ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اردو کو اس کا حق دلانے کے لئے مدھیہ پردیش میں شروع ہوئی تحریک، ریاستی اور مرکزی حکومت کو بھیجا گیا میمورنڈم

اردو کو اس کا حق دلوانے کو لے کر مدھیہ پردیش میں ڈاکٹر اے پی جے کلام ایجوکیشن سینٹرنے خصوصی تحریک شروع کی ہے۔ سوسائٹی نے اپنے مطالبات کو لےکر نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ مرکزی حکومت اور وزارت انسانی وسائل کو میمورنڈم بھیجا ہے۔

  • Share this:
اردو کو اس کا حق دلانے کے لئے مدھیہ پردیش میں شروع ہوئی تحریک، ریاستی اور مرکزی حکومت کو بھیجا گیا میمورنڈم
اردو کو اس کا حق دلانے کے لئے مدھیہ پردیش شروع ہوئی تحریک

بھوپال: نئی تعلیمی پالیسی کو لے کر حکومت کی سطح پر بھلے ہی اطمینان کا اظہار کیا ہو، لیکن عوامی سطح پر نئی تعلیمی پالیسی کے بعض نکات کو لےکر مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ سماجی تنظیمیں نئی تعلیمی پالیسی کو کمزور طبقہ کے لئے جہاں زہر ہلاہل بتا رہی ہیں وہیں اردو کو نئی تعلیمی پالیسی میں جگہ نہیں دینے پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ اردو کا وطن ہندوستان ہے۔ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور جوان اور اب اس کی شیرینی اورلطافت کی گونج صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے ایک اہم رابطہ کی زبان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں ہندوستان کے علاوہ دنیا کے 44 ممالک کے نصاب میں اردو شامل ہے۔ اس کے باوجود اردو کو اس کے ملک میں اور یہاں کی نئی تعلیمی پالیسی میں اس کا حق نہ دینے اور اس کے ساتھ زیادتی کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

اردو کو اس کا حق دلوانے کو لے کر مدھیہ پردیش میں ڈاکٹر اے پی جے کلام ایجوکیشن سینٹر نے خصوصی تحریک شروع کی ہے۔ سوسائٹی نے اپنے مطالبات کو لےکر نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ مرکزی حکومت اور وزارت انسانی وسائل کو میمورنڈم بھیجا ہے۔ ڈاکٹر اے پی جے کلام ایجوکیشن سینٹر کے ڈائریکٹر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تین دہائیوں کے بعد تعلیمی پالیسی آئی ہے، جس میں بعض نکات اچھے ہیں، ان کی تعریف کی جانی چاہئے، لیکن اردو کو لے کر حکومت نے اپنا جو رویہ دکھایا ہے، وہ افسوسناک ہے۔




حکومت نے اپنے اقدام سے بتادیا کہ اردو اس ملک کی زبان نہیں ہے جبکہ دنیا جانتی ہے کہ اردو اسی ملک میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی پروان چڑھی اور اس کے فروغ میں نہ صرف مسلمان بلکہ تمام قوموں کے لوگوں نے اپنا خون جگر شامل کیا ہے۔ ہم اردو کے حق اور اردو میں تعلیم دینے کے حق کو لے کر آخری دم تو لڑیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں اپنے کامیابی ملے گی۔وہیں سماجی کارکن اور مدھیہ پردیش انسانی برادری تنظیم کے سکریٹری یاسر انصاری کہتے ہیں کہ نئی تعلیمی پالیسی سے اردو کو دورکرنے کے حکومت کو قدم کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔



ہندوستان میں سنسکرت زبان سے جو زبان نکل کر سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک اردو بھی ہے۔ ہم سنسکرت کو ہندستانی زبان نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس زبان کو آرین اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، لیکن اردو تو خالص ہندوستانی زبان ہے اور اس زبان کو اس کے اپنے ہی وطن میں محروم کرنا کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے کو لے کر کل ہم لوگوں نے بھوپال میں ایک ویبنار بھی منعقد کیا ہے، جس میں مدھیہ پردیش کے دانشور شامل ہوں گے اور اس وبینار سے جو کچھ بھی نکات نکل کر سامنے آئیں گے انہیں میمورنڈم کی شکل میں حکومت کو پیش کیا جائے گا۔
وہیں اردو کے نئے تخلیق کار مجاہد خان کہتے ہیں کہ حکومت کے عمل سے تو یہی لگتا ہے کہ اردو ایک مخصوص طبقے کی زبان ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اردو پرہر عہد میں غیر مسلم فنکاروں کی حکومت رہی ہے۔ اردو سے اگر غیر مسلم فنکاروں کو الگ کردیا جائے تو اردو کی حالت ایسی ہو جائے گی، جیسے روح کے بغیر جسم ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اردو کو تعلیمی پالیسی میں شامل کرے اور اردو زبان سے محبت کرنے والے اور اردو سے تعلیم حاصل کرنے والے کو ان کا حق دے تاکہ اردو والے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
وہیں رومی رحمن کہتے ہیں کہ اردو مشترکہ تہذیب کی زبان ہے۔ حکومت کے عمل سے تو ایسا لگتا ہے کہ پریم چند، گوپی چند نارنگ، رگھوپتی سہائے فراق، آنند نرائن ملا، دیا شنکر نسیم، غالب، میر، اقبال، جگن ناتھ آزاد نے جو قیمتی سرمایہ اردو میں تخلیق کیا ہے، اب اس کا وجود ختم کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے، لیکن ہم اردو والے جیتے جی ایسا نہیں ہونے دیں گے اور تب تک لڑیں گے، جب تک شیریں زبان اردو کو اس کا حق نہیں مل جاتا ہے۔

وہیں سماجی کارکن پرویز عزیرکہتے ہیں کہ اگر تعلیمی پالیسی میں اردو کو شامل نہیں کیا گیا ہے تو اس کے لئے حکومت کے ساتھ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں، جنہیں حکومت نے اس کمیٹی میں شامل کیا تھا۔ ہم لوگ حکومت سے مطالبہ کرنے کے ساتھ ان لوگوں کے خلاف بھی تحریک چلائیں گے تاکہ ایسے مفاد پرست اردو والوں کے چہرے بے نقاب ہوسکیں اور اردو والے جان سکیں کہ ان کی آستینوں میں سانپ کتنے ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی ٹکنا لوجی پر بہت فوکس کیا گیا ہے۔ اچھی بات ہے ٹکنالوجی کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے، لیکن جس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ابھی تک ٹکنالوجی سے دور ہے، جس ملک میں ابھی سبھی گاؤں میں بجلی اور انٹرنیٹ نہیں پہنچے ہیں، وہاں پر نئی تعلیمی پالیسی کس طرح اپنا کام کرے گی، یہ بھی طے کیا جا نا چاہئے۔ کیونکہ کورونا کے قہر میں ہم نے دیکھا ہے کہ آن لائن کلاسیز تو ہوتی ہیں، لیکن اس میں مزدور اور مجبور لوگوں کے بچے شامل ہی نہیں پاتے ہیں۔ ہرگھر میں نہ تو موبائل ہے اور نہ ہر بچے کی اتنی اسطاعت ہے کہ وہ موبائل خرید سکے اور جس گھر میں چار بچے ہیں ان کے یہاں ایک فون ہے تو وہاں پر وہ بچے کیسے تعلیم حاصل کریں۔ ایک جانب حکومت سروشکشا ابھیان کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب اپنی پالیسی سے غریب اور مزدور طبقے کو خود ہی تعلیم کے حق سے محروم کر رہی ہے، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 17, 2020 11:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading