உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظاہرین کے خلاف کارروائی پر AIMPLB برہم، ملزمان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک لاقانونیت اور دہشت گردی

    مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل نے  کہا ہے کہ اس وقت حکومت جس لاقانونیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی ملزموں کے ساتھ مجرموں کا سا سلوک کر رہی ہے حد درجہ افسوس ناک اور خود دہشت گردی کی ایک صورت ہے۔

    مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل نے  کہا ہے کہ اس وقت حکومت جس لاقانونیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی ملزموں کے ساتھ مجرموں کا سا سلوک کر رہی ہے حد درجہ افسوس ناک اور خود دہشت گردی کی ایک صورت ہے۔

    مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل نے  کہا ہے کہ اس وقت حکومت جس لاقانونیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی ملزموں کے ساتھ مجرموں کا سا سلوک کر رہی ہے حد درجہ افسوس ناک اور خود دہشت گردی کی ایک صورت ہے۔

    • Share this:
    مظاہرین کے خلاف کارروائی کو لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے برہمی کا اظہار کیا ہے خاص طور پر مظاہرین کی گرفتاری اور گھروں پر مل کر کاروائی کو لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ یہ لاقانونیت اور دہشت گردی ہے کہ ملزموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جائے۔
    حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ اس وقت حکومت جس لاقانونیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی ملزموں کے ساتھ مجرموں کا سا سلوک کر رہی ہے حد درجہ افسوس ناک اور خود دہشت گردی کی ایک صورت ہے ۔

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کومسلمان اپنی جان اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں ، مگر ایک تو بر سراقتدار پارٹی کے نمائندہ اور ترجمان نے گستاخی کر کے مسلمانوں کا دل زخمی کیا ہے اور پھر بجاۓ اس کے کہ اس بد زبان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آتی ، الٹے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑ کا جار ہا ہے ۔ جولوگ اس ناشائستہ حرکت کے خلاف پرامن طریقہ پراحتجاج کرر ہے ہیں ،ان کے خلاف کیس درج کیا جارہا ہے ، ان پر اٹھی چارج ہورہا ہے ، اور ان کے گھروں کومسمار کیا جارہا ہے، جب تک ایک شخص پر کورٹ کے ذرایہ جرم ثابت نہ ہو جاۓ ، اس وقت تک وہ صرف ملزم ہے، اس کے ساتھ مجرموں کا سا سلوک کر نالا قانونیت ہے اور جس گستاخ کا جرم مشت از بام ہے، میڈ یا پرموجود ہے اور اس جرم کوتسلیم بھی کیا گیا ہے ،اس بنا پر پارٹی نے اس کو معطل کیا ہے ،اس کے خلاف حکومت کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کرنا یقینا انصاف کا قتل ہے ۔ کیا قانون احتجاج کرنے اور پھر چھینکنے کی وجہ سے کسی کا گھر گرادینے اور اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانے کی وجہ سے کسی شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
    آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مرکزی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ الی نامنصفانہ حرکت سے باز آئے ، پھر چھنکنے والے جو بھی ہوں ، چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان تحقیق کے بعد ان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جاۓ ، پھر عدالت جو فیصلہ کرے، اس کو نافذ کیا جاۓ ۔ ریاستی حکومت کا موجودہ رویہ قطعا نا قابل قبول اور اشتعال کو بڑھاوا دینے والا ہے ۔ اپنی حرکتوں سے امن وامان کی فضا قائم ہونے کی بجاۓ شر وفساد اور نفرت کا ماحول پیدا ہوگا ۔ اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر اس معاملہ میں گرفتاراوگوں کو رہا کیا جائے ، ان کے خلاف عدالت میں معاملہ پیش کیا جائے ،جن لوگوں کی جانیں گئیں اور جو بھی ہوئے ہیں ان کے پسماندگان کو اس کا خیر اور معاوضہ دیاجائے اور جن پولیس جوانوں نے قانون کی حد سے تجاوز کیا ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ بورڈ مسلمانوں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ نمبر سے کام لیں۔

    Amarnath یاتریوںکی نقل و حمل پر نظر رکھنے کیلئے ریڈیو فریکوئنسی چپ گاڑیوں میں ہوں گی نصب

     

     

    ملک میں مسلسل تیسرے دن 8ہزار سے زائد Covid-19 کے معاملے، گزشتہ 24 گھنٹے میں 10 کی موت

    گستاخ رسول کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کر نے کے لئے مقامی سرکاری عہدہ داروں کو میمورنڈم پیش کر میں ، پولیس مظالم کے شواہد جمع کر کے ملی تظیموں کے سپردکر میں کہ دو ایسے پولیس جوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کراسکیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فرقہ پرست عناصر چاہتے ہی ہیں کہ آپ مشتعل ہوں اور پولیس اس کو ظلم وزیادتی کا بہانہ بناۓ ہمیں چاہئے کہ ان کو اس کا موقع نہ میں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: