ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

17 فیصد آبادی کے باوجود بہار میں اقلیتی سماج میں سیاسی قیادت کا فقدان ، دانشوروں نے بتائی یہ بڑی وجہ

دانشوران کا کہنا ہے کہ سیاست میں ووٹوں کی سب سے زیادہ قیمت ہوتی ہے ، لیکن بہار میں اقلیتوں کی 17 فیصد آبادی ہونے کے باوجود تمام محاذ پر اقلیتی سماج حاشیہ پر کھڑا نظر آتا ہے ۔

  • Share this:
17 فیصد آبادی کے باوجود بہار میں اقلیتی سماج میں سیاسی قیادت کا فقدان ، دانشوروں نے بتائی یہ بڑی وجہ
17 فیصد آبادی کے باوجود بہار میں اقلیتی سماج میں سیاسی قیادت کا فقدان ، دانشوروں نے بتائی یہ بڑی وجہ

بہار میں 17  فیصدی آبادی اقلیتی ووٹروں کی ہے ، لیکن اقلیتی سماج میں سیاسی قیادت کا فقدان ہے۔ سیاسی قیادت کی کمی کے سبب ریاست کے اقلیتوں کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے ہمیشہ الجھتا رہا ہے ۔ ریاست میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں کے سامنے سیاسی قیادت کا سوال کھڑا ہوگیا ہے ۔ وہیں سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج میں دانشور و سماجی کارکنوں نے قائد تلاش کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔


بہار کے مختلف اضلاع میں سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف خواتین کا احتجاج جاری ہے ۔ خود پٹنہ میں آدھا درجن مقامات پر خواتین کا احتجاج چل رہا ہے ۔ یہ تحریک اقلیتوں میں سیاسی قیادت کو بھی پروان چڑھانے کی کوشش کرتی دیکھائی دیتی ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ریاست کا آئندہ اسمبلی انتخاب مسلم نوجوان نسل کے سیاسی سوجھ بوجھ کا امتحان ہے ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں اقلیتوں کی سیاسی قیادت کا راستہ ان تحریکوں سے ہموار ہوسکتا ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگار خورشید ہاشمی کے مطابق بہار میں 60 اسمبلی حلقوں میں مسلمانوں کی آبادی ہی امیدواروں کی جیت کا سبب بنتی ہے ، اس کے باوجود مسلم طبقہ سیاسی طور پر حاشیہ پر ہے ۔ ایسے میں یہ بہت ضروری ہے کہ مسلم نوجوان سیاسی طور پر بیدار ہوں اور سیاسی قیادت سنبھالنے کی کوشش کریں ۔ بھلے ہی ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو ، لیکن اپنی موجودگی کا احساس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


دانشوران کا کہنا ہے کہ سیاست میں ووٹوں کی سب سے زیادہ قیمت ہوتی ہے۔ حکومت ووٹوں کو بنیاد بناکر جہاں فلاحی اسکیموں کو لاگو کرانے کا اعلان کرتی ہے تو وہیں ووٹ کی طاقت حکومت کی پالیسی میں بھی صاف طور سے نظر آتی ہے ، لیکن بہار میں اقلیتوں کی 17 فیصد آبادی ہونے کے باوجود تمام محاذ پر اقلیتی سماج حاشیہ پر کھڑا نظر آتا ہے ۔ یہ بات نوجوان نسل کو بھی ناگورا گزر رہی ہے۔ لالو پرساد ، رابڑی دیوی ، نتیش کمار اور کانگریس پارٹی کی حمایت میں اپنی قوت صرف کرنے والا مسلم سماج اب اپنے بل بوتے اپنی تقدیر بدلنے کا خواب دیکھ رہا ہے ۔ یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہے کہ سیاسی طور پر بیداری مسلمانوں کے بنیادی مسئلہ کو حل کرے گی اور سیاست سے دوری ان کی مشکلات بڑھائے گی ۔


دانشوروں نے اس جانب مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ اردو ادیب ڈاکٹر ابوبکر رضوی کے مطابق سیاسی پارٹیوں میں شامل مسلم رہنما مسلم مسائل پر بات کرنے سے پرہیز کرتے ہیں ، لیکن اب نوجوانوں کی سوچ بدلی ہے اور وہ سیاسی طور پر آگے آئیں گے تو اس کا فائدہ سماج کے ہر طبقہ کو حاصل ہوگا ۔ وہیں سماجی کارکن انوار الہدیٰ کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی بڑی آبادی سماج کے آخری پائدان پر کھڑی ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہے ؟ اس سوال پر اب غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کا اہل علم طبقہ اس بات سے فکرمند ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کے بغیر ایسا لگتا ہے کہ منزل تک پہنچ پانا مشکل ہے ۔ ایسے میں وہ سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی پر ہو رہے احتجاج میں قیادت کررہے لوگوں کو ہی سیاسی قیادت کیلئے تیار ہونے کی اپیل کررہے ہیں ۔ واضح ہے کہ نوجوانوں کا یہ طبقہ سیاست کی رفتار کا بھی حصہ بننے لگے تو ممکن ہے کہ بہار کا سیاسی منظر نامہ اپنا طریقہ بدلنے پر مجبور ہوجائے ۔
First published: Feb 22, 2020 10:48 PM IST