உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی کارڈ سے اٹھا تھا ’لوجہاد‘ کا موضوع، ناسک کے جوڑے نے آخر کار کرلی شادی

    شادی کارڈ سے اٹھا تھا ’لوجہاد‘ کا موضوع، ناسک کے جوڑے نے آخر کار کرلی شادی

    شادی کارڈ سے اٹھا تھا ’لوجہاد‘ کا موضوع، ناسک کے جوڑے نے آخر کار کرلی شادی

    Nashik Couple Ties Knot: رسیکا اڈگاونکر اور آصف خان جمعرات کو ناسک کے ایک ہوٹل میں دونوں مذاہب کے رسم ورواج کے مطابق، شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

    • Share this:
      ناسک: تقریباً دو ہفتے قبل ناسک میں ایک شادی کو لے کر سوشل میڈیا پر جم کر ہنگامہ مچا تھا۔ لوگوں نے یہ کہتے ہوئے شادی کی مخالفت کی تھی کہ یہ ’لو جہاد (Love Jihad)‘ کا معاملہ ہے۔ لہٰذا اہل خانہ کو آخری وقت تک اس شادی کو ملتوی کرنا پڑا تھا۔ حالانکہ اب اس جوڑے کی شادی (Nashik Couple Ties Knot) ہوگئی ہے۔ جمعرات کو 28 سال کی ہندو لڑکی کی شادی ایک مسلم لڑکے سے ہوئی۔ فیملی کا کہنا ہے کہ شروعات میں وہ اس شادی کو لے کر ڈر گئے تھے، لیکن کئی لوگوں کی حمایت کے بعد انہوں نے شادی کروانے کا فیصلہ کیا۔

      انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، رسیکا اڈگاونکر اور آصف خان جمعرات کو ناسک کے ایک ہوٹل میں دونوں مذاہب کے رسم ورواج کے مطابق، شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ پہلے یہ شادی 18 جولائی کو ہونی تھی۔ لڑکی کے والد پرساد اڈگاونکر نے کہا، ’پہلے بہت منفی سوچ اور نفرت تھی، لیکن جب لوگوں کو سچائی کا پتہ چلا، تو ہمیں بہت حمایت ملی۔ یہ لوجہاد یا جبراً مذہب تبدیلی کا معاملہ نہیں تھا‘۔

       انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، رسیکا اڈگاونکر اور آصف خان جمعرات کو ناسک کے ایک ہوٹل میں دونوں مذاہب کے رسم ورواج کے مطابق، شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

      انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، رسیکا اڈگاونکر اور آصف خان جمعرات کو ناسک کے ایک ہوٹل میں دونوں مذاہب کے رسم ورواج کے مطابق، شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔


      سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا کارڈ

      واضح رہے کہ جیسے ہی شادی کے کارڈ چھپے یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ لوگوں نے اسے کئی واٹس اپ گروپ پر شیئر کیا۔ اس شادی کو لو جہاد کا نام دیا گیا۔ حالت یہ ہوگئی کہ لڑکی کے اہل خانہ کو لوگوں نے فون کرنا شروع کردیا۔ لوگوں نے اس شادی کو فوراً ختم کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ اہل خانہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر کیا کیا جائے۔ مخالفت کے بعد دلہن کے والد،  پرساد اڈگاونکر نے دباو میں شادی منسوخ کردی تھی۔

      گھر والوں کو ملی حمایت

      آخر کار میڈیا کے ذریعہ اس موضوع کو اجاگر کرنے کے بعد کئی لوگ فیملی کی حمایت میں آگے آئے۔ فیملی نے کہا، ریاستی وزیر بچو کڑو سمیت کئی سماجی تنظیموں اور سیاسی لیڈروں نے جوڑے کو حمایت دی، جس کے بعد رسیکا  اڈگاونکر اور آصف خان نے آخر کار ایک ہوٹل میں شادی کرلی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: