உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسانوں کو وزیر اعظم مودی کا پیغام: نئے قوانین کسی کو مجبور نہیں کرتے، یہ بالکل متبادل ہیں

    کسانوں کو وزیر اعظم مودی کا پیغام: نئے قوانین کسی کو مجبور نہیں کرتے، یہ بالکل متبادل ہیں

    کسانوں کو وزیر اعظم مودی کا پیغام: نئے قوانین کسی کو مجبور نہیں کرتے، یہ بالکل متبادل ہیں

    صدر جمہوریہ کے خطاب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نےکہا کہ نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کسی کے لئے بھی رکاوٹ نہیں ہیں، سبھی کے لئے متبادل انتظامات موجود ہے۔ یعنی جو چاہے اسے چنے اور جو نہ چاہے وہ دور ہٹ سکتا ہے۔ ہم نے پرانی منڈیوں کو بھی بنائے رکھا ہے۔ 

    • Share this:
      نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نے لوک سبھا میں ایک بار پھر کسانوں کو پیغام (Message to Farmers) دیا ہے۔ صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کسی کے لئے بھی رکاوٹ نہیں ہیں، سبھی کے لئے متبادل سہولت موجود ہے۔ یعنی جو چاہے، اسے منتخب کرے، جو چاہے وہ دور ہٹ سکتا ہے۔ ہم نے پرانی منڈیوں کو بھی بنائے رکھا ہے۔ اس بجٹ میں منڈیوں کو جدید بنانے کے لئے اور بجٹ کا نظم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسلسل کم از کم سپورٹ قیمت کو بڑھایا ہے۔

      کھیتی کو جدید بنائے بغیر بھلا نہیں ہوگا

      وزیر اعظم نریندر مودی نے زرعی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا، ’جب تک ہم کھیتی کو جدید نہیں بنائیں گے، تب تک ہم ایگریکلچر سیکٹر کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔ ہمارا کسان صرف گیہوں کی کسانی تک محدود رہے، یہ بھی ٹھیک بات نہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ دنیا میں کس طرح سے کام کیا جا رہا ہے۔ ایک وقت ہریانہ کا ایک کسان مجھے اپنے کھیت میں لے گیا۔ چھوٹی زمین تھی اس کے پاس، انہوں نے مجھے دکھایا کہ وہ دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹلس کی ضرورت والی سبزی پیدا کرتے تھے۔ انہیں اچھا فائدہ ہوتا تھا، یہ 40-30 سال پہلے کی بات ہے، یہ کمال کی بات تھی۔

      کانگریس پر ظاہر کی ناراضگی

      وزیر اعظم مودی نے کہا، ’ایسی چیزوں کی شروع میں مخالفت ہوتی ہے، لیکن جب سچ پہنچتا ہے تو لوگوں کو بات سمجھ میں آتی ہے۔ ہندوستان تغیرات کا ملک ہے، ہر فیصلے سے کسی نہ کسی کو پریشانی ہوتی ہے، لیکن ہم زیادہ لوگوں کے فائدے کو دیکھ کر فیصلے لیتے ہیں’۔

      کانگریس کے اراکین کے ایوان سے واک آوٹ کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا، ’ہم یہ مانتے تھے کہ ہندوستان کی بہت پرانی پارٹی کانگریس جس نے 6 دہائی تک یکطرفہ راج کیا، اس کا حال ایسا ہوگیا ہے کہ پارٹی کا راجیہ سبھا میں الگ رخ ہوتا ہے اور لوک سبھا میں الگ’۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: