اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نےکہا- رام چبوترے پرپوجا سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بینچ معاملے کی سماعت کررہی ہے، سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے دلیل دی ہے کہ رام چبوترہ پرنرموہی اکھاڑہ کا مالکانہ حق نہیں ہے۔

Sep 05, 2019 11:04 PM IST | Updated on: Sep 05, 2019 11:08 PM IST
اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نےکہا- رام چبوترے پرپوجا سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں

اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نےکہا- رام چبوترے پرپوجا سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں آج 20 ویں دن اجودھیا تنازعہ معاملے کی سماعت ہوئی۔ اس دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بینچ کے سامنے مسلم فریق سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ نرموہی اکھاڑہ رام چبوترے پر1855 سے پوجا کرتا تھا۔ اس پرہمیں کہنا ہےکہ رام چبوترے پرپوجا اورپوجا کے اختیارسے ہم نے کبھی انکارنہیں کیا، لیکن اس جگہ پرمالکانہ حق نرموہی اکھاڑہ کے پاس کبھی نہیں تھا۔ اس جگہ کا مالکانہ حق ہمارے پاس تھا۔ اب معاملےکی اگلی سماعت بدھ کوہوگی۔

بینچ نے راجیو دھون سے پوچھا یہ سوال

Loading...

سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیودھون نےکہا کہ نرموہی اکھاڑہ 1734 سے رام چبوترے پر پوجا کرنےکا دعویٰ کرتا ہے۔ حالانکہ میں کہہ سکتا ہوں کی یہ باہری آنگن میں1855 سے تھے۔ باہری آنگن میں ہی رام چبوترا تھا۔ رام چبوترے پرپوجا اورپوجا کے حقوق کوہم نے کبھی منع نہیں کیا، لیکن تنازعہ پوری زمین کے مالکانہ حق کولےکرہے۔ اس پربینچ میں شامل جسٹس عبدالنذیرنے پوچھا 'آپ مان رہے ہیں کہ آپ اورنرموہی اکھاڑہ اس جگہ ایک ساتھ رہے تھے'۔

سنی وقف بورڈ نے کہا کہ زمین کا مالکانہ حق ہمارے پاس تھا۔ سنی وقف بورڈ نے کہا کہ زمین کا مالکانہ حق ہمارے پاس تھا۔

راجیو دھون نے دی یہ دلیل

راجیودھون نےبینچ کے سوال پردلیل دی کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ نرموہی اکھاڑہ کے پاس مالکانہ حق تھا۔ مالکانہ حق ہمیشہ سنی وقف بورڈ کے پاس تھا۔ نرموہی اکھاڑہ رام چبوترہ پر پوجا کرتا تھا۔ ہم اسےمانتے ہیں کہ اس جگہ پوجا کا حق ان کا ہے۔ نرموہی اکھاڑہ باہری آنگن میں رام چبوترا پرپوجا کرتا تھا۔ انہوں نےاس بارے میں مہنت بھاسکرداس کے بیان کا حوالہ دیا۔ انہوں نےمانا تھا کہ مورتیوں کومتنازعہ ڈھانچے میں رکھا گیا تھا۔ میں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مورتی کواندروالے آنگن میں شفٹ کیا گیا۔ اس بارے میں ثبوت بھی ہیں۔ واضح رہے کہ 1949 میں ڈی ایم کے کے نائراورسٹی مجسٹریٹ گرودت سنگھ کے فوٹوگراف بھی پیش کئےگئے۔

راجیو دھون نے کہا کہ نرموہی اکھاڑہ کے گواہوں اورثبوتوں میں تضاد ہے۔ راجیو دھون نے کہا کہ نرموہی اکھاڑہ کے گواہوں اورثبوتوں میں تضاد ہے۔

بینچ نے پوچھا، کیا آپ متفق ہیں کہ دیکھ بھال کا حق اکھاڑہ کو ہے؟

راجیودھون نےکہا کہ نرموہی اکھاڑہ کےگواہوں اورثبوتوں میں تضاد ہے۔ ایک گواہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے 14 سال کی عمرمیں راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) جوائن کرلیا تھا۔ بعد میں آرایس ایس اوروشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے انہیں اعزازسے سرفرازکیا تھا۔ ایک دیگرگواہ نے 200 سےزیادہ معاملوں میں گواہی دی تھی۔ وہ کہتا ہےکہ ایک جھوٹ بولنےمیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ اس پرجسٹس ڈی وائی چندرچوڑنےکہا کہ گرچہ گواہوں کے بیان میں تضاد ہے، لیکن آپ ابھی تک متفق ہیں کہ دیواستھان کی دیکھ بھال کا حق نرموہی اکھاڑہ کوہے۔ اگرآپ اسے قبول کرتے ہیں توان کے سبھی ثبوتوں کوماننا پڑے گا۔ اس پر جسٹس چندرچوڑنے راجیو دھون سے کئی سوال کئے۔

Loading...