ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے 10 افراد کو ناندیڑ کی عدالت نے رہائی کا حکم دیا

پولیس کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں لگائے گئے سبھی الزامات کو دفاعی وکیلوں نے مدلل انداز میں غلط ثابت کیا، جس کی وجہ سے عدالت نے انہیں دو معاملات میں ڈسچارج کردیا اور ایک معاملے میں جرمانہ عائدکرکے رہائی کا حکم دیا ہے۔

  • Share this:
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے 10 افراد کو ناندیڑ کی عدالت نے رہائی کا حکم دیا
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے 10 افراد کو ناندیڑ کی عدالت نے رہائی کا حکم دیا

ناندیڑ : تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے انڈونیشیا کے 10 افراد پر مشتمل جماعت کے خلاف ناندیڑ کی سیشن کورٹ نے ڈسچارج کا فیصلہ دیا تھا، اس کےخلاف حکومت کی جانب سے داخل کی گئی ریویو پٹیشن کو عدالت خارج کرتے ہوئے تمام افراد کو بری کر دیا ہے۔ باعزت بری ہونے پر انڈونیشیا کی جماعت کے سبھی افراد ناندیڑ سے ممبئی قونصلیٹ کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے ان افراد پر حکومت نے مبینہ طور پرکورونا وائرس کو پھیلانے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور فارنر ویزا ایکٹ کی خلاف سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔


پولیس کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں لگائے گئے سبھی الزامات کو دفاعی وکیلوں نے مدلل انداز میں غلط ثابت کیا، جس کی وجہ سے عدالت نے انہیں دو معاملات میں ڈسچارج کردیا اور ایک معاملے میں جرمانہ عائدکرکے رہائی کا حکم دیا ہے۔ رہائی کا حکم ملنے کے بعد 15 جون کی رات ایک بجے سبھی انڈونیشیا کے افراد کو پولیس کی سیکورٹی میں ناندیڑ سے ممبئی انڈونیشیا کے قونصلیٹ دفتر بھیجا گیا ہے۔


باعزت بری ہونے پر انڈونیشیا کی جماعت کے سبھی افراد ناندیڑ سے ممبئی قونصلیٹ کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں۔
باعزت بری ہونے پر انڈونیشیا کی جماعت کے سبھی افراد ناندیڑ سے ممبئی قونصلیٹ کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں۔


تبلیغی جماعت کے افراد کے خلاف لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہونے اور انہیں رہائی ملنے پر دفاعی وکیلوں کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کی گئی اور اس مقدمہ تمام تفصیلات سے میڈیا نمائندوں کو واقف کروایا گیا۔ ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی نے حکومت کی جانب سے ناندیڑ میں آئی ہوئی انڈونیشیا کی جماعت پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے مبینہ طور پرکورونا مرض کو پھیلانے کی کوشش کی۔ حالانکہ انڈونیشیا کی جماعت کے تمام 10 افراد کو دو مرتبہ کوارنٹائن میں رکھا گیا ان کی کورونا جانچ کی گئی دونوں مرتبہ ان کی کورونا جانچ رپورٹ منفی آئی، جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ کورونا پھیلانے کا لگایا گیا الزام بے بنیاد ہے۔ ایک صحت مند آدمی بھلا بیماری کیسے پھیلا سکتا ہے، جیسے ہی بات ثابت ہوئی عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کردیا۔

دوسرا الزام ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں لگایا گیا تھا، اس معاملے میں بھی تمام دستاویزات یہ بتارہے تھے کہ انڈونیشیا کے جماعتی افراد نے کوئی خلاف وزری نہیں کی۔ مقررہ قوانین کے تحت باضابطہ ٹورسٹ ویزا حاصل کیا گیا اور یہ لوگ ہندوستان پہنچے۔ ناندیڑ میں بھی جب یہ لوگ آئے تو انہوں نے قوانین کے مطابق پولیس کو اس کی اطلاع دی، جس کی وجہ سے عدالت میں یہ بھی الزام ان پر ثابت نہی ہوسکا اور عدالت نے انہیں اس معاملے میں بھی بری کردیا۔ تیسرا الزام لاک ڈاؤن کے دوران نافذ کی گئی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے بارے میں تھا۔ اس الزام کو تسلیم کرلیا گیا، جس کیلئے انہیں 500 روپئے فی کس کے حساب سے جرمانہ عائد کیا گیا اور ان کی رہائی کا حکم دیا۔

رہائی کا حکم ملنے کے بعد 15 جون کی رات ایک بجے سبھی انڈونیشیا کے افراد کو پولیس کی سیکورٹی میں ناندیڑ سے ممبئی انڈونیشیا کے قونصلیٹ دفتر بھیجا گیا ہے۔
رہائی کا حکم ملنے کے بعد 15 جون کی رات ایک بجے سبھی انڈونیشیا کے افراد کو پولیس کی سیکورٹی میں ناندیڑ سے ممبئی انڈونیشیا کے قونصلیٹ دفتر بھیجا گیا ہے۔


ناندیڑ کے سیشن کورٹ سے رہائی کا حکم ملنے پر پولیس نے پھر انہیں زیرالتوا رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ضلع ایس پی وجے کمار نے راتوں رات ایک لیٹر جاری کیا اور ان کی رہائی کے عدالت کے فیصلہ کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کی۔ اس ریویو پٹیشن کو بھی عدالت نےخارج کردیا اور انہیں پولیس کی نگرانی میں ممبئی قونصلیٹ بھیجنے کا حکم دیا۔ ناندیڑ کے سیشن کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر ملک کی دیگر ریاستوں میں تبلیغی جماعت کے افراد کے خلاف درج کئے گئے مقدمات میں رہنمائی حاصل کی جارہی ہے اور جماعت پر لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ناندیڑ میں انڈونیشیا کی جماعت کے مقدمہ کی کامیاب پیروی کرنے والوں میں ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی، ایڈوکیٹ عقیل، ایڈوکیٹ اریب الدین، ایڈوکیٹ معین الدین، ایڈوکیٹ طلحہ اور دیگر افراد نے اہم رول کیا۔

پریس کانفرنس میں تبلیغی جماعت کے مقامی ذمہ داران بھی موجود تھے۔ مولانا سعد عبداللہ ندوی نے عدالت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ تبلیغی جماعت ہمیشہ سے ہی لوگوں کی اصلاح کا کام کرتے آرہی ہے۔گودی میڈیا نے کورونا وائرس کے ان حالات میں تبلیغی جماعت پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے اور ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی، لیکن عدالت سے آخر کار انصاف ملا اور تین مہینہ سے جاری قانونی لڑائی میں آخر کار کامیابی ملی۔ اس قانونی لڑائی میں ناندیڑ کے مسلمانوں نے بھی متحد ہونے کا بہترین ثبوت دیا ہے۔ اس معاملے میں سبھی مسلک کے علماء اور عام لوگ متحد رہے اور ان کی یہ کوشش رہی کہ انڈونیشیا کے تبلیغی جماعت کے ساتھی صحیح سلامت اپنے وطن لوٹ جائیں اور انہیں کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لاک ڈاؤن کے تین مہینہ یہ تمام ساتھی ناندیڑ میں ہی مقیم رہے۔ یہاں ان کی اچھے سے نگرانی کی گئی اور ان کی طرح سے مدد کی گئی۔
First published: Jun 16, 2020 09:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading