உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ میں تین روپئے روز کی فیس پر مسلم لڑکیاں حاصل کر رہی ہے پیشہ ورانہ کورس کی تربیت

    میرٹھ میں تین روپئے روز کی فیس پر مسلم لڑکیاں حاصل کر رہی ہے پیشہ ورانہ کورس کی تربیت

    میرٹھ میں تین روپئے روز کی فیس پر مسلم لڑکیاں حاصل کر رہی ہے پیشہ ورانہ کورس کی تربیت

    پسماندہ علاقوں میں سماج کا ایک بڑا طبقہ آج بھی سرکاری فلاحی اسکیموں اور مفت ووکیشنل ٹریننگ کورس کا فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہے۔ ایسے میں کئی سماجی تنظیمیں اور سوسائٹی ان علاقوں میں سینٹر قائم کرکے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش تین سال قبل میرٹھ کے دو نوجوانوں نے بھی کی تھی، جو آج دوسروں کے لئے ایک مثال بن گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    میرٹھ: پسماندہ علاقوں میں سماج کا ایک بڑا طبقہ آج بھی سرکاری فلاحی اسکیموں اور مفت ووکیشنل ٹریننگ کورس کا فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہے۔ ایسے میں کئی سماجی تنظیمیں اور سوسائٹی ان علاقوں میں سینٹر قائم کرکے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش تین سال قبل میرٹھ کے دو نوجوانوں نے بھی کی تھی، جو آج دوسروں کے لئے ایک مثال بن گئی ہے۔
    میرٹھ شہر کے پچھڑے علاقوں کے بچوں کے لیے سرکاری ووکیشنل ٹریننگ کورس کے لیے سہولیات کے فقدان اور اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے میرٹھ کے علی فیض اور ادیبہ نے خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ایک ایسا ٹریننگ سینٹر قائم کرنے کا ارادہ کیا، جہاں کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کو سلائی اور بیوٹیشن کا کورس بہت ہی معمولی فیس میں کرنے کی سہولیات فراہم ہو، اپنے ساتھ دوسرے افراد کو جوڑ کر سوسائٹی کے ذریعہ سینٹر تو قائم کر دیا گیا، لیکن سلائی اور بیوٹیشن جیسے پیشہ ورانہ کورس میں لڑکیوں کو داخلہ دلانے کے لئے ان کے والدین کو راضی کرنے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایسے میں ان نوجوانوں کی ٹیم میں کافی محنت کی اور 2018 میں بیس بچوں کے ساتھ شروع کئے گئے اس سینٹر میں آج 500 سے زیادہ غریب لڑکیاں ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔

    سلائی اور بیوٹیشن جیسے پیشہ ورانہ کورس میں لڑکیوں کو داخلہ دلانے کے لئے ان کے والدین کو راضی کرنے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایسے میں ان نوجوانوں کی ٹیم میں کافی محنت کی اور 2018 میں بیس بچوں کے ساتھ شروع کئے گئے اس سینٹر میں آج 500 سے زیادہ غریب لڑکیاں ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔
    سلائی اور بیوٹیشن جیسے پیشہ ورانہ کورس میں لڑکیوں کو داخلہ دلانے کے لئے ان کے والدین کو راضی کرنے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایسے میں ان نوجوانوں کی ٹیم میں کافی محنت کی اور 2018 میں بیس بچوں کے ساتھ شروع کئے گئے اس سینٹر میں آج 500 سے زیادہ غریب لڑکیاں ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔


    بہت کم مینٹیننس فیس میں اس طرح کے پیشہ ورانہ کورس کرنے کی سہولیات اپنے علاقے میں ہی حاصل ہونے کے بعد دھیرے دھیرے داخلہ لینے والی بچیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی، آج مختلف بیچوں میں یہ بچیاں ووکیشنل ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں، ان میں کئی لڑکیوں نے کورس مکمّل کرنے اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقوں میں ٹرینیگ سینٹر اور بیوٹی پارلر کھول کر دوسروں کو تربیت دینے کے ساتھ روزگارکا ذریعہ بھی حاصل کیا ہے۔
    پچھڑے علاقوں میں پروفیشنل ٹریننگ کورس کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے معمولی مینٹیننس فیس میں ان نوجوانوں نے سینٹر کی شروعات تو کی ہے، لیکن بچوں کی بڑھتی تعداد اور سہولیات کے مطابق اب مزید مراکز قائم کرنے کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے فنڈ کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ افراد سماج اور ملّت کے صاحب حیثیت افراد سے آگے آکر مدد کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: