ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک : اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں بھاری کٹوتی پر اقلیتی لیڈروں کے وفد کی وزیراعلی سے ملاقات

کرناٹک حکومت نے معاشی تنگی کے پیش نظر تمام سرکاری محکموں کے بجٹ میں 15 سے30 فیصد تک کی کٹوتی کی ہے۔ لیکن اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں 40 فیصد تک کی کمی کی گئی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک : اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں بھاری کٹوتی پر اقلیتی لیڈروں کے وفد کی وزیراعلی سے ملاقات
کرناٹک : اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں بھاری کٹوتی پر اقلیتی لیڈروں کے وفد کی وزیراعلی سے ملاقات

کرناٹک میں اقلیتی محکمے کےبجٹ میں کئی گئی بھاری کٹوتی پرتشویش کا اظہار کیاجارہاہے۔ بنگلورو میں آج اقلیتی لیڈروں کے وفد نے وزیراعلی بی ایس یدی یورپا سے ملاقات کی ۔ ودھان سودھا میں ہوئی اس ملاقات میں وزیراعلی کو یادداشت پیش کی گئی ۔ ارکان اسمبلی تنویرسیٹھ ، کے جے جارج ، ضمیراحمد خان ، این اے حارث ، کنیزفاطمہ ، ارکان کونسل نصیراحمد ، عبدالجبار، بی ایم فاروق اس وفد میں موجود تھے۔ اس موقع پراقلیتی لیڈروں نے کہا کہ بجٹ2020 -21 میں اقلیتی محکمے کے بجٹ میں 40 فیصد کی کمی کی گئی ہے۔ بدائی اسکیم ، شادی محل ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم اسطرح کی چند بڑی اسکیموں کوختم کیا گیا ہے۔

سابق وزیراقلیتی بہبود اوراوقاف تنویرسیٹھ کی جانب سے دی گئی تحریری عرضداشت میں کہا گیا کہ  سال 2012-13میں محکمہ اقلیتی بہبود کا بجٹ 444 کروڑ 81 لاکھ تھا ۔2018 -19 میں اقلیتی محکمہ کا بجٹ 3004 کروڑروپے تک پہنچا ۔ لیکن اب یعنی 2020-21 کے نئے بجٹ میں اقلیتی محکمہ کا بجٹ صرف 1064 کروڑ 84 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے۔ نئے بجٹ کے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ کرناٹک اردو اکیڈمی کو صرف ایک لاکھ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ جبکہ 2 کروڑپچاس لاکھ روپئے تھا ۔ نہ صرف اقلیتوں بلکہ اردو زبان کے ساتھ بھی ہوئی نا انصافی کا تنویرسیٹھ  نے اپنے مکتوب میں تذکرہ کیا ہے۔

اقلیتی لیڈروں نے بدائی اسکیم کونئے بجٹ میں ختم کئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شادی بھاگیہ کے نام سے مشہور اس اسکیم میں غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے پچاس ہزارروپئے کی مالی اعانت دی جاتی تھی ۔ گزشتہ 6 سالوں سے یہ اسکیم جاری تھی ۔ لیکن اب اچانک اس اسکیم کو ختم کئے جانے کے بعد اقلیتی طبقہ میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ملاقات کے دوران وفد نے اقلیتی طبقہ کے غم اور غصہ سے وزیراعلی کو واقف کروانے کی کوشش کی۔ وفد نے وزیراعلی سے درخواست کی کہ وہ سماجی انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اقلیتوں کی فلاح وبہبود کا خیال رکھیں ۔ اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں کی گئی کمی کو فوری طور پردور کریں۔

ایم ایل سی اور سابق ریاستی وزیرنصیراحمد نے نیوز18اردو کو بتایا کہ وزیراعلی نے اس مسئلہ پرغور کرنے کا  یقین دلایا ہے۔ نصیراحمد نے کہا کہ وزیراعلی سے یہ درخواست کی گئی ہےکہ وہ فوری طور پراسکالرشپ ، پیش امام اور موذن کی تنخواہوں اور اس طرح کی اسکیموں کے فنڈ میں کی گئی کمی کو دورکریں ۔ غریب لڑکیوں کی شادی کی اسکیموں کیلئے رقم مختص کریں۔ بجٹ کی منظوری سے قبل کم سے کم 500 سے600 کروڑروپئے اقلیتی محکمہ کوفراہم  کریں۔ واضح رہے کہ کرناٹک حکومت نے معاشی تنگی کے پیش نظر تمام سرکاری محکموں کے بجٹ میں 15 سے30 فیصد تک کی کٹوتی کی ہے۔ لیکن اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں 40 فیصد تک کی کمی کی گئی ہے۔

First published: Mar 10, 2020 11:10 PM IST