نصیرالدین شاہ نے سڑک حادثے کے شکارافراد کی امداد کی طرف پیش قدمی کردی ہے! آپ کب کریں گے؟

اپنی انسانیت اوراندرچھپے ہیرو کو باہر لائیں اور حادثے کے شکار لوگوں کی مدد کریں اور حادثے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد کم کریں۔

Jun 14, 2019 04:08 PM IST | Updated on: Jun 14, 2019 04:22 PM IST
نصیرالدین شاہ نے سڑک حادثے کے شکارافراد کی امداد کی طرف پیش قدمی کردی ہے! آپ کب کریں گے؟

اداکارو ہدایت کارنصیرالدین شاہ۔(تصویر:فائل)۔

دنیا تیزی سے ارتقائی مراحل طے کررہی ہے۔ زندگی کی تمام شعبوں میں بڑے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاہم، انسان اسی رفتار کے ساتھ اپنے بنیادی اقدار اور انسانیت گنواتا جا رہا ہے۔ جب ہم کوئی سڑک حادثہ دیکھتے ہیں اور بے یار و مددگار یا حادثے کے شکار لوگوں کے تئیں ہمارا جو رد عمل ہوتا ہے، وہ ہماری بے حسی کو زیادہ واضح طور پر پیش کرتا ہے۔

آس پاس کھڑے بیشتر لوگ بے حس کھڑے متجسس زیادہ اور تشویش میں مبتلا کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے بھی بدتر لوگ وہ ہوتے ہیں جو حادثہ دیکھتے ہی فوری طور پر اپنے اسمارٹ فونز نکال لیتے ہیں تاکہ وہ اس ہولناک حادثے کی تصاویر کیپچر کر کے اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر سکیں۔ ایمبولینس کو حادثے کی اطلاع دینے یا زخمی کو ابتدائی طبی تدبیر فراہم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔

کسی سڑک حادثے کے ابتدائی 60 منٹوں میں کوئی زندگی بچانے کے بہترین طریقے کیا ہیں، اس تعلق سے لوگوں کو معلومات فراہم کر کے اس صورتحال کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس ملک کے بہترین اداکاروں اور ہدایتکاروں میں سے ایک نصیرالدین شاہ نے اس سلسلے میں اپنی آواز بلند کی ہے اور اس پیش قدمی کیلئے اپنا تعاون پیش کیا ہے۔ ہندوستان میں ہر گھنٹے میں تقریباً 18 لوگ سڑک حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔ نصیرالدین شاہ کا اصرار ہے کہ عوام ان حادثات کے تئیں زیادہ ہمدردی دکھائیں اور گولڈن آور (سنہرہ گھنٹہ) میں کوئی زندگی بچائیں۔

گولڈن آور (سنہرہ گھنٹہ)

Loading...

جاننے والی اہم ترین بات یہ ہے کہ ۔ اگر حادثے کے شکار شخص کو درست طبی امداد پہنچائی جائے اور اسے یہ امداد گولڈن آور کہے جانے والے حادثے کے ابتدائی ایک گھنٹے میں پہنچائی جائے، تو اس کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

سڑک حادثہ دیکھنے والے اولین لوگوں کی جانب سے حادثے کے ابتدائی چند اہم منٹوں میں نہ صرف یہ کہ حادثے کے شکار شخص کی زندگی بچائی جا سکتی ہے بلکہ انہیں لگنے والی چوٹ کی شدت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

لوگ حادثے کے شکار لوگوں کی مدد کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟

• ایمبولینس کے آنے تک انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ حادثے کے شکار شخص کو بچانے کیلئے کس طریقہ کار پر عمل کرنا چاہئے۔ آیا حادثے کے شکار شخص کو اس کی جگہ سے ہٹایا جائے یا اس کے جسم کو مزید نقصان پہنچائے بغیر کیسے اٹھایا جائے، اس قسم کی چیزیں اطراف میں کھڑے لوگ گھبرا جاتے ہیں کیونکہ وہ ایمرجینسی ماہرین نہیں ہوتے

• پولیس کیس میں پھنسنے کا خوف اور اس کے بعد اسپتال اور پولیس اسٹیشن کے لا تعداد چکر

• پولیس کی کارروائی اور ذاتی کام اور کام کے دیگر پابندیوں کی قیمت پر وقت کا غیر ضروری ضائع۔ اس کے برخلاف، دہلی میں، حکومت حادثے کے شکار کسی شخص کی مدد کرنے ولے کو 2000 روپئے کا انعام اور اعزاز دیتی ہے

• پولیس کی تفتیش کا سامنا اور رپورٹس فائل کرنا اور عینی شاہد کے بیانات

• حادثے کے بعد ہونے والے مقدمے میں قانونی پریشانیوں میں ملوث ہونے کا خوف

کسی سڑک حادثے میں پہلے ساٹھ منٹ میں زندگی کیسے بچائی جائے

• ایمبولینس کو کال کرنے کیلئے 108 ڈائل کریں

• اگر حادثہ سڑک کی حدود میں ہوا ہو، تو اس کے بعد 100 نمبر ڈائل کر کے پولس کو مطلع کریں

