بابری مسجد - رام جنم بھومی تنازعہ: 1949 میں بتوں کا ظاہر ہونا کوئی آسمانی معجزہ نہیں

اجودھیا کے رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع پرسپریم کورٹ میں آج 18 ویں روز سماعت کےدوران مسلم فریق نےکہا کہ مسجد کےاندر1949 میں بتوں کا ظاہرہونا کوئی آسمانی معجزہ نہیں، بلکہ وہ ایک منظم حملہ تھا۔

Sep 03, 2019 10:23 PM IST | Updated on: Sep 03, 2019 10:25 PM IST
بابری مسجد - رام جنم بھومی تنازعہ: 1949 میں بتوں کا ظاہر ہونا کوئی آسمانی معجزہ نہیں

مسلم فریق نےکہا کہ 1949 میں بتوں کا ظاہر ہونا کوئی آسمانی معجزہ نہیں۔

نئی دہلی: اجودھیا کے رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع پرسپریم کورٹ میں آج 18 ویں روز سماعت کے دوران مسلم فریق نےکہا کہ مسجد کےاندر1949 میں بتوں کا ظاہرہونا کوئی آسمانی معجزہ نہیں، بلکہ وہ ایک منظم حملہ تھا۔ سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیش سینئروکیل راجیو دھون نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اورجسٹس ایس عبد النذیرکی آئینی بنچ کے سامنے اپنی دلیل دی کہ متنازع اراضی کے ڈھانچےکےمحراب کےاندرکےمخطوطات پرلفظ ’اللہ‘ ملا ہے۔ مسلم فریق کے وکیل یہ واضح کرنے کی کوشش کررہےتھےکہ متنازع مقام پرمندرنہیں بلکہ مسجد تھی۔

انہوں نےکہا کہ بابری مسجد میں بھگوان رام للا کی مورتی قائم کرنافریب سے حملہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ’مسجد کےاندر1949 میں بتوں کا ظاہرہونا کوئی آسمانی معجزہ نہیں بلکہ وہ ایک منظم حملہ تھا‘۔ فاضل وکیل نےکہا کہ اجودھیا تنازع پرروک لگنا چاہئے۔ اب رام کےنام پرپھرکوئی رتھ یاترا نہیں نكلنی چاہئے۔ راجیودھون نےکہا کہ ملک کےآزاد ہونے کی تاریخ اورآئین کےقیام کےبعد کسی مذہبی مقام کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ محض خود ساختہ ہونےکی بنیاد پریہ نتیجہ نہیں نکالاجا سکتا کہ فلاں مقام کس کا ہے۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ نرموہی اکھاڑا نےغلط طریقہ سے1934 میں غیرقانونی قبضہ کیا۔ اس دوران وقف انسپکٹرکی جانب سےاس کی رپورٹ بھی پیش گئی۔ انہوں نےکہا کہ مسجد کا دروازہ بند رہتا تھا اورچابیاں مسلمانوں کے پاس رہتی تھی۔ جمعہ کو2-3 گھنٹےکےلئےکھول دیا جاتا تھا اورصفائی کے بعد جمعہ کی نماز پڑھی جاتی تھی۔ تمام دستاویزات اور گواہوں کے بیان سےثابت ہےکہ مسلمان ، مسجد کے اندر کے حصے میں نماز پڑھتے تھے۔

انہوں نےکہا کہ ہم سےکہا جاتا رہا کہ آپ کو متبادل جگہ دی جائے گی۔ پیشکش کرنے والے جانتے تھے کہ ہمارا دعویٰ مضبوط ہے۔ ڈھانچے کے پاس پکا راستہ ’پریکرما ‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ’پریکرما‘ پوجا کا ایک طریقہ ہے، لیکن کیا’پریکرما‘ سے زمین پر ان کا حق ہو جائے گا؟ انہوں نے دلیل دی کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہیں پر بھگوان رام کی جائے پیدائش کی جگہ ہے، اس کے بعد کہتے ہیں کہ وہاں پر خوبصورت مندر تھا اور ان کو پوری جگہ چاہئے۔اگر ان خود ساختہ دلیل کومانا جاتا ہے تو ان کو پوری زمین مل جائے گی، مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں ملےگا، جبکہ مسلمان بھی اس زمین پر اپنا دعویٰ پیش کر رہے ہیں۔

سماعت کل بھی جاری رہے گی۔

Loading...