உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمان کیس جیت بھی گئے تو کیا 100 کروڑ ہندو مسجد بننے دیں گے؟ جانیں یہاں

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین سید غیورالحسن رضوی کے ایک حالیہ بیان کے بعد اس بحث میں ایک نیا اور دلچسپ موڑ آگیا ہے

    • Share this:
      اجودھیا میں رام مندر- بابری مسجد تنازعہ ایک مربتہ پھر خبروں میں ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین سید غیورالحسن رضوی کے ایک حالیہ بیان کے بعد اس بحث میں ایک نیا اور دلچسپ موڑ آگیا ہے۔ دراصل حسن نے کہا ہے، ’’ مندر- مسجد تنازعہ کے سبب ملک کے مسلمان پریشان اور ڈرے ہوئے ہیں، لیکن سنی وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ اس بات کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ مان لیجیئے اگر مسلمان عدالت میں کیس جیت بھی جاتے ہیں تو کیا 100 کروڑ ہندو بابری مسجد بننے دیں گے؟‘‘۔

      حسن رضوی نے تاہم اجودھیا کے تازہ حالات پر آج کچھ بھی بولنے سے انکار کر دیا۔ حسن نے نیوز 18 ہندی سے ہوئی خاص بات چیت میں کہا، ’’ اقلیتی کمیشن کے پاس شکایتیں آتی ہیں کہ کہیں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ے تو کہیں مزارات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ گروگرام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ گاوں- دیہات میں بھی مسلمان مندر - مسجد تنازعہ کے سبب پریشان ہو رہا ہے۔

      حسن کہتے ہیں، ’’ ایسے میں رام مندر- بابری مسجد تنازعہ کو ختم کرنے کا راستہ یہی ہے کہ عدالت کے باہر ہندو مسلمان بیٹھ کر بات کریں اور مندر بننے کی اجازت دے دی جائے۔ اسی میں سب کی بہتری ہے۔اور یہی اس تنازعہ کا حل ہے۔ اس معاملہ سے متعلق ملک کی متعدد نتظیموں نے ہم سے مل کر بات بھی کی ہے اور ای میل بھی کئے ہیں۔

      بی جے پی نے نہیں ’شیو سینا‘ نے گرایا تھا بابری مسجد کا ڈھانچہ: اعظم خان
       ناصرحسین کی رپورٹ

       
      First published: