ایودھیا معاملہ: مسلم فریق کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ریویوپٹیشن

ایودھیا تنازعہ میں مسلم فریق نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی عرضی دائرکردی ہے۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے اس معاملے پراپنا فیصلہ دیا تھا۔

Dec 02, 2019 04:46 PM IST | Updated on: Dec 02, 2019 04:59 PM IST
ایودھیا معاملہ: مسلم فریق کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ریویوپٹیشن

ایودھیا معاملہ پرسپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن۔

نئی دہلی: ایودھیا کے بابری مسجد - رام جنم بھومی معاملے پرقانونی لڑائی ابھی تھمنے والی نہیں ہے۔ پیرکوآئینی بینچ کے فیصلےکےخلاف ایک مسلم فریق کی جانب سے سپریم کورٹ میں  نظرثانی کی عرضی (ریویوپٹیشن) داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے 9 نومبرکوبابری مسجد - رام جنم بھومی پرفیصلہ دیا تھا۔ اس میں متنازعہ زمین رام للا وراجمان کودینے کا حکم دیا گیا تھا۔ وہیں دوسری جانب  مسجد کےلئےالگ سے پانچ ایکڑزمین مہیا کرانےکےاحکامات دیئےگئے تھے۔

مولانا سید رشیدی نے داخل کی ریویو پٹیشن

Loading...

ایودھیا تنازعہ میں دہائیوں کے بعد سپریم کورٹ نےنومبرمیں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس معاملے میں اب ایودھیا کےاصل تنازعہ کے قانونی وارث مولانا سید اشہد رشیدی نےآئینی بینچ کے فیصلےکے خلاف پیر(2 دسمبر 2019) کوریویوپٹیشن داخل کی ہے۔ اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ ہندوفریق کے حق میں سناتے ہوئےمتنازعہ زمین اس کے حوالےکردیا تھا جبکہ مسجد کی تعمیرکےلئےایودھیا میں کسی مناسب مقام پرپانچ ایکڑزمین دینے کا بھی حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس دوران بابری مسجد کے انہدام اورمورتی رکھنے کوغیرقانونی قراردیاتھا۔

پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے دیا تھا فیصلہ

سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے دہائیوں پرانے ایودھیا تنازعہ پراتفاق رائے سے فیصلہ دیا تھا۔ کسی بھی جج نے اس فیصلے پراپنی مخالفت درج نہیں کرائی تھی۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد سے ہی کئی مسلم فریق اورتنظیموں نے فیصلے کے خلاف دوبارہ عدالت جانے کی بات کہی تھی۔ حالانکہ اس فیصلے کے خلاف ریویوپٹیشن داخل کرنے کولے کرمسلم فریق میں ہی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ ریویوپٹیشن داخل کرنے کے خلاف ہے۔

Loading...