• 1033 ڈائل کریں۔ نیشنل ہائیویز پر ہونے والے حادثے یا دیگر ایمرجینسیوں کی صورت میں، نیشنل ہائیویز اتھارٹی آف انڈیا () کے پاس عوام کیلئے ایک24x7منفرد ٹول فری ہیلپ لائن نمبر “1033” ہے۔ اس نمبر پر کال کریں اور مدد کا انتظار کریں https://ihmcl.com/24x7-national-highways-helpline-1033

• حادثے کا شکار شخص کے موبائل فون میں موجود رابطے کی فہرست میں تلاش کر کے اس کے گھر والوں کو فون کریں اور حادثے کی اطلاع دیں۔ ایمرجینسی کی صورت میں (ICE) رابطہ نمبرز فون کی ہوم اسکرین پر دکھائی دیتے ہیں، چاہے فون نمبر لاک ہی کیوں نہ ہو

• حادثے کا شکار شخص کے اطراف موجود بھیڑ کو خاموش کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں تاکہ متاثرہ شخص تک ہوا کا جھونکا اور آکسیجن پہنچ سکے

• پاس کھڑے کچھ لوگوں کو جائے حادثہ کے اطراف گاڑی رکنے سے منع کرنے کو کہیں اور سڑک پر مزید ٹریفک جام نہ ہو

• یہ یقینی بنائیں کہ سڑک کی دائیں لین ٹریفک سے پاک ہو تاکہ وہاں تک ایمبولینس کو تیزی سے پہنچنے کی سہولت دی جائے۔ وہاں سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کو بائیں لین سے جانے کی ہدایت دیں اور ان سے کہیں کہ وہ گاڑی دھیمی نہ کریں

• اگر متاثرہ شخص نے ہیلمیٹ پہن رکھا ہے، تو سر کو جھٹکائے بغیر آہستہ سے ہیلمیٹ کی پٹیاں کھولیں یا اسے پورا نکال دیں

• متاثرہ شخص کی گردن، سینے اور کمر پر موجود کپڑے ڈھیلے کریں۔ صرف اسی صورت میں فرسٹ ایڈ دیں جب آپ یہ دینا جانتے ہوں۔ ورنہ، بہتر ہے کہ پیرامیڈکس یا دیگر پیشہ وران کی مدد پہنچنے تک انتظار کریں

• اگر متاثرہ شخص کی چوٹ سے خون بہہ رہا ہو، تو یہ چیک کریں کہ کہیں اس کے زخم سے کوئی چیز لپٹی ہوئی نہ ہو۔ اسے نہ نکالیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ خون کی نالیوں اور اعصاب کو مزید نقصان پہنچائے اور خون زیادہ بہنے لگے

• اس زخم پر صاف کپڑا باندھ کر خون بہنا بند کرنے کی کوشش کریں

• اگر اعضاء سے خون بہہ رہا ہو، تو خون بہنا بند کرنے کیلئے اعضاء کو اوپر کی طرف اٹھائیں

• اگر متاثرہ شخص کے منہ سے خون بہہ رہا ہے یا وہ قے کر رہا ہے، تو اسے ایک رخ پر موڑ دیں تاکہ اسے سانس لینے میں تکلیف نہ ہو

• زخم کے دونوں طرف ہلکا سے دبائیں اور زخم کو بند کرنے کیلئے اس کے دونوں طرف سے جلد بند کرنے کیلئے اسے دبائیں۔ اس سے خون بہنا کم ہو جائے گا اور عین ممکن ہے متاثرہ شخص خون بہنے سے فوت نہ ہو

• اگر وہ شخص بری طرح زخمی ہے، اور مدد دستیاب نہیں ہے یا اس کی آمد میں تاخیر ہے، تو اسے قریب ترین اسپتال لے جائیں تاکہ گولڈر آور میں اس کا علاج کیا جا سکے اور اسے صحیح ماحول میں مستحکم کیا جا سکے۔

نتیجہ

خوف اور بے حسی کو ایک ذمہ دار شہری اور ایک اچھا انسان بننے کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووِند نے 2016 میں ایک Good Samaritan Bill پیش کیا تھا اور سپریم کورٹ نے ایک Good Samaritan قانون پاس کیا تھا۔ یہ قانون شہریوں کو سڑک حادثے کا شکار ہونے والے افراد کی مدد کرنے کے دوران قانونی پیچیدگیوں اور پریشانیوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اپنی انسانیت اور اندر چھپے ہیرو کو باہر لائیں ارو حادثے کے شکار لوگوں کی مدد کریں اور حادثے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد کم کریں۔

اس پیش قدمی کا تعاون Network18 اور Diageo کررہا ہے۔ آگاہی کیلئے یہ ویڈیو دیکھیں اور معاشرے میں تبدیلی کی لہر پیدا کرنے کیلئےسعی کریں۔

Loading...