ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریک سے مسلم خواتین میں بڑھ رہی ہے سیاسی بیداری

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اٹھنے والی اس تحریک کی قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس تحریک کے مرکز میں صرف مسلم خواتین ہیں اور مرد کنارے کھڑے ہو کر مسلم خواتین میں آنے والی اس سیاسی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریک سے مسلم خواتین میں بڑھ رہی ہے سیاسی بیداری
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریک سے مسلم خواتین میں بڑھ رہی ہے سیاسی بیداری

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف مسلم خواتین کی احتجاجی تحریک نے مسلم سماج کی روایتی سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔ عام طور سے گھروں کی چہار دیواری کے اندر رہنے والی خواتین بھی شہریت ترمیمی قانون کےخلاف سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کر رہی ہیں ۔ احتجاجی دھرنوں میں شامل خواتین میں بیشتر تعداد ایسی خواتین کی ہے، جو اس پہلے کسی عوامی یا سیاسی تحریک میں شامل نہیں ہوئی تھیں ۔ خواتین کے ساتھ ساتھ احتجاجی دھرنوں میں نو عمر بچوں کی بھی خاصی تعداد  دیکھنے کو مل رہی ہے۔

شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف الہ آباد کا روشن باغ گزشتہ ایک ہفتہ سے مسلم خواتین کے احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ شہریت قانون کے خلاف احتجاجی دھرنے کی شروعات ایک ہفتہ پہلے ہوئی تھی ۔ دھرنے کی شروعات میں خواتین کی تعداد بہت کم تھی ، لیکن دوسرے دن سے ہی مسلم خواتین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا۔ دھرنے میں شامل بیشتر خواتین پہلی مرتبہ کسی سیاسی تحریک کا حصہ بنی ہیں ۔ روشن باغ میں چلنے والے احتجاجی دھرنے پر مسلم خواتین کا پوری طرح سے کنٹرول ہے ۔ شہر کے تاریخی منصورعلی پارک میں ہونے والے اس احتجاجی دھرنے میں ہر وقت سیاسی نعروں اور تقریروں کی گونج سنائی دیتی ہے ۔


شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف الہ آباد کا روشن باغ گزشتہ ایک ہفتہ سے مسلم خواتین کے احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ تصویر : مشتاق عامر ۔


احتجاج میں شامل ہزاروں با پردہ خواتین دھرنے میں موجود رہ کر ایک طرح سے سیاسی تربیت حاصل کر رہی ہیں ۔ دھرنے میں شامل بعض خواتین مانتی ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہی تحریک سے مسلم خواتین میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے ، جسے کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ دن رات چلنے والے احتجاجی دھرنے میں مسلم خواتین کو ملک کے آئین اور جمہوری حقوق کے بارے بتایا جا رہا ہے ۔
روشن باغ احتجاجی دھرنے میں مجاہدین آزادی کی قربانیوں اور جنگ آزادی کی داستانیں بھی سنائی جا رہی ہیں ۔ احتجاجی دھرنے میں شامل سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین میں جو سیاسی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں ، اس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے ۔ روشن باغ احتجاجی دھرنے میں ایسی مسلم خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے ، جو اس پہلے کسی سیاسی تحریک میں شامل نہیں ہوئی تھیں ۔ ہمیشہ پردے  کے پیچھے رہنے والی خواتین اب سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں ۔ یہ خواتین ایک سیاسی تحریک سے خود کو جوڑنے پر فخر کا اظہار کر رہی ہیں ۔

خواتین کے ساتھ ساتھ احتجاجی دھرنوں میں نو عمر بچوں کی بھی خاصی تعداد دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تصویر : مشتاق عامر ۔


شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اٹھنے والی اس تحریک کی قابل ذکر بات یہ  بھی ہے کہ اس تحریک کے مرکز میں صرف مسلم خواتین ہیں اور مرد کنارے کھڑے ہو کر مسلم خواتین میں آنے والی اس سیاسی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔
First published: Jan 20, 2020 09:11 PM IST