உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناصر پر عائد سبھی الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ، اس کو زبردستی پھنسایا جارہاہے : بھائی سالم چاؤش

    ناصر کے والد اور بھائی کا کہنا ہے کہ ناصر پر اے ٹی ایس کی جانب سے لگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ناصر بے گناہ ہے اور کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث نہیں ہے

    ناصر کے والد اور بھائی کا کہنا ہے کہ ناصر پر اے ٹی ایس کی جانب سے لگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ناصر بے گناہ ہے اور کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث نہیں ہے

    ناصر کے والد اور بھائی کا کہنا ہے کہ ناصر پر اے ٹی ایس کی جانب سے لگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ناصر بے گناہ ہے اور کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث نہیں ہے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      ناندیڑ :خونخوار دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ تعلقات کے الزام میں پربھنی سے اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتار کئے گئے ناصر یافعی کو ایک ہفتہ کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے ۔ وہیں دوسری طرف ناصر کے بھائی کا کہنا ہے کہ ناصر پرلگائے جارہے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، اس کو زبردستی پھنسایا جارہاہے ۔ اس معاملے میں ای ٹی وی کی ٹیم نے ناصر یافعی کے والد اور اس کے بھائی سے ملاقات کر ناصر کی گرفتاری پر گفتگو کی۔
      ناصر کی گرفتاری سے اس کے رشتہ داروں کو زبردست صدمہ پہنچا ہے ۔ ناصر کے والد اور بھائی کا کہنا ہے کہ ناصر پر اے ٹی ایس کی جانب سے لگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ناصر بے گناہ ہے اور کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث نہیں ہے۔
      خیال رہے کہ اے ٹی ایس نے ناصر پر الزام لگایا ہے کہ اس نے حال ہی میں اپنا پاسپورٹ رینیوول کرایا ہے اور وہ عنقریب داعش میں شامل ہونے کے لئے ملک شام جانا چاہتا تھا ۔ اسی طرح اس پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بم سازی کا منصوبہ بنارہا تھا ۔ اس کے گھر سے پائے جانے والی مختلف اشیاء کو بم سازی کے سامان کے طور پر بتایا جارہا ہے ۔
      ان سب باتوں کو ناصر کے بھائی سالم چاؤش نے خارج کردیااور اس پورے معاملے میں ناصر کے ساتھ سازش ہونے کی بات کی ۔ ناصر کے خلاف ہورہی جانچ میں شفافیت سے کام لینے کا بھی انہوں نے مطالبہ کیا ۔ناصر کے والدین اس معاملہ میں عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ عدالت سے اس معاملہ میں انصاف ملے گا۔
      First published: