اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نےکہا- ہندوؤں نےبابری مسجد توڑی، متنازعہ زمین پرمندرکا کوئی ثبوت نہیں

سپریم کورٹ میں اجودھیا کے بابری مسجد - رام جنم بھومی تنازعہ معاملے میں پیرکو بھی سماعت ہوئی۔

Sep 02, 2019 10:42 PM IST | Updated on: Sep 02, 2019 10:42 PM IST
اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نےکہا- ہندوؤں نےبابری مسجد توڑی، متنازعہ زمین پرمندرکا کوئی ثبوت نہیں

مسلم فریق نےکہا کہ بابری مسجد - رام جنم بھومی متنازعہ زمین پر مندرکا کوئی ثبوت نہیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازعہ کی آج 17ویں دن سماعت ہوئی،جس میں سنی وقف بورڈ نےدلیل دی کہ متنازعہ مقام پرمندرکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بورڈ کی جانب سے پیش سینئروکیل راجیو دھون نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی،جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اورجسٹس ایس عبدالنظیرکی آئینی بینچ کے سامنے اپنی دلیلیں شروع کیں۔ انہوں نےکہا کہ متنازعہ مقام پرمندرکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آثار قدیمہ سروے (اے ایس آئی)کا محکمہ بھی یہ ثابت نہیں کرپایا ہے۔ دھون نے دلیل دی کہ اجودھیا میں لوگوں کے ذریعہ پریکرما کرنےسے متعلق ایک دلیل ہندو فریق نے دی ہے،لیکن پوجا کےلئے کی جانے والی بھگوان کی پریکرما کوئی ثبوت نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا پریکرما پوجا کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں ہندو فریق نےدلیل دی تھی، لیکن وہ ثبوت نہیں ہوسکتا۔ ہندو فریقوں نے حملے پر دلیل دی ہے۔ میں اس میں نہیں جانا چاہتا۔میں حملےکی دلیل کوخارج کرتا ہوں۔ دوسری فریق یعنی ہندو فریقوں میں سےکسی نے بھی حقائق پرجرح نہیں کی۔ صرف رنجیت کمار(گوپال سنگھ وشارد کے وکیل)نے حقائق پردلیل دی ہے۔ اس سے قبل انہوں نےکہا کہ وہ اپنی دلیلوں کے لئے20 دن کا وقت لیں گے۔

Loading...

Loading...