உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک ہائی کورٹ کا تبصرہ- معاہدہ ہے مسلم نکاح، ہندو شادی کی طرح ’سنسکار‘ نہیں

    کرناٹک ہائی کورٹ کا تبصرہ- معاہدہ ہے مسلم نکاح، ہندو شادی کی طرح رسم نہیں

    کرناٹک ہائی کورٹ کا تبصرہ- معاہدہ ہے مسلم نکاح، ہندو شادی کی طرح رسم نہیں

    Karnataka High Court on Muslim Marriage: جسٹس کرشنا ایس دکشت نے 25,000 روپئے کے جرمانے کے ساتھ عرضی مسترد کرتے ہوئے 7 اکتوبر کو اپنے حکم میں کہا، ’نکاح ایک معاہدہ ہے، جس کے کئی مطلب ہیں، یہ ہندووں کی شادی کی طرح ایک ’سنسکار‘ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے‘۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High court) نے کہا ہے کہ مسلم نکاح ایک معاہدہ یا کانٹریکٹ ہے، جس کے کئی مطلب ہیں۔ یہ ہندو شادی کی طرح کوئی ’سنسکار‘ نہیں اور اس کے ٹوٹ جانے سے بنے کچھ حقوق اور فرائض سے پیچھے نہیں ہٹا جاسکتا۔ یہ معاملہ بنگلورو کے بھونیشوری نگر میں 52 سال کے اعجازالرحمن کی ایک عرضی سے متعلق ہے، جس میں 12 اگست، 2011 کو بنگلورو میں ایک فیملی عدالت کے پہلے ایڈیشنل پرنسپل جج کا فیصلہ منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

      اعجاز الرحمن نے اپنی اہلیہ سائرہ بانو کو پانچ ہزار روپئے کے ’مہر‘ کے ساتھ شادی کرنے کے کچھ ماہ بعد ہی 25 نومبر، 1991 کو ’طلاق‘ دے دیا تھا۔ اس طلاق کے بعد اعجاز الرحمن نے دوسری شادی کی، جس سے وہ ایک بچے کے والد بن گئے۔ سائرہ بانو نے اس کے بعد گزارہ بھتہ لینے کے لئے 24 اگست، 2002 میں ایک دیوانی مقدمہ داخل کیا تھا۔ فیملی عدالت نے حکم دیا تھا کہ مدعی مقدمے کی تاریخ سے لے کر اس کے انتقال تک یا اس کی دوبارہ شادی یا مدعا علیہ کے انتقال تک 3000 روپئے ماہانہ گزارا بھتہ کی حقدار ہے۔

      عدالت نے احکامات میں کہی تھیں یہ باتیں

      جسٹس کرشنا ایس دکشت نے 25,000 روپئے کے جرمانے کے ساتھ عرضی مسترد کرتے ہوئے 7 اکتوبر کو اپنے حکم میں کہا، ’نکاح ایک معاہدہ ہے، جس کے کئی مطلب ہیں، یہ ہندووں کی شادی کی طرح ایک ’سنسکار‘ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے‘۔ جسٹس کرشنا ایس دکشت نے تفصیل سے کہا کہ مسلم نکاح کوئی رسم نہیں ہے اور یہ اس کے ختم ہونے کے بعد پیدا ہوئے کچھ فرائض اور حقوق سے بھاگ نہیں سکتا‘۔ بینچ نے کہا، ’طلاق کے ذریعہ شادی کا بندھن ٹوٹ جانے کے بعد بھی دراصل فریقین کے سبھی فرائض اور ذمہ داری پوری طرح ختم نہیں ہوتی ہیں‘۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں میں ایک معاہدہ کے ساتھ نکاح ہوتا ہے اور یہ آخر کار وہ صورتحال اختیار کرلیتا ہے، جو عام طور پر دیگر طبقات میں ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا، ’یہ صورتحال بعض جائز ذمہ داریوں کو جنم دیتی ہے۔ وہ ذمہ داریاں ہیں، جو معاہدے سے پیدا ہوتی ہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: