شیلٹر ہوم معاملہ : عصمت دری کی شکار 29 بچیوں میں 6 تھیں حاملہ ، 3 کا ہوا اسقاط حمل

مظفر پور ضلع کے شیلٹر ہوم ریپ معاملے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ جنسی دہشت گردی کے اس بڑے معاملے میں عصمت دری کی شکار نا بالغ29 لڑکیوں میں 6 حاملہ ہو گئی تھیں۔

Jul 27, 2018 03:59 PM IST | Updated on: Jul 27, 2018 04:18 PM IST
شیلٹر ہوم معاملہ : عصمت دری کی شکار 29  بچیوں میں 6 تھیں حاملہ ، 3 کا ہوا اسقاط حمل

مظفر پور میں واقع شیلٹر ہوم

مظفر پور ضلع کے شیلٹر ہوم ریپ معاملے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ جنسی دہشت گردی کے اس بڑے معاملے میں عصمت دری کی شکار نا بالغ29 لڑکیوں میں 6 حاملہ ہو گئی تھیں ۔ ان میں سے 3 کا اسقاط حمل کروایا گیا تھا۔ جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے  درج بیان میں دس سال کی ایک متاثرہ نے کہا کہ سورج کے ڈھلتے ہی شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کے درمیان دہشت پھیل جاتی تھی۔ راتیں دہشت کی طرح گزرتی تھیں۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق میڈیکل جانچ میں ثابت ہوا کہ حاملہ ہوئیں زیادہ تر لڑکیوں کی عمر سات سے 14 سال کے درمیان ہے۔ شیلٹر ہوم کی 42 لڑکیوں کی جانچ میں 29 کے ساتھ ریپ کی تصدیق ہوئی تھی۔ اسپیشل پوکسو کورٹ کے سامنے دئے گئے بیان میں لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں بری طرح پیٹا جاتا تھا۔ بھوکا رکھا جاتا تھا، ڈرگس کے انجیکشن دئے جاتے رہے اور تقریبا ہر رات ریپ کیا جاتا تھا۔

درج بیان میں زیادہ تر متاثرین نے شیلٹر ہوم کے منتظم برجیش ٹھاکر کو ایک رپپسٹ قرار دیا ۔ شیلٹر ہوم چلانے والے این جی او سیوا سنکلپ اینڈ وکاس سمیتی کے مالک ٹھاکر کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ برجیش ٹھاکر کی پہچا ن کرنے والی ایک متاثرہ نے اس کی تصویر پر غصے میں تھوک تک دیا۔ وہیں دس سال کی ایک دوسری متاثرہ نے بتایا کہ نہیں ماننے والی لڑکیوں کو وہ ڈنڈوں سے پیٹتا تھا۔ 14 سال کی ایک متاثرہ نے بتایا کہ برجیش کے شیلٹر ہوم آتے ہی کئی لڑکیاں تو ڈر سے کانپنے لگ جاتی تھیں۔ اسے ہنٹر والا انکل کہا جاتا تھا۔

Loading...

ایک اور متاثرہ  نے بتایا کہ عام طور پر ریپ سے پہلے اسے ڈرگس دیا جاتا تھا۔ ہوش میں آنے پر اس کے پرائیویٹ پارٹ میں زخم اور درد کا سلسلہ چلتا تھا۔ وہاں کام کرنے آنے والی ایک اسٹاف کرن بچیوں کی شکایت کو بار بار نظر انداز کر دیتی تھی۔ وہیں ایک دوسری اسٹاف نیہا کے بارے میں سات سال کی متاثرہ نے بتایا کہ ایسی شکایت کرنے پر وہ بری طرح ٹارچر کرتی تھی۔ ڈنڈوں سے پیٹتی تھی۔ کرن اور نہیا کو اس معاملے میں 10 ملزموں کے ساتھ گرفتارکیا گیا ہے۔

کورٹ کے سامنے سات سال کی ایک اور متاثرہ نے بتایا کہ ریپ کے دوران اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دئے جاتے تھے۔ مخالفت کرنے پر تین دن تک بھوکا رکھا جاتا تھا اور بے رحمی سے مارا جاتا تھا ۔ برجیش ٹھاکر سے معافی مانگنے اور اس کے سامنے سرینڈر کرنے پر ہی کھانا دیا جاتا تھا۔ سات سال کی ہی ایک تقریبا زبان سے معذورمتاثرہ نے بتایا کہ اسے دو دن بھوکا رکھا گیا ۔ دس سال کی ایک متاثرہ نے کہا کہ اس کے پرائیویٹ پارٹ پر زخم کے داغ بن گئے ہیں۔ اس کے ساتھ مسلسل ریپ کے بعد وہ کئی دنوں تک چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہی۔

متاثرین نے بتایا کہ ان کی کئی ساتھیوں کو رات میں شیلٹر ہوم سے باہر لےجایا جا تا تھااور وہ اگلے دن واپس لائی جاتی تھیں۔ باہر لے جائی جانے والی متاثرین تک کو نہیں معلوم کہ انہیں کہاں لے جایا جاتا تھا۔ 11 سال کی ایک متاثرہ نے اپنے ریپسٹ کی پہچان توندوالے انکل کے طور پر کرائی تو دوسری نے اسی مجرم کی پہچان بتاتے ہوئی کہا کہ وہ مونچھ والا بھی تھا۔ متاثرین نے بتایا کہ جب وہ مونچھ اور توند والا وہاں ہوتا تھا تو کسی کو بھی روم میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

اس معاملے میں گرفتار ایک ملزم تحفظ حقوق اطفال کے ضلعی افسرکی اہلیہ نے کہا کہ نتیش سرکار میں سماجی فلاح و بہبود کی وزیر منجو ورما کے شوہر چندریشور ورما کو ہی شیلٹر ہوم کی لڑکیاں نیتا جی کہتی تھیں۔ وہ شیلٹر ہوم میں باقاعدگی سے آتے رہتے تھے۔ وزیر منجو ورما سی ایم نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کی  ایم ایل اے ہیں۔

اس الزام کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن نتیش حکومت پر حملہ آور ہو گیا ہے اور وزیر کے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر منجو ورما نے استعفی دینے سےا نکار کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ پسماندہ ذات سے آتی ہیں اس لئے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Loading...