ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آر ایس ایس کے تعلیمی اداروں میں کیوں بڑھ رہی ہے مسلم بچوں کی تعداد؟

ودیا بھارتی کے زیر انتظام جتنے بھی تعلیمی ادارے چلائے جا رہے ہیں ، ان میں آر ایس ایس کے طے شدہ نصاب کے مطابق ہی تعلیم دی جاتی ہے ، جس میں سروستی وندنا ، وندے ماترم اور کھانے سے پہلے’’ منتر اچارن’’ کی تعلیم لازمی ہے ۔

  • Share this:
آر ایس ایس کے تعلیمی اداروں میں کیوں بڑھ رہی ہے مسلم بچوں کی تعداد؟
آر ایس ایس کے تعلیمی اداروں میں کیوں بڑھ رہی ہے مسلم بچوں کی تعداد؟

الہ آباد : اترپردیش میں آر ایس ایس کے زیرانتظام چلائے جا رہے تعلیمی اداروں میں مسلم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ آر ایس ایس کا دعویٰ ہے کہ معیاری تعلیم اور بہترین تربیت کی وجہ سے مسلم سماج کے بچے ان اداروں میں بڑی تعداد میں داخلہ لے رہے ہیں ۔ آر ایس ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم ذہنوں میں آرہی اس تبدیلی سے آرایس ایس کے تعلق سے مسلم سماج میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جائے گا ۔


الہ آباد شروع سے ہی سنگھ پریوار کا مضبوط گڑھ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ الہ آباد کو آر ایس ایس کی اصطلاح میں ’’ کاشی پرانت ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ مشرقی یو پی میں ریاست کے  49 اضلاع آتے ہیں ۔ ان اضلاع میں آر ایس ایس کے ذریعہ چلائے جا رہے تعلیمی اداروں کی تعداد 1194  تک پہنچ چکی ہے ۔ آر ایس ایس کے مطابق تین برس پہلے تک ان تعلیم اداروں میں  6890 مسلم بچے تعلیم  حاصل کر رہے تھے ۔ لیکن اب یہ تعداد بڑھ  کر 9 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔ آر ایس ایس کے ایک سینئر عہدے دار رام جی سنگھ  کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ذریعہ چلائے جا رہے تعلیمی اداروں میں مسلم بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔


ودیا بھارتی آر ایس ایس کی تعلیمی شاخ ہے ، جس کا کام تعلیمی اداروں کو قائم کرنا اور ان کو منظم کرنا ہے ۔ ودیا بھارتی کے زیر انتظام جتنے بھی تعلیمی ادارے چلائے جا رہے ہیں ، ان میں آر ایس ایس کے طے شدہ نصاب کے مطابق ہی تعلیم دی جاتی ہے ، جس میں سروستی وندنا ، وندے ماترم اور کھانے سے پہلے’’ منتر اچارن’’ کی تعلیم لازمی ہے ۔ آر ایس ایس کے عہدیداران کا دعویٰ ہے کہ مسلم سماج سے آنے والے بچے بغیر کسی دشواری کے ضابطے کی پوری پابندی کرتے ہیں ۔


آرایس ایس کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں مسلم بچوں کے ساتھ کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک سے آر ایس ایس کے ذمہ داران سختی سے انکار کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت مسلم سماج تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ مسلم والدین اپنے بچوں کو سستی اور معیاری تعلیم دلانا چاہتے ہیں اور یہ کام آر ایس ایس کے تعلیمی ادارے بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ آر ایس ایس کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں سنگھ  کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں میں مسلم بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
First published: Feb 23, 2020 10:24 PM IST