نیشنل کانفرنس کا مشورہ، 'ملک میں بننےوالی نئی حکومت کوپاکستان کےساتھ کرنی چاہئے مذاکرات'۔

ہندوستان اورپاکستان کومذاکرات کی میزپرآکرتمام حل طلب معاملات پربات چیت کرنی چاہئےاوراُن تمام معاملات پراپنا اپنا نقطہ نظررکھنا چاہئے۔

May 20, 2019 10:25 PM IST | Updated on: May 20, 2019 10:28 PM IST
نیشنل کانفرنس کا مشورہ، 'ملک میں بننےوالی نئی حکومت کوپاکستان کےساتھ کرنی چاہئے مذاکرات'۔

سری نگر: ہندوستان اورپاکستان کومذاکرات کی میزپرآکرتمام حل طلب معاملات پربات چیت کرنی چاہئےاوراُن تمام معاملات پراپنا اپنا نقطہ نظررکھنا چاہئے، جودونوں ممالک کے رشتوں کونقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہارنیشنل کانفرنس کےلیڈرتنویرصادق نے پیر کے روزجرمن سفارتخانے میں سکریٹری سیاسی اموروپروٹوکال باسٹین ویبراورسیاسی صلح کارساکشی اروڑہ پرمشتمل سفارتکاروں کے وفد کےساتھ تبادلہ خیالات کرتےہوئے کیا۔

تنویرصادق نے سفارتکاروں کے ساتھ ریاست اورخطےسےجڑے معاملات پربات کی اوراس بات پرزوردیا کہ ہندوستان اورپاکستان کوامن عمل کوپروان چڑھانےکےلئے رابطے میں رہنا چاہئےاورجامع مذاکراتی عمل کےساتھ ساتھ اعتماد سازی کےاقدامات اٹھانےچاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پُراُمید ہیں کہ ملک میں بننےوالی نئی حکومت پاکستان کےساتھ مذاکراتی عمل شروع کرے گی۔

تنویرصادق نےکہا کہ دونوں ممالک کورشتوں میں استواری لانےکےلئےآگےآنا چاہئے کیونکہ آپسی چپقلش کی وجہ سے بہت زیادہ انسانی جانوں کا زیاں ہورہا ہے۔ نیشنل کانفرنس دونوں ممالک کےدرمیان ہمیشہ دوستی کی وکالت کرتی آئی ہےکیونکہ نئی دلی اوراسلام آباد کےدرمیان اچھے تعلقات کا سب سے زیادہ فائدہ جموں وکشمیرکےعوام کوہی ملتا ہے۔

مسئلہ کشمیرکےحل کے بارے میں بات کرتےہوئےتنویرصادق نےکہا کہ نیشنل کانفرنس کے قریب اٹانومی ایک بہترین حل ہےاورہمارا یہ موقف بھی ہے، اگراس سےاچھا حل بھی کسی کے پاس ہے، جوتینوں خطوں کےعوام کےساتھ ساتھ ہندوستان اورپاکستان کوبھی منظورہوگا، ہم اُسےقبول کریں گے۔ انہوں نےکہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کی اٹانومی کی بحالی کیلئے وعدہ بند ہے۔ اس کےعلاوہ انہوں نے وفد کونیشنل کانفرنس کےتاریخ سازاقدامات کی بھی جانکاری دی۔

Loading...

Loading...