور چشمے چھوٹے چھوٹے نالوں کی شکل میں آگے بڑھ کر ایک ندی کا روپ اختیار کرتی ہے

 انگریزی اور تلگو میں لکھا ہے 'موسی ریور اوریجن ' یعنی موسی ندی کا مبدا یہی وہ پہاڑ ہے۔(تصویر:انیس الرحمان خان )۔
انگریزی اور تلگو میں لکھا ہے 'موسی ریور اوریجن ' یعنی موسی ندی کا مبدا یہی وہ پہاڑ ہے۔(تصویر:انیس الرحمان خان )۔


اس بورڈ کو دیکھ کر سوچنے والے ضرور سو چتے ہوں گے کہ اتنے ہرے بھرے اور خوبصورت صحت افزاء ماحول سے نکلنے والی موسیٰ ندی کا حیدرآباد میں داخل ہوتے شہر کی تمام گندی نالیاں انڈیل کر اسکا کیا حشر کیا جا رہا ہے ویسے اس سے پہلے کی ریاستی حکومتوں نے موسیٰ ندی کو صاف ستھرہ کرنے کیلئے کروڑوں روپئے خرچ کیے لیکن موسیٰ ندی کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا علاحدہ تلنگانہ کے قیام کے بعد بھی موسیٰ ندی کیلئے ایک بورڈ کا قیام کیا گیا لیکن کل ملا کر ابھی تک ایسا کچھ کام نہیں ہوا جس سے ایسا لگے کہ لوگ اپنی گفتگو میں فخر سے موسیٰ ندی کا ذکر کر سکیں ۔

موسیٰ ندی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ۔(تصویر:انیس الرحمان خان )۔
موسیٰ ندی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ۔(تصویر:انیس الرحمان خان )۔
First published: Jan 20, 2020 05:08 PM IST