ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی نے دیا مسلم طلبا کو بڑا تحفہ

بھوپال میں مسلم ایجوکیشن سو سائٹی کا قیام 1992 میں عمل میں آیا تھا۔ ابتدا میں سو سائٹی کے ذریعہ صرف ہونہار طلبا کو اسکالرشپ فراہم کرنے کاکام کیاجاتا تھا۔ بعد از سو سائٹی نےاپنے دائرے میں اسکالرشپ کے ساتھ طلبا کو کیریرگائڈنس کا سلسلہ شروع کیا۔

  • Share this:
مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی نے دیا مسلم طلبا کو بڑا تحفہ
مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی نے دیا مسلم طلبا کو بڑا تحفہ

بھوپال: ملک میں کورونا کے ایکٹو معاملات میں کمی آنے کے بعد معمولات زندگی بھلے ہی جاری ہوگئی ہے، مگر کورونا کا قہر جن لوگوں پر عذاب بن کر ٹوٹا تھا وہ آج اسے یاد کرکے کانپ جاتے ہیں۔ کورونا قہر اور لاک ڈاؤن نے انسانی معمولات کو کس کس طرح متاثر کیا ہے، یہ وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں، جنہوں نے اس عذاب کو قریب سے دیکھا ہے۔ کتنے لوگوں نے اس قہر میں اپنے سرپرستوں کو کھودیا تو کتنے گھروں کے چراغ مالی مشکلات کے سبب  بجھ گئے۔ تعلیم کے خواہشمند طلبا جب مالی مشکلات کا شکار ہوئے تو انہوں نے اپنے تعلیمی سلسلہ کو منقطع کردیا۔ مسلم ایجوکیشن سو سائٹی بھوپال کو جب یہ معلوم ہوا کہ شہر کے بہت سے مسلم طلبا نے اس لئے اپنے تعلیمی سلسلہ کو منقطع کردیا ہے کہ ان کے پاس اسکول کی فیس جمع کرنے کے وسائل ہیں۔ پھر کیا تھا سو سائٹی نے ایسے طلبا کا سروے کیا اور جب وہ طلبا دو بارہ تعلیم جاری کرنے کے لئے راضی ہوئے تو انہیں اسکالرشپ جاری کیا تاکہ وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔

بھوپال میں مسلم ایجوکیشن سو سائٹی کا قیام 1992 میں عمل میں آیا تھا۔ ابتدا میں سو سائٹی کے ذریعہ صرف ہونہار طلبا کو اسکالرشپ فراہم کرنے کا کام کیا جاتا تھا۔ بعد از سوسائٹی نے اپنے دائرے میں اسکالر شپ کے ساتھ طلبا کو کیریئرگائڈنس کا سلسلہ شروع کیا۔ کورونا قہر میں اسکولوں نے آن لائن تعلیم کا سلسلہ تو جاری کیا مگر آن لائن کلاس میں شامل ہونا سب طلبا کے لئے ممکن نہیں تھا۔ سو سائٹی بورڈ امتحان کے پیش نطر ایسے طلبا کے لئے مفت کوچنگ کے ساتھ وہ طلبا جو مالی مشکلات کے سبب تعلیم سے دور ہوگئے تھے، انہیں اسکالرشپ جاری کرتے ہوئے انہیں تعلیم کا موقع فراہم کیا ہے۔



مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پروموشن سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر ظفرحسن کہتے ہیں کہ سوسائٹی کا مقصد مسلم طلبا کو زیادہ سے زیادہ تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ کورونا قہر میں اور لوگوں کی مشکلات کا ہمیں اتنا نہیں معلوم، جتنے قریب سے ہم نے طلبا کی مشکلات کو دیکھا ہے۔ جن طلبا نے مالی مشکلات کے سبب اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کردیا تھا، ہماری کوشش سب سے پہلے ان کے تعلیمی سلسلہ کو جاری کرنے ہے اور اسی کے ساتھ طلبا کے ذہن پر کورونا اور لاک ڈاؤن جو منفی نفسیاتی اثر پڑا ہے، اس سے باہر نکالنا ہے۔ ہم نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے طلبا کو اسکالرشپ دی ہے ساتھ طلبا کی کیریئرکاؤنسلنگ اور ان کی کوچنگ کا بھی انتظام کیا ہے۔


مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریر پروموشن سو سائٹی نے دیا مسلم طلبا کو بڑا تحفہ
وہیں طالبہ منتشی عزیز کہتی ہیں کہ ہم نےکورونا قہر اور لاکھ ڈاؤن کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے تعلیم کے حصول کی ساری امیدیں چھوڑ دی تھیں۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم غریبوں کے لئے بھی کوئی اس طرح آئےگا کہ آپ تعلیم حاصل کیجئے، باقی ذمہ داری ہماری ہے۔ الحمد اللہ جب سے مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پرومو شو سو سائٹی نے تعلیم کے لئے ہماری ذمہ داری لی ہے، ہمارے گھر سے روٹھی ہوئی خوشیاں واپس آگئی ہیں۔
دسویں کی طالبہ سلمیٰ خان کہتی ہیں کہ لوگ کہتے تھے کہ دنیا میں ابھی نیک لوگ ہیں جوغریبوں کے لئے بھی خیرکا معاملہ کرتے ہیں، تو مجھے یقین نہیں ہوتا تھا۔ جب سوسائٹی کے لوگ ہمارے گھر پر آئے اور ہم سے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئےکہا تو بہت دیر تک ہمیں یقین ہی نہیں ہوا کہ یہ جو ہم سن رہے ہیں یہ کوئی خواب ہے یا حقیقت۔ میں نے تو کئی بار اپنی آنکھوں کو مل کر دیکھا کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی ہوں۔ اللہ نے ہمیں بڑا انعقاد دیا ہے۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ ان پر اپنے کرم کا معاملہ عطا فرمائے اورمجھے اس لائق بنائے کہ میں پڑھ لکھ کر دوسروں کا سہارا بن سکوں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 08, 2021 11:59 PM IST