ہوم » نیوز » وطن نامہ

مرکزی حکومت وقف جائیدادوں کے تحفظ اور ناجائز قابضین کو ہٹانے کیلئے پابند عہد

نئی دہلی : مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت وقف املاک کے تحفظ اور اس کی جائیدادوں پر ناجائز قابضین کو ہٹانے کے لئے عہد کی پابند ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Mar 30, 2016 05:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرکزی حکومت وقف جائیدادوں کے تحفظ اور ناجائز قابضین کو ہٹانے کیلئے پابند عہد
نئی دہلی : مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت وقف املاک کے تحفظ اور اس کی جائیدادوں پر ناجائز قابضین کو ہٹانے کے لئے عہد کی پابند ہے۔

نئی دہلی : مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت وقف املاک کے تحفظ اور اس کی جائیدادوں پر ناجائز قابضین کو ہٹانے کے لئے عہد کی پابند ہے۔ انڈیا اسلاک کلچرل سینٹر میں منعقدہ وقف کانفرنس میں مرکزی وزیر نے سینٹرل وقف کونسل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا مشاورتی اور ریگولیٹری ادارہ ہے ، جس کا کام ریاستی وقف بورڈوں کے کام کاج کی نگرانی کرنا اور پورے ملک میں اوقاف کا معقول انتظام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی ڈبلیو سی کے قیام کا مقصد وقف کے مفادات کے تحٖفظ کے ساتھ ساتھ اوقاف کے معاملات میں شفافیت لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈبلوی سی کی سالانہ کانفرنس ایسا پلیٹ فارم ہے، جس میں اوقات کے تحفظ اور ڈیولپمنٹ کے لئے گزشتہ برس کئے گئے کام کاج اور پیش رفت کا نہ صرف جائزہ لیا جاتا ہے ، بلکہ اسے مزید بہتر بنانے کی غرض سے آئندہ کی حکمت عملی بھی تیار کی جاتی ہے۔

نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ سینٹرل وقف کونسل کا ریاستی وقف بورڈوں پر کافی انحصار ہوتا ہے۔اس لئے اس سالانہ کانفرنس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اوقاف املاک کے تحفظ اور ان کے ڈیولپمنٹ کی پیش رفت کے سلسلے میں ان سے براہ راست بات چیت کی جائے ، تاکہ پورے ملک میں اوقاف کو درپیش مسائل کو سمجھ کر ان کے حل کے لئے اقدامات بھی کئے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ترمیم شدہ وقف ایکٹ 1995 میں اوقاف کے سروے کو پورا کرنے، غیر قانونی قبضوں سے نپٹنے، وقف املاک کو منتقل ہونے سے بچانے، سہ رکنی وقف ٹریبونل کے قیام وغیرہ سے متعلق اہم التزامات ہیں۔ یہ ایکٹ سی ڈبلیو سی کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ہی اسے ریاستی وقف بورڈوں اور ریاستی حکومتوں کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

مرکزی وزیر نے وقف بورڈوں کے چیئرمینوں، چیف ایگزیکٹوافسروں اور بورڈ کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ ووقف ایکٹ کے التزامات کا بغور مطالعہ کرکے اوقاف کی املاک کے تحفظ اور ان کے ڈیولپمنٹ کو یقینی بنائیں تاکہ واقف کے مقصد کو پورا کیا جاسکے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ ان کی وزارت نے کئی موقعوں پر کانفرنسیں اور سیمیناروں کا اہتمام کرکے ریاستی وقف بورڈوں کے عہدیداروں اور ریاستی حکومتوں سے رابطہ قائم کیا۔ اس کے باوجود اس قانون کی بعض شقوں کو یا تو نافذ ہی نہیں کیا گیا ، یا پھر ان کا جزوی طور پر نفاذ عمل میں آیا۔ جن میں وقف جائیدادوں کے سروے، وقف ٹربیونلوں کی تشکیل اور کل وقتی چیف ایگزیکٹو افسروں کی تقرری وغیرہ کے معاملات شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ کچھ ریاستی وقف بورڈوں میں اور بعض ریاستی حکومتوں کی سست روی کی وجہ سے وقف بورڈوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکی۔ مرکزی وزیرنے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ مرکزی حکومت کے زیر کنٹرول چنڈی گڑھ دادر نگر حویلی میں اوقاف کا سروے مکمل نہیں ہوسکا ہے۔
انہی تجربات کی بنیاد پر وقف ایکٹ 1995میں وقف (ترمیمی) ایکٹ 2013کے ذریعے ترمیم کی گئی جو یکم نومبر2013سے نافذالعمل ہوا، اس کے مطابق اوقاف کا سروے ایک سال کے اندر مکمل ہونا چاہئے تھا ، لیکن کسی بھی ریاست میں یہ عمل مکمل نہیں ہوسکا ہے جب کہ آج کی تاریخ تک صرف 18ریاستوں میں سروے کمشنر مقرر کئے گئے ہیں۔
نجمہ نے کہا کہ اسی طرح بیشتر ریاستوں نے اس ایکٹ کے مطابق سہ رکنی وقف ٹریبونل قائم نہیں کیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومتوں کو فیصلے کی تاریخ یعنی 15 دسمبر 2015 سے چار مہینے کے اندر سہ رکنی ٹریبونلس قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک صرف 16 ریاستیں وقف بورڈوں کے تحت صرف 14 وقف ٹریبونلس قائم کئے گئے ہیں۔ صرف ایک صحیح سروے سے ہمیں اوقاف کی املاک کی تعداد، ان کی مالیت اور ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکیں گے جس سے یہ پتہ چل سکے گا کہ اوقات کی وہ املاک ناجائز قبضے سے پاک ہیں یا مقبوضہ ہیں اور یہ کہ ان سے مناسب آمدنی ہورہی ہے یا نہیں اور انہیں ٹھیک طرح سے ڈیولپ کیا گیا ہے یا نہیں۔
ڈاکٹر ہپت اللہ نے کہا کہ وقف ٹریبول کے قیام میں تاخیر سے اوقاف کے انتظام پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس لئے ریاستی حکومتوں اور ریاستی وقف بورڈوں کو باہمی تال میل اور ہم آہنگی قائم کرکے اوقاف کی املاک کے تحفظ اور قبضوں سے پاک کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

First published: Mar 30, 2016 05:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading