ہوم » نیوز » وطن نامہ

نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں دعوت کے ذریعہ چین - پاکستان کےلئے ہے یہ سخت پیغام

اسٹریٹجی کے مطابق بمسٹیک کی ترقی ہندوستان کے لئے ایک جیت ہے، ترقی کے پتھ پرتمل ناڈو، آندھرا پردیش، اوڈیشہ اورمغربی بنگال جیسی ریاستوں کا تھائی لینڈ اورمیانمارجیسے ممالک سے راست تعلقات ہوسکتا ہے۔ 

  • Share this:
نریندرمودی کی حلف برداری تقریب میں دعوت کے ذریعہ چین - پاکستان کےلئے ہے یہ سخت پیغام
وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان اورچین کو دیا سخت پیغام۔

نریندرمودی نے جب سال 2014 میں پہلی باروزیراعظم عہدہ کا حلف لیا تھا، تب انہوں نے سارک ممالک کے صدورکومدعو کیا تھا۔ اس دوران پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف بھی حلف برداری تقریب میں موجود تھے۔ اس وقت دنیا میں ہندوستان اورپاکستان کے درمیان نئی چرچا ہونے کی بات کہی جانے لگی تھی۔


اس بارنریندرمودی دوسری باروزیراعظم عہدے کا حلف لیں گے۔ اس بارحلف برداری تقریب میں سارک ممالک کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بمسٹیک ممالک  یعنی نیپال، بھوٹان، میانمار، سری لنکا اورتھائی لینڈ کے صدورکومدعوکیا گیا ہے۔ اس بارحلف برداری تقریب کےلئے بھیجےگئے دعوت نامے میں پاکستان کے لئے سخت پیغام ہے۔


گزشتہ تین سال کی مدت کے دوران نریندرمودی نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی سطح پرہندوستان اورپاکستان کی کوئی بات چیت نہ ہو۔ سال 2016 میں اڑی حملے کے بعد ہندوستان نے سارک  کی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا اوربمسٹیک کومضبوط حمایت دی۔ یہ اس لئے دلچسپ ہے کیونکہ گزشتہ 20 سالوں سے بمسٹیک غیرفعال ہے۔ سال 1997 میں بنے  بمسٹیک کا مقصد تھا کہ ہردو سال پراس کی میٹنگ ہوگی۔ حالانکہ سال 2018 تک اس کی صرف تین میٹینگیں ہوسکی تھیں۔


یہ ہے ہندوستان کی حکمت عملی

سال 2018 میں ہوئی بمسٹیک ممالک کی میٹنگ کی تصویر: فائل فوٹو
سال 2018 میں ہوئی بمسٹیک ممالک کی میٹنگ کی تصویر: فائل فوٹو


دراصل بمسٹیک کو ہندوستان کی طرف سے مل رہی مضبوط حمایت سے سارک ممالک، بنگلہ دیش، بھوٹان، افغانستان اورسری لنکا بھی پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں شامل رہے ہیں۔ نام نہ شائع کرنے کی شرط پرایک سابق سفارتکارنےکہا کہ بمسٹیک کوبڑھاوا دینا اور سارک کوپوری طرح سے نظراندازکرنے کی مودی حکومت کی پالیسی حیران کن نہیں ہے۔ پاکستان کو چھوڑکراس میں تمام ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایک واضح پیغام یہ بھی گیا کہ اپنی ترقی کے لئے ہندوستان سارک کے ذریعہ بات چیت کے بجائے بمسٹیک ایک اچھا انتخاب ہے۔

سال 2018 میں ہوئی  بمسٹیک میٹنگ کی تصویر۔ فائل فوٹو
سال 2018 میں ہوئی بمسٹیک میٹنگ کی تصویر۔ فائل فوٹو


بمسٹیک میں تین سارک ممالک پاکستان، مالدیپ اورافغانستان شامل نہیں ہیں۔ ان تین میں سے ہندوستان کے افغانستان سے مضبوط رشتے ہیں۔ وہ بھی دہشت گردی کے ذریعہ پاکستان کے پراکسی جنگ کا شکارہے۔ مانا جارہا ہے کہ دوسری بارحلف لینےکے بعد نریندرمودی، پہلا سفرمالدیپ کا کریں گے۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ ہندوستان مالدیپ کے موجودہ صدر ابراہیم صالح کے ساتھ اچھےرشتوں کے حق میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بمسٹیک پوری طرح سے سارک کی جگہ لے سکتا ہے۔ مودی حکومت کے دوران ہندوستان نے یہ پوری طرح سے یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کو الگ تھلگ کردیا جائے۔
First published: May 28, 2019 07:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